خبرگزاری شبستان

سه شنبه ۲۶ شهریور ۱۳۹۸

الثلاثاء ١٨ المحرّم ١٤٤١

Tuesday, September 17, 2019

وقت :   Thursday, September 24, 2015 خبر کوڈ : 59876

امام زمانہ(ع) کی غیبت کے دورمیں نمازعید اورجمعہ کیوں واجب نہیں ہے؟
خبررساں ایجنسی شبستان: امام معصوم علیہ السلام کی موجودگی میں نمازعید فطر،قربان اورجمعہ واجب ہے لہذا انہیں جماعت کے ساتھ پڑھنا چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ غیبت کے دورمیں یہ نمازیں واجب کیوں نہیں ہیں؟

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق امام معصوم علیہ السلام کی موجودگی میں نمازعید فطر،قربان اورجمعہ واجب ہے اوراسے جماعت کے ساتھ پڑھنا چاہیےلیکن اس دورمیں کہ جب امام زمانہ علیہ السلام پردہ غیبت میں ہیں،مستحب ہے اوراسے جماعت یا انفرادی طورپربھی پڑھا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امام معصوم علیہ السلام کی غیبت کے دورمیں نماز عید فطر،قربان اورجمعہ کیوں واجب نہیں ہیں؟

اس سوال کا جواب دو حصوں پرمشتمل ہے:

حصہ اول: حکم کا فلسفہ

۱۔ آیات اورروایات کی بنا پرنماز جمعہ اورعیدین کی بہت زیادہ ا ہمیت ہے۔ اللہ تعالیٰ اورائمہ معصومین علیہم السلام نے ان کے لیے بہت زیادہ برکات اورفوائد ذکرکیے ہیں۔ مثال کے طورپر نماز جمعہ کو مسکینوں کے حج،فرشتوں کی توجہ کا وعدہ اوران کی حاجات کے پورا ہونے، نمازجمعہ کی راہ میں موت کو شہادت کہا گیا ہے، ایک حج اوریک عمرہ کا ثواب ہے،اسے گناہوں کا کفارہ قراردیا گیا ہے۔ اسے نیکیوں میں اضافے اورگناہوں کے خاتمے کا سبب قراردیا گیا ہے،جہنم کی آگ سے رہائی کا وعدہ دیا گیا ہے،جمعہ کے نمازیوں کے لیے قرب الہی کا وعدہ دیا گیا ہے، اس کے علاوہ دیگردسیوں فوائد کا ذکرکیا گیاہے،دوسری جانب نماز جمعہ کو ترک کرنے والوں کو عذاب اورہلاکت کا وعدہ دیا گیا ہے۔

ثواب وعذاب کے یہ تمام وعدے نماز جمعہ کی اہمیت سےحکایت کرتے ہیں۔ انہیں اثرات کی وجہ سے اس کا پہلا حکم وجوب ہے۔ لیکن عصرغیبت میں زندگی بسرکرنے والے مومنین کے ذہنوں میں یہ سوال ہے کہ اتنی زیادہ اہمیت اورتاکید کے باوجود یہ الہی حکم کیوں واجب نہیں ہے تاکہ ان کے اندر نماز جمعہ میں حاضرہونے کا مزید شوق پیدا ہو اوراس کے فوائد سے استفادہ کریں؟ کیا رکاوٹ اورنقص ہے کہ جو نماز جمعہ کے حکم وجوب کے ختم ہونے کا باعث ہے؟

یہ سارے سوالات فلسفہ غیبت اورانتظار کے فلسفے سے مربوط ہیں۔ امام علیہ السلام اس سماجی عبادت کا ستون ہے اوران کی غیبت مومنین کے لیے ایک عظیم مصیبت ہے۔ لہذا مومنین پرلازم ہے کہ وہ ظہورکی راہ ہموارکرنے کے ذریعے اپنے آپ کو ان عبادات کے عظیم حصے کے لیے شائستہ قراردیں کہ جو امام عصرعلیہ السلام کی موجودگی سےمشروط ہیں۔

امام معصوم علیہ السلام کی موجودگی میں نمازجمعہ اورعیدین کے وجوب کے لیے جس دوسری حکمت کو بیان کیا جاسکتا ہے وہ امام زمانہ علیہ السلام کی کریمہ حکومت کی موثراورعمیق حمایت ہے۔ یعنی نمازجمعہ اورعیدین کےعدم وجوب کے پیش نظربہت سے مسلمان اس نمازمیں نہیں شرکت نہیں کرتے ہیں۔ اب آپ غورکریں کہ امام زمانہ علیہ السلام ظہورکریں تو امام کے ظہور اوران کے قیام کے اہداف کی تکمیل کےلیے دنیا کے مسلمانوں کی ہمراہی اورحمایت کی ضرورت ہےاور۱۲ سوسال سے نمازجمعہ اورعیدین واجب نہیں تھی اوربہت سے ممالک اورادوارمیں نمازجمعہ قائم نہیں ہوتی تھی، ان حالات میں اب آپ سوچیں کہ  امام کے ظہورکی ابتداء میں نماز جمعہ کے وجوب پر مبنی ایک نیا حکم اورقانون آیا ہے اوراس کے بعد حضرت حجت کے ظہورکے بعد پہلے جمعہ میں پوری دنیا کے اربوں مسلمان شرکت کریں گے۔ ان حالات میں ہم سب دیکھیں گے کہ دنیا کے مسلمانوں کے درمیان کیسی وحدت قائم ہوگی اوراسلام کے دشمنوں کے دلوں میں کتنا خوف وہراس پیدا ہوگا۔

شاید نمازجمعہ اورعیدین کے استحباب کا ایک فلسفہ مومنین کے لیے سہولت ہو اوریہ اسلام کا احسان ہے۔ بہرحال الہی احکام اورمعارف حقیقی مصالح اورمفاسد پرمشتمل ہیں کہ ممکن ہےکہ علم بشرانہیں دریافت نہ کرسکے۔

اس حکم کی دلیل

نمازجمعہ:

سورہ جمعہ کی آیت نمبر۹ کی بنا پرشرائط مہیا ہونے کی صورت میں نمازجمعہ واجب ہے۔يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلى‏ ذِكْرِ اللَّهِ وَ ذَرُوا الْبَيْعَ ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُون اسی طرح بہت زیادہ روایات اس کے وجوب پردلالت کرتی ہیں: مثال کے طورپرامیرالمومنین علیہ السلام فرماتےہیں: الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُؤْمِن۔ ۔ ۔ نمازجمعہ ہرمومن پرواجب ہے۔ امام باقرعلیہ السلام فرماتےہیں:صَلَاةٌ وَاحِدَةٌ فَرَضَهَا اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ فِي جَمَاعَةٍ وَ هِيَ الْجُمُعَة...نماز جمعہ ایک ایسی نماز ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے جماعت کے ساتھ پڑھنےکی صورت میں واجب قراردیا ہے۔ امام معصوم کی موجودگی میں یہ واجب عینی ہے۔ بعض روایات میں امام معصوم کی موجودگی کو شرط قراردیا گیا ہےمنجملہ عن أَبِي جَعْفَرٍ الْبَاقِرِ ع قَالَ صَلَاةُ الْجُمُعَةِ فَرِيضَةٌ وَ الِاجْتِمَاعُ إِلَيْهَا فَرِيضَةٌ مَعَ الْإِمَام۔ امام معصوم کی موجودگی میں نمازجمعہ واجب ہے۔ فقہائے عظام نے ان روایات کو جمع کرکے یہ نتیجہ لیا ہےکہ امام معصوم کی موجودگی میں نماز جمعہ واجب ہے اورغیبت کے دورمیں شرایط کے حصول کےساتھ مستحب ہے۔

نمازعید قربان اورعید فطر:

 نماز عیدین کے بارے میں بھی یہی استدلال ہے۔ ایک طرف توآیات اورروایات کی بنا پرنمازعید کا ابتدائی حکم وجوب ہے۔ "فصل لربک وانحر"،نماز عید بجا لاو اورقربانی کرو(کوثر آیت نمبر۲) اورامام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:صلاۃ العیدین فریضۃ،(وسائل الشیعہ ج۲،ص۴۲۱،باب ۲)

دوسری جانب بعض روایات میں امام معصوم کی موجودگی میں نماز عیدین واجب ہے اوران دوقسم کی روایات کو جمع کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ غیب کے دورمیں یہ نمازیں مستحب ہیں۔

مآخذ:

    الجمعه حج المساكين؛كنز العمال .ج7.ص707 ح21031

    بحار الانوار ج89 ص12

    وسائل الشيعه ج5 ص11

    كنز العمال ج7ص737ح21173

    ایضا ح21088

    اصول كافي ج3ص414

    كنزالعمال ح31034

    مسترك الوسائل ج6ص31

    مستدرك الوسائل ج6ص7

    وسائل الشيعة ج‏7 ص 297 1 باب ح4

   ایضا منبع ح1

488395

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز

سماجی: اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر بندرعباس میں 8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز ہوچکا ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان دانشور، علماء، مفکرین اور عمائدین شرکت کررہے ہیں۔

منتخب خبریں