خبرگزاری شبستان

دوشنبه ۲۲ مهر ۱۳۹۸

الاثنين ١٥ صفر ١٤٤١

Monday, October 14, 2019

وقت :   Monday, January 25, 2016 خبر کوڈ : 61649
حجة الاسلام خسروپناہ:
معصومین﴿ع﴾ کی دعائیں،تشیع کا عظیم ترین عرفانی ماخذ ہے
خبررساں ایجنسی شبستان: دعائیں،مکتب تشیع کا عرفانی ماخذ ہے اوران میں سے کسی ایک دعا میں بھی کفرآمیز کلمات نہیں ہیں کیونکہ معصومین علیہم السلام کبھی بھی تعبیرات میں مشکل کا شکار نہیں ہوئے ہیں ۔ شیعہ عرفاء نے بھی معصومین علیہم السلام سے سیروسلوک اورشہود کا ترجمہ سیکھا ہے،بنا بریں وہ بھی کفرآمیزکلمات میں گرفتارنہیں ہوتے ہیں۔

ایران کے حکمت اورفلسفہ تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ کےسربراہ حجة الاسلام والمسلمین عبدالحسین خسروپناہ نے خبررساں ایجنسی شبستان سے گفتگو کے دوران عرفان کی زبانی آفات کے بارے میں کہا ہے کہ جب سے عرفا کے نزدیک عرفانی بحثیں چھڑی ہیں اس وقت سے انہوں نے جس مشکل اورآفت کو محسوس کیا اوروہ متحقق بھی ہوئی،عرفان کی زبانی آفت تھی۔ یعنی وہ حقائق کو پالیتے تھے لیکن اسے بیان نہیں کرسکتے تھے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ بنابریں وہ اپنے آپ کو گونگا اورکائنات کو بہرہ تصورکرتے تھے اورزبان کو حقائق بیان کرنے سےعاجزسمجھتے تھے۔ اسی بنا بر عرفاء  شطح﴿ ظاہری طور پر کفرآمیز تعبیرات﴾ کا شکارہوگئے۔ شطحیات وہی الفاظ ہیں کہ دوسرے افراد جن سے اورمطلب سمجھتے ہیں لیکن عرفا ان سے اورمطلب لیتے ہیں لیکن قرآن کریم اورمعصومین علیہم السلام کے کلام میں شطحیات کا کوئی وجود نہیں ہے۔ چونکہ جب ایک معصوم انسان، کشف وشہود کی روحانی منزل پرفائزہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انہیں ایسے الفاظ عطا کرتا ہےکہ پھروہ شطحیات کا شکارنہیں ہوتے ہیں۔

حکمت وفلسفہ تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے کہا ہےکہ عرفاء کہتے ہیں کہ وحی، کشف تام محمدی ہے۔ لہذا ان کا عقیدہ ہے کہ ہمارا ایک اہم ترین معیاریہ ہے کہ ہم اپنے کشف وشہود کا وحی کےساتھ موازنہ کریں۔ اگر ہمارا کشف وشہود،وحی کے مطابق ہوا تو اسے قبول کرلیں گے اوراگر مطابق نہ ہوا تو معلوم ہوجائے گا کہ یہ ایک شیطانی کشف وشہود ہے۔ یعنی وہ وحی نبوی اورکلام نبوی کو تام اورکامل کشف جانتے ہیں۔ یہ معنی کی بحث میں ہے لیکن لفظ کی بحث میں اس نے ایک حقیقت کو پالیا ہوا ہے کہ جسے وہ بیان کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ سابقہ زمانوں میں وہ کچھ الفاظ استعمال کرکے اس سے ایک اورمعنی مراد لیتےتھے اوراس طرح زبان کی محدودیت کی وجہ سے معارف،شطحیات کا شکارہوجاتے تھے۔ یہ عرفاء اگردعاوں سے مانوس ہوتے تو پھران شطحیات میں مبتلا نہ ہوتے۔ لہذا شیعہ عرفاء شطحیات میں مبتلا نہیں ہوتے تھے بلکہ یہ شطحیات،اہل سنت کےعرفاء سے مختص ہے کیونکہ وہ دعاوں سے محروم تھے۔

حجة الاسلام خسروپناہ نےمزید کہا ہےکہ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم اہل عرفان پراعتراض کریں یا نہ ؟ بعض نے کہا ہے کہ جب ایک شخص کو شہود ہوتا ہے تو اس کی زبان بولنا شروع کردیتی ہے اور اس کے اختیارمیں بھی نہیں ہوتا ہے جبکہ بعض دیگرافراد کا عقیدہ ہے کہ اگریہ دعاوں سے زیادہ سے زیادہ مانوس ہوتا تو وہ شطحیات میں مبتلا نہ ہوتا۔ پس بنایریں ہمیں ان مقامات کو ایک دوسرے سے الگ کرنا چاہیے؛ ایک کشف وشہود کا مقام اوردوسرا بیان کرنے کا مقام۔ یہ زبان اگرمحدود ہے اورمطالب کو صحیح بیان نہیں کرسکی ہے تو ہمیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ پس معنیٰ بھی غلط ہے۔ نہیں ،بلکہ معنی کا قرآن وسنت کے ساتھ موازنہ کریں گےاگریہ معنی اس کے مطابق ہوا تو قبول کرنا چاہیے۔

517696

 


 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز

سماجی: اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر بندرعباس میں 8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز ہوچکا ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان دانشور، علماء، مفکرین اور عمائدین شرکت کررہے ہیں۔

منتخب خبریں