خبرگزاری شبستان

دوشنبه ۲۵ شهریور ۱۳۹۸

الاثنين ١٧ المحرّم ١٤٤١

Monday, September 16, 2019

وقت :   Sunday, November 1, 2015 خبر کوڈ : 60366
قائد انقلاب اسلامی:
علاقائی مسائل کے بارے میں امریکہ سےمذاکرات کرنےکا کوئی مطلب نہیں ہے
خبررساں ایجنسی شبستان:حضرت آیت اللہ خامنہ ای نےخطے میں امریکی اہداف کوایرانی اہداف کے بالکل مختلف قراردیتے ہوئےکہا ہے کہ علاقائی مسائل کے بارے میں امریکہ سے مذاکرات کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان نےقائد انقلاب اسلامی کے دفترکی سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اتوارکی صبح کو ایرانی وزیرخارجہ اوردیگرممالک میں ایرانی سفارتکاروں اورسفراء سے ملاقات کے دوران ایران کے آئین میں خارجہ پالیسی کے پائیدار اورثابت اصولوں اورحکمت عملیوں اوران اصولوں کی بنا پرپیدا ہونے والےالزامات کی وضاحت کرتے ہوئے شام،یمن اوربحرین سمیت خطے کے دیگراہم مسائل کے بارے میں ایران کے ٹھوس اورمنطقی راہ حل کی تاکید فرمائی ہے اورکہا ہے کہ امریکہ کے اہداف،ایران کے اہداف سے ۱۸۰ڈگری مختلف ہیں۔

انہون نےملک کی خارجہ پالیسی کووہی ایرانی آئین پرمشتمل خارجہ پالیسی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خارجہ پالیسی،اسلام اورانقلاب کے اہداف سے ماخوذ ہے اوروزارت خارجہ عہدیدار،سفراء اورسفارتکار درحقیقت ان اصولوں اوراہداف کے نمائندے اورسپاہی ہیں۔

آپ نے مزید کہا ہےکہ دنیا کے دیگرممالک کی طرح ایران کی خارجہ پالیسی بھی دراز مدت مفادات اوراصولوں اوراقدارپراستوارہے کہ جو حکومتوں کے آنے جانے سے تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔

قائد انقلاب اسلامی نےاسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے بارے میں غیروں کے پروپیگنڈوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ مغرب والوں کا یہ تجزیہ تحلیل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کم ازکم خطے میں ایک مستحکم قلعے اوراستوارچٹان کی طرح پابرجا ہے کہ جو امریکہ سمیت دیگراستعماری طاقتوں کی من مانیوں میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے اسی لیے وہ ہمیشہ سے ہی ان پالیسیوں کی تبدیلی کی آرزو رکھتے آرہے ہیں۔

انہوں نے مغربی ایشیا کے انتہائی حساس علاقے میں امریکی پالیسیوں کو خطے کے بحرانوں کا اصلی سبب قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اس خطے کی مشکلات کے راہ حل کی بجائے اس کی اصلی مشکل شمارہوتا ہے۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کو اس ملک کے آئین کے مستحکم اصولوں پرمشتمل قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے آئین میں،اسلام،خارجہ پالیسی کا معیارہے لہذا مختلف ممالک کے مقابلے میں موقف اختیارکرنے کا معیاردینی تعلیمات پرمشتمل ہونا چاہیے۔

انہوں نے ایران کے آئین میں خارجہ پالیسی کے دیگراصولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے تمام مسلمانوں کےساتھ بھائی چارگی کا عہدوپیمان،دنیا کے مظلوموں کی بے دریغ حمایت،استعمارکے ساتھ مکمل دشمنی اورہرمیدان میں غیروں کے اثرورسوخ کا راستہ روکنا، ہرلحاظ سے اپنے استقلال کا تحفظ کرنا، تمام مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کرنا،استعماری طاقتوں سے کسی قسم کا کوئی عہدوپیمان نہ باندھنا،بے طرف ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات، ملتوں کے اندرونی معاملات میں ہرقسم کی مداخلت سےاجتناب اوردنیا کے ہرکونے میں استعماری طاقتوں کا مقابلے کرنے والے حق پسندوں کی جدوجہد کی حمایت کرنا جیسے امورہماری خارجہ پالیسی کے اصول ہونے چاہییں۔

قائد انقلاب اسلامی نے وزارت خارجہ کےعہدیداروں ،سفراء اورسفارتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پرزوردیا ہےکہ انتہائی مضبوطی،اقتداراورفخرکے ساتھ اپنے انقلابی اورمنطقی اصولوں پرکاربند رہیں تاکہ دشمن اورملک کے اندران کے ایجنٹ اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی پرخوش نہ ہوں۔

انہوں نے شام کے حوالے سے کہا ہے کہ اس میدان میں بھی ہماری منطق اصولی ترین اورمستحکم ترین منطق ہے کیونکہ ہمارا عقیدہ ہےکہ دنیا کے دیگرممالک کوکوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایک جگہ جمع ہوکر ایک حکومتی سسٹم اوراس کے سربراہ کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں،یہ ایک خطرناک بدعت ہے کہ دنیا کی کوئی حکومت اپنے بارے میں اس چیزکوقبول کرنے کے لیے تیارنہیں ہے۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نےعراق کے بارے میں گفتگو کرتےہوئےکہا ہےکہ اس ملک کی شیعوں،سنیوں اورکردوں میں تقسیم بھی اس ملک کے لوگوں کے مفادات کے خلاف،بے معنی اورناقابل قبول ہے۔

انہوں نے یمن کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بھی کہا ہے کہ یمن پرسعودی حملوں کو فوری طورپربند ہونا چاہیے اورپھریمنیوں کو آپس میں بیٹھ کرگفتگو کے ذریعے اپنے مسائل کوحل کرنا چاہیے۔

انہوں نے یمن اورشام کے مقابلے میں سعودی عرب کی دوغلی پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے بارے میں کہتے ہیں کہ یمن کے مستعفی صدرکی درخواست پروہ اس ملک پرفوجی حملے کررہے ہیں جبکہ شام کے حوالےسےوہ اس ملک کے قانونی صدرکی درخواست پرمسلح دہشتگردوں کی حمایت ترک کرنے پرتیارنہیں ہیں۔

قائد انقلاب اسلامی نےبحرین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ بحرینی عوام،خود اپنے سربراہ اورصدرکا انتخاب کرنا چاہتے ہیں اورہماری نظرمیں ان کا یہ مطالبہ منطقی اورجمہوری تقاضوں کے عین مطابق ہے۔

497853

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز

سماجی: اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر بندرعباس میں 8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز ہوچکا ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان دانشور، علماء، مفکرین اور عمائدین شرکت کررہے ہیں۔

منتخب خبریں