خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۷ آیان ۱۳۹۶

السبت ٢٩ صفر ١٤٣٩

Saturday, November 18, 2017

وقت :   Saturday, January 07, 2017 خبر کوڈ : 66328

ظہورکی پیشین گوئی جھوٹ یا واقعیت؟
قیامت کی طرح ظہورکا تعلق الہی ارادہ سے ہےکہ شرائط کےمہیا ہونے کی صورت میں اللہ کےحکم سےظہورمتحقق ہوگا؛ بنابریں اللہ تعالیٰ ہی اس کی تاریخ کو جانتا ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق مہدویت کےمحقق حجۃ الاسلام والمسلمین رحیم کارگرنےاپنےٹیلیگرام پرلکھا ہے کہ ہم سب اپنے پورے وجود کے ساتھ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہورکےمشتاق ہیں اورہرلمحہ ہم اس نورانی امرکےظہورکے منتظرہیں اورہونا بھی چاہیے؛ تاہم معلوم ہونا چاہیےکہ قیامت کی طرح ظہور بھی اللہ تعالیٰ کے ارادے سے وابستہ ہےکہ شرائط کےمہیا ہونےکی صورت میں اللہ کےحکم سے یہ ظہورمتحقق ہوگا؛ اس کی تاریخ فقط اللہ تعالیٰ جانتا ہے اورکوئی بھی ظہورکی دقیق تاریخ نہیں بتا سکتا ہے۔ روایات میں ہےکہ جو بھی ظہورکے وقت کو مشخص کرے وہ جھوٹا ہے۔

مہزم اسدی نےامام صادق علیہ السلام سے پوچھا: میری جان آپ پرقربان؛قائم آل محمد عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور اورحکومت حق کی تشکیل کہ جس کا آپ کو انتظارہے، بہت لمبی ہوگئی ہے؛ یہ ظہورکب متحقق ہوگا؟ امام علیہ  السلام نے فرمایا: ظہورکے وقت کو معین کرنے والے جھوٹے ہیں؛ جلدی کرنے والے ہلاک ہوں گے اورجولوگ تسلیم ہوں گے وہ نجات پاجائیں گے۔( بحارالانوار،علامہ مجلسی،ج۵۲،ص۱۰۳)

امام زمانہ علیہ السلام خود اس بارے میں فرماتے ہیں کہ فرج کا ظہوراللہ تعالیٰ کے ارادے سے وابستہ ہےاورجو لوگ ظہور کے وقت کی تعیین کرتے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔( کمال الدین، شیخ صدوق،ج۲ص ۴۸۴)

بنابریں کوئی بھی ظہورکے وقت کی پیشین گوئی نہیں کرسکتا ہے، ہمیں ہرلمحہ اورہمیشہ ظہورکا منتظرہونا چاہیےاورظہورکے وقت کو معین کرنے والوں کی باتوں سےاجتناب کرنا چاہیے اورہمیشہ اللہ تعالیٰ کےامرکے سامنے سرتسلیم خم ہونا چاہیے۔

اس ٹیلیگرام کا ایڈریس یہ ہے۔ IranianForesight@

599638

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے

شبستان نیوز : ادارہ اوقاف و خیراتی امور کے ثقافتی و سماجی امور کے جنرل ڈائریکٹر نے وقف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے۔ امامزادوں کے حرم یا ان کے علاوہ دوسرے مقدس مقامات کی ملکیت میں اگر ان کے اپنے اوقاف ہوں تو وہ اپنے تعمیراتی اور ثقافتی امور کے اخراجات وہاں سے پورے کر سکتے ہیں۔

منتخب خبریں