خبرگزاری شبستان

یکشنبه ۳ شهریور ۱۳۹۸

الأحد ٢٤ ذو الحجّة ١٤٤٠

Sunday, August 25, 2019

وقت :   Monday, September 26, 2016 خبر کوڈ : 65127

ولایت کےانکارمیں منافقین کا اہم کردار
خبررساں ایجنسی شبستان: امیرالمومنین علی علیہ السلام نے اپنی پوری بابرکت زندگی میں کئی مرتبہ واقعہ غدیرکی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے دلیل کےطورپرپیش کیا ہے۔ جالب بات یہ ہے کہ آپ نے ہمیشہ مسئلہ خلافت کے لیے واقعہ غدیر کا حوالہ دیا ہے اوریہ چیزغدیرسےمربوط فقہ الحدیث میں اہم کردارادا کرتی ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق اسلامی کیلنڈر میں ۲۴ذیحجہ کا دن عیسائیوں کے ساتھ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےمباہلے،آیت تطہیرکے نزول اورامیرالمومنین علیہ السلام کی جانب سے رکوع کی حالت میں  فقیرکو انگوٹھی دینے کے واقعہ کی  یاد دلاتا ہے اوریہ دن امیرالمومنین علیہ السلام کی ولایت کے اثبات کے لیے تاریخ کا ایک اورسنہرا ورق ہے۔

حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی ولایت سےمربوط شکوک وشبہات کا تنقیدی جائزہ لینے کی غرض سے فرق ومذاہب کے محقق محمد علی موحدی پور سےگفتگو کی  گئی ہے کہ جس کا  خلاصہ قارئین کے پیش خدمت ہے۔

سوال:بعض افراد دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نےاپنی خلافت کے لیے مختلف دلیلیں پیش کرنے کے باوجود آپ نے واقعہ غدیر کو دلیل کے طورپرپیش نہیں کیا ہے۔ اس کےبارے میں آپ کا  کیا خیال ہے؟

جواب:امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنی پوری زندگی کے دوران کئی مرتبہ واقعہ غدیر کو دلیل کے طورپرپیش کیا ہے۔ جب امیرالمومنین علیہ السلام اپنی خلافت اورجانشینی کے لیے واقعہ غدیرکو دلیل کے طورپرپیش کرتے ہیں تو آپ اورآپ کے مخاطبین حدیث غدیرسے دوستی اورنصرت کی بجائے فقط  ولایت،امامت اورخلافت کا موضوع سمجھتے تھے۔

امیرالمومنین علیہ السلام نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد خلفاء کی خلافت کے ابتدائی ایام میں ہی حدیث غدیرکو دلیل کے طورپرپیش کیا تھا۔ کتاب سلیم بن قیس ہلالی حضرت امیرعلیہ السلام کے واقعہ غدیر سےاحتجاج سے بھری پڑی ہے۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے بھی واقٕعہ غدیر کو دلیل کے طور پرپیش کیا ہے۔ اسی طرح امام علی علیہ السلام نے چھ افراد پرمشتمل شوریٰ میں بھی واقعہ غدیر سےاستفادہ کیا تھا اورشیعہ اوراہل سنت کی کتابوں میں یہ موضوع موجود ہے۔علامہ امینی نے اپنی کتاب الغدیر میں﴿حدیث غدیر سے احتجاج﴾ کے عنوان سے ایک مستقل باب تحریرکیا ہے کہ جس میں اہل سنت کے مآخذ سے استفادہ کیا گیا ہے۔

سوال: کیا امام علی علیہ السلام نے اپنی حکومت کے دورمیں بھی واقعہ غدیرکو دلیل کےطور پرپیش کیا ہے؟

جواب: جی ہاں امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنی ظاہری حکومت اورخلافت کے دورمیں بھی واقعہ غدیرکو دلیل کےطورپرپیش کیا تھا۔ لہذا شاید امیرالمومنین علیہ السلام کے توسط سے حدیث غدیر سے احتجاج کا ایک اہم ترین اورمشہورترین واقعہ﴿رحبہ ﴾ کا واقعہ ہے۔

پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورحضرت امیرعلیہ السلام کے معروف صحابی ابوطفیل عامربن واثلہ نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ متعدد کتابوں میں موجود ہے۔ احمد بن حنبل نے بھی اپنی کتاب مسند میں صحیح سند کے ساتھ اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔ا حمد بن حنبل نے اپنے دو اساتذہ سے نقل کیا ہے۔

«حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ الْمَعْنَى قَالاَ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ أَبِى الطُّفَيْلِ قَالَ جَمَعَ عَلِىٌّ النَّاسَ فِى الرَّحَبَةِ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ أَنْشُدُ اللَّهَ كُلَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا سَمِعَ لَمَّا قَامَ . فَقَامَ ثَلاَثُونَ مِنَ النَّاسِ - وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فَقَامَ نَاسٌ كَثِيرٌ - فَشَهِدُوا حِينَ أَخَذَهُ بِيَدِهِ فَقَالَ لِلنَّاسِ « أَتَعْلَمُونَ أَنِّى أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ». قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « مَنْ كُنْتُ مَوْلاَهُ فَهَذَا مَوْلاَهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاَهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ ». قَالَ فَخَرَجْتُ وَكَأَنَّ فِى نَفْسِى شَيْئاً فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّى سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ كَذَا وَكَذَا. قَالَ فَمَا تُنْكِرُ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ ذَلِكَ لَهُ . حضرت علی علیہ السلام نے لوگوں کو رحبہ میں جمع کرکے فرمایا کہ اللہ کی قسم کھا کر ہروہ مرد مسلمان کہ جسےغدیرخم کا واقعہ یاد ہے اوراس دن اس نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ سناتھا،اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہو۔ راوی کے بقول اس اجتماع میں سے تیس افراد نے کھڑے ہوکرگواہی دی تھی۔ابونعیم نے کہا ہےکہ بہت سے افراد نے گواہی دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ جب رسول خدا نے امیرالمومنین کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا تھا﴿ کیا تم جانتے ہو کہ میں مومنین سے زیادہ ان کی جانوں پرحق تصرف رکھتا ہوں؟ تو سب نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کی تصدیق کی تھی اس وقت پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےامام علی علیہ السلام کا ہاتھ بلند کرکے فرمایا تھا کہ جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے،پروردگار علی سے محبت کرنے والے سے محبت کراوراس سے دشمنی کرنے والے سے دشمنی کر۔

اہل سنت کےعلماء نےاس حدیث کی سند کو صحیح قراردیا ہے۔ نورالدین ہیثمی جب اس حدیث کی سند تک پہنچتے ہیں تو اسے صحیح قراردیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس حدیث کے تمام راوی صحیح ہیں۔

سوال:واقعہ غدیرکے بعد لوگوں کا موقف کیا تھا اورمخالفین کے توسط سے اس واقعہ کی مخالفت یا اسے چھپانےکے کیا اسباب تھے؟

جواب: آپ دیکھیں کہ قرآن کریم نے کئی مرتبہ منافقت اورنفاق جیسے خطرناک موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے۔ منافقین فقط پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کےآخری ایام میں ہی نہیں تھے بلکہ جاہلیت کے دوراوربعثت کی ابتداء میں ہی اس کی جڑیں موجود تھیں۔انہوں نے کہا ہے کہ میں  ان منافقین کے ناموں کی فہرست بیان کرسکتا ہوں۔ لیکن اس وقت میں فقط ابوالغادیہ نامی شخص کا ذکر کرتا ہوں کہ جس نے جنگ صفین میں عماربن یاسرکو شہید کیا تھا۔ بے شک وہ منافقین میں سے تھا کہ جس نے مکہ میں اسلام قبول کیا تھا۔ صحیح بخاری میں ایک صحیح حدیث میں نقل ہوا ہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک باغی گروہ عمارکو شہید کرے گا۔ یعنی صفین میں معاویہ کے اصحاب اوربالخصوص یہ ابوالغادیہ نامی شخص۔

قابل ذکرہےکہ مدینہ میں منافقین نے اپنے آپ کو مضبوط کیا اورواقعہ غدیر سے پہلے مکہ میں ان کے سربراہوں نے ایک میٹنگ کی کہ علی علیہ السلام کو خلافت تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ کیونکہ اگرعلی علیہ السلام خلیفہ بن جاتے تو وہ اپنے اہداف کو حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےبھی خطبہ غدیرکی ابتداء میں ہی مومنین کی قلت اورمنافقین کی کثرت پرگلہ و شکوہ کیا ہے۔ اس کے بعد فرماتے ہیں اگرمیں چاہیں تو مکہ میں ان کے خفیہ سمجھوتے کو برملا کرسکتا ہوں لیکن میں اپنے ہونٹ سی لیتا ہوں اورپھرمسلمانوں کو یاددہانی کرواتے ہیں کہ علی علیہ السلام کےعلاوہ ہرراستہ اسلام سے دوری کا راستہ ہے۔

اگرچہ ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی لیکن عام مسلمان ان  کے پیروکار تھے۔ جاہلانہ آداب ورسوم کے تقاضےکےمطابق وہ اپنے قبیلے کے سربراہ کےحکم کے تابع تھے۔ یہ سب امورباعث بنے تھے کہ جب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا امام حسن اورامام حسین علیہما السلام کے ہمراہ انصار کے گھروں میں گئیں اورانہیں غدیرکا عہدوپیمان یاد دلایا تو انہوں نے عجیب وغریب قسم کی دلیلیں گھڑنا شروع کردیں اوربعض نے تو یہ بھی کہا ہے کہ اے کاش آپ اس سے پہلے آتیں۔ ہم اس وقت کسی اورکی بیعت کرچکے ہیں۔

574985

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز

سماجی: اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر بندرعباس میں 8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز ہوچکا ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان دانشور، علماء، مفکرین اور عمائدین شرکت کررہے ہیں۔

منتخب خبریں