خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۷ آیان ۱۳۹۶

السبت ٢٩ صفر ١٤٣٩

Saturday, November 18, 2017

وقت :   Wednesday, January 11, 2017 خبر کوڈ : 66379

آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے مجلس ترحیم
خبررساں ایجنسی شبستان تہران میں حسینیہ امام خمینی (رح) میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی جانب سے منعقدہ مجلس ترحیم میں ایران کی انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف اعلی سول اور فوجی عہدیداروں نیز مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مجلس ترحیم میں غیر ملکی اعلی عہدیداروں نے بھی شرکت کی جن میں افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ، عراقی وزیرخارجہ ابراہیم جعفری سمیت اعلی عراقی رہنما اور فلسطینی شخصیات بھی شامل ہیں۔

مجلس کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا جس کے بعد علماء، خطباء اور ذاکرین نے فضائل و مصائب بیان کئے۔

اس سے قبل منگل کے روز رھبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی امامت میں  تہران یونیورسٹی میں مرحوم آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں صدر مملکت، پارلیمنٹ کے اسپیکر، عدلیہ کے سربراہ، کابینہ کے اراکین، آیات عظام، علمائے کرام ،ایران کی سیاسی و مذھبی شخصیات اور لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

نمازجنازہ کے بعد ایران کے قدرشناس اور انقلابی عوام نے امام خمینی (رح) اور رہبر انقلاب اسلامی کے دیرینہ یاور و مددگار آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کو انتہائی جذباتی انداز میں الوداع کیا- تہران یونیورسٹی میں نماز جنازہ کے بعد آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کے جسد خاکی کو لاکھوں سوگواروں کی موجودگی میں بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کے حرم منتقل کیا گیا جہاں ضریح کے اندر انہیں سپرد خاک کر دیا گیا- اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی اور جذباتی طریقے سے انہیں رخصت کیا- تشخیص مصلحت نظام کونسل  کے سربراہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی اتوار کی رات دل کا عارضہ لاحق ہونے کی بنا پر انتقال کر گئے تھے

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے

شبستان نیوز : ادارہ اوقاف و خیراتی امور کے ثقافتی و سماجی امور کے جنرل ڈائریکٹر نے وقف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے۔ امامزادوں کے حرم یا ان کے علاوہ دوسرے مقدس مقامات کی ملکیت میں اگر ان کے اپنے اوقاف ہوں تو وہ اپنے تعمیراتی اور ثقافتی امور کے اخراجات وہاں سے پورے کر سکتے ہیں۔

منتخب خبریں