خبرگزاری شبستان

شنبه ۱ مهر ۱۳۹۶

السبت ٣ المحرّم ١٤٣٩

Saturday, September 23, 2017

وقت :   Monday, January 09, 2017 خبر کوڈ : 66352

اللہ،ایسےافراد کی آوازسننےکو پسند نہیں کرتا ہے
خبررساں ایجنسی شبستان: اگرچہ اللہ تعالیٰ نےخود فرمایا ہےکہ مجھے پکارو اورنماز کو بندے کی پروردگارعالم کے ساتھ گفتگو قراردیا ہے لیکن امام رضا علیہ السلام کی تعبیر کےمطابق کچھ ایسےافراد بھی ہیں کہ پروردگارعالم جن کی آوازسننےکو پسند نہیں کرتا ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق منافقت،انسان کی ایک مذموم صفت ہے کہ جو اس کے سامنے برائی کے دروازے کھولتی ہے،اسی بنا پردینی تعلیمات میں سختی سےاس سے منع کیا گیا ہے۔

پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا کہ مومن کی زبان اس کےدل کےپیچھے ہے، جب بھی وہ بات کرتا ہے تو پہلے اس کے بارے میں سوچتا ہےاورپھراسے زبان پرلاتا ہے،لیکن منافق کی زبان اس کے دل کے آگے ہے وہ جب بھی بات کرنے کا ارادہ  کرتا ہے تو بغیرسوچے سمجھے کردیتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےمنافق شخص کی پہچان کےطریقہ کار کےبارے میں فرمایا ہےکہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جو جس شخص بھی پائی جائیں وہ منافق ہےاگرچہ وہ روزہ دارہو،نماز پڑھتا ہو،حج اورعمرہ بجالاتا ہو اورکہےکہ میں مسلمان ہوں، ایسا شخص کہ جو جب بات کرے تو جھوٹ بولے،جب وعدہ کرے تواس کی خلاف ورزی کرے اورجب امانت لےتواس میں خیانت کرے۔

امیرالمومنین علی علیہ السلام نے بھی فرمایا ہےکہ اگرمیں اپنی اس تلوارکو مومن کی ناک پرماروں کہ مجھے دشمن رکھے تو وہ مجھ سےدشمنی نہیں کرے گا اوراگر میں پوری دنیا منافق دے دو تاکہ وہ مجھ سےمحبت کرے تو وہ کبھی بھی مجھ سے محبت نہیں کرے گا۔

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مومن کی دعا کی آواز کو سننےکےلیےاس کی دعا کی قبولیت میں تاخیر کردیتا ہے اورفرماتا ہےکہ یہ ایک ایسی آوازہےکہ جسے میں سننا پسند کرتا ہوں اورمنافق کی دعا کو قبول کرنے میں جلدی کرتا ہےاورفرماتا ہےکہ یہ ایسی آواز ہےکہ جسے میں سننا پسند نہیں کرتا ہوں۔

امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مومن کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہےاورمنافق کا دل اس کی زبان کے پیچھے ہے؛ کیونکہ مومن جب بھی کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو پہلے اس کےبارے میں سوچتا ہے،اگروہ بات اچھی ہو تو اس کا اظہارکرتا ہےاوراگربری ہو تو اسےمخفی کردیتا ہے۔ لیکن منافق جو کچھ زبان پرآتا ہے بغیرسوچےسمجھےکہہ دیتا ہے۔

امام صادق علیہ السلام فرماتےہیں کہ جو شخص بھی مسلمانوں کے ساتھ منافقت سے پیش آئے قیامت کے دن اس کی آگ کی دو زبانیں ہوں گی۔اس سےمراد ایسے افراد ہیں کہ جو دنیاوی فائدے کی خاطر ہرکسی کے سامنےاس کی منشا کےمطابق بات کرتے ہیں کیونکہ اس کام سے بہت سے حقائق مخفی ہوجاتے ہیں اورعلامہ مجلسی اوردیگرعلماء کے بقول یہ بعینہ منافقت ہے۔

امام باقرعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ بندہ کتنابرا بندہ ہےکہ جس کی دوزبانیں اوردوچہرے ہیں، اپنے بھائی کے سامنےاس کی تعریف کرے اوراس کی پیٹ پیچھےاس کی برائی کرے،اگروہ دولت مند ہوجائے تو اس پرحسد کرے اوراگروہ مصیبت میں مبتلا ہوجائے تو اس کی مدد نہ کرے۔

مآخذ:  اصول کافی، نهج البلاغه ،تنبیه الخواطر ،فقه الرضا (ع)

600127

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

آیت اللہ سید احمد میرعمادی:

مکتب عاشورا کا اہم ترین درس خدا کیلئے قیام ہے

سماجی: ایران کے صوبہ لرستان میں نمائندہ ولی فقیہ نے ذلت پر عزت کو ترجیح دینے کو مکتب حسینی کا عظیم درس قرار دیتے ہوئے کہا قیام عاشورا کا سب سے بڑا درس خدا کیلئے قیام ہے۔

منتخب خبریں