خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۷ آیان ۱۳۹۶

السبت ٢٩ صفر ١٤٣٩

Saturday, November 18, 2017

وقت :   Wednesday, January 04, 2017 خبر کوڈ : 66302

حضرت عبدالعظیم حسنی(ع) کےتوسط سےحقیقی اسلام کےنظریات کا استنباط
خبررساں ایجنسی شبستان: ایران کے شہرکرمانشاہ کےامام جمعہ نےکہا ہےکہ حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام سیدالکریم کے نام سےمشہورہیں اورشاید اس کی وجہ یہ ہےکہ ایرانیوں کے لیےآپ کے حرم مطہرکی بہت زیادہ کرامات اوربرکات ہیں۔

کرمانشاہ کےامام جمعہ آیت اللہ محمد حجتی نےخبررساں ایجنسی شبستان کےنامہ نگارسےگفتگو کے دوران حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسب سے ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئےکہا ہےکہ آپ نے ۷۹سال تک دینی امورکے بارے میں بحث وگفتگو کی ہے اوراس میدان میں اپنے زمانے کےعالم انسان تھے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام ایک ماہرمجتہد تھےکہ جو اہل بیت علیہم السلام سے حاصل کرنے والے اصول وقواعد کے بنیاد پرحقیقی محمدی اسلام سےاعتقادی اورعلمی مسائل کا استنباط کرسکتے تھےاورلوگوں کے سوالات کے جوابات دیا کرتے تھے۔

آیت اللہ حجتی نےکہا ہےکہ حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کا سلسلہ نسب چارواسطوں سے امام حسن علیہ السلام کے ساتھ جاملتا ہے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ آپ ایک پرہیزگاراوردیندارانسان تھےاوراپنےدورمیں امانتداری اورصداقت میں مشہورتھے اورآپ نے اہل بیت علیہم السلام سےتوحید اورعدل کے بارے میں بہت زیادہ احادیث نقل کی ہیں۔

شہرکرمانشاہ کےامام جمعہ نےکہا ہےکہ حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام نےپانچ ائمہ اطہارعلیہم السلام کے دورمیں زندہ رہے ہیں یعنی امام کاظم علیہ السلام کے دورسے لےکرامام عسکری علیہ السلام کے دورتک زندہ تھے۔ حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام سیدالکریم کےنام سے مشہورہیں اورشاید اس کی وجہ یہ ہےکہ ایرانیوں کے لیےآپ کے حرم مطہرکی بہت زیادہ کرامات اوربرکات ہیں۔

انہوں نے آخرمیں کہا ہےکہ امام ہادی علیہ السلام نےایک حدیث میں فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی قبرکی زیارت سید الشہداء علیہ السلام کی قبرکی زیارت کی طرح ہے۔

599119

 

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے

شبستان نیوز : ادارہ اوقاف و خیراتی امور کے ثقافتی و سماجی امور کے جنرل ڈائریکٹر نے وقف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے۔ امامزادوں کے حرم یا ان کے علاوہ دوسرے مقدس مقامات کی ملکیت میں اگر ان کے اپنے اوقاف ہوں تو وہ اپنے تعمیراتی اور ثقافتی امور کے اخراجات وہاں سے پورے کر سکتے ہیں۔

منتخب خبریں