خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۷ آیان ۱۳۹۶

السبت ٢٩ صفر ١٤٣٩

Saturday, November 18, 2017

وقت :   Tuesday, November 01, 2016 خبر کوڈ : 65598

کتاب : عاشورا؛ انقلابی در جان ها و وجدان ها
شبستان نیوز : حسینؑ ابن علیؑ اور واقعہ عاشورا کے بارے میں لکھنا ایک انتہائی دشوار کام ہے۔ یہ حادثہ ایسا اندوہناک ہے کہ لکھنے والے کے ہاتھ اور دل کانپنے لگتے ہیں۔ لکھنے والا دیکھتا کے اس کے سامنے کس قدر وسیع اور پھیلا ہوا بے کراں اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے اور وہ اس کے بارے میں لکھنے سے کتنا عاجز ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

شبستان نیوز ایجنسی نے نیوز ویب طلیعہ کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ تہران یونیورسٹی کے استاد سید محمد اصغری کی کتاب «عاشورا انقلابی در جان ها و وجدان ها» انتشارات اطلاعات کے توسط سے چھپ کر بازار میں آ چکی ہے۔

اس کتاب میں درج ذیل عناوین پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے:

فصل اول: از سقیفه تا عاشورا(سیر تکوین تشیع)، فصل دوم: تشیع و عاشورا، فصل سوم: انقلابی در جانها و وجدانها، فصل چهارم: حق و عدل در عاشورا، فصل پنجم: آزادی و آزادگی در عاشورا۔

اس کتاب سے کچھ اقتباس:

حسینؑ ابن علیؑ اور واقعہ عاشورا کے بارے میں لکھنا ایک انتہائی دشوار کام ہے۔ یہ حادثہ ایسا اندوہناک ہے کہ لکھنے والے کے ہاتھ اور دل کانپنے لگتے ہیں۔ لکھنے والا دیکھتا کے اس کے سامنے کس قدر وسیع اور پھیلا ہوا بے کراں اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے اور وہ اس کے بارے میں لکھنے سے کتنا عاجز ہے، جیسے ایک قطرہ ہو جو سمندر کے وسعتوں کے سامنے شرم سے سر جھکائے کھڑا ہو ۔ ہاں، اس واقعے کے بارے میں لکھنا بہت ہی دشوار ہے مگر یہ کہ عنایت ہو، ہدایت ہو اور وہ ایک لاابالی اور بے پروا عشق ہو جس کے سہارے اس پر کچھ لکھا جا سکتا ہے۔

 

اس کتاب میں انقلاب عاشورا میں امام حسین علیہ السلام کا کردار، اسلامی معاشرے پر عاشورا کے اثرات، مختار ثقفی کے قیام اور امام سجاد علیہ السلام کے عاشورا کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔

 

584720

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے

شبستان نیوز : ادارہ اوقاف و خیراتی امور کے ثقافتی و سماجی امور کے جنرل ڈائریکٹر نے وقف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے۔ امامزادوں کے حرم یا ان کے علاوہ دوسرے مقدس مقامات کی ملکیت میں اگر ان کے اپنے اوقاف ہوں تو وہ اپنے تعمیراتی اور ثقافتی امور کے اخراجات وہاں سے پورے کر سکتے ہیں۔

منتخب خبریں