خبرگزاری شبستان

پنج شنبه ۱ تیر ۱۳۹۶

الخميس ٢٨ رمضان ١٤٣٨

Thursday, June 22, 2017

وقت :   Sunday, March 12, 2017 خبر کوڈ : 67182

امام زمانہ(عج) سےدوستی کرنےکا راستہ
خبررساں ایجنسی شبستان: تم پرذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ تم ہمارے دوستوں کو ہمارے اوامراور دستورات پہنچاو، اگرچہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکم اوراپنی اوراپنے شیعوں کی حقیقی اصلاح کی بناپر انسانوں کی آنکھوں سے دوراورمخفی زندگی بسرکررہے ہیں۔ ۔ ۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق مہدویت کے محقق حجۃ الاسلام رحیم کارگراپنی کتاب( مہدویت پیش ازظہور) میں لکھتےہیں:

سب سے پہلے معلوم ہونا چاہیےکہ امام زمانہ علیہ السلام سے انسان کی دوری اورآپ سے روحانی اورمعنوی ارتباط کےخاتمے اورآپ کی ناراضگی کا ایک سبب گناہوں کا ارتکاب ہے۔

امام زمانہ علیہ السلام شیخ مفید کے نام اپنی توقیع شریف میں فرماتے ہیں: تم پرذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تم ہمارے دوستوں کو ہمارے اوامراوردستورات پہنچاو، اگرچہ اللہ تعالیٰ کےحکم اوراپنی اور اپنے شیعوں کی حقیقی اصلاح( جب تک دنیا کی حکومت ظالموں کےاختیار میں ہے) کی خاطرہم انسانوں کی آنکھوں سے دوراورمخفی زندگی بسرکررہے ہیں، لیکم ہم تمہارے حالات وواقعات سے مکمل طورپرآگاہ ہیں اورتمہاری کوئی خبرہم سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ ہم تمہاری ان خطاوں اورتمہارے گناہوں سے باخبر ہیں کہ جن سےاللہ کے نیک بندے اجتناب کرتے ہیں جبکہ تم انہیں انجام دیتے ہو۔ ہم عہدوپیمان کو توڑنے اوروعدہ خلافیوں سےآگاہ ہیں ۔ ۔ ۔ بنابریں اللہ تعالیٰ سے ڈرواورتقویٰ اختیارکرو اورہم اہل بیت کی مدد کرو۔ ۔ ۔ تم ایسے اعمال انجام دینےکی کوشش کروکہ جو تمہیں ہمارے قریب کریں اوران گناہوں سے دوری اختیار کروکہ جو ہماری ناراضگی کا باعث بنتے ہیں۔(۱)

ایک اورتوقیع میں شیعوں اوراہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کے گناہوں کو غیبت کے طولانی ہونے کا سبب قراردیا گیا ہے: اے مخلص دوست(شیخ مفید) ہم تمہارے ساتھ عہدوپیمان باندھتے ہیں کہ  تم ہماری راہ میں ظالموں کے خلاف جدوجہد کررہے ہو۔ تمہاری دینی بھائیوں میں سےجو کوئی بھی تقویٰ الہی اختیارکرے وہ گمراہ کن اورتاریک فتنوں سےمحفوط رہے گا۔ ۔ ۔ جو چیز ہمارے اورہمارے دوستوں کے درمیان جدائی اورہماری زیارت اورملاقات سے محرومیت کا سبب بنتی ہے وہ ان کے گناہ اوراللہ تعالیٰ کے فرامین کی مخالفت کرنا ہے۔(۲)

امیرالمومنین علی علیہ السلام ایک طولانی حدیث میں امام زمانہ علیہ السلام کے ساتھیوں کی بیعت کی  تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

مندرجہ ذیل شرائط کے تحت ان کی بیعت کریں گے:

چوری نہیں کریں گے (یبایعون علی ان یسرقوا)، زنا نہیں کریں گے( ولا یزنوا)، کسی مسلمان کو گالی نہیں دیں گے( ولا یسبوا مسلما)، کسی کا ناحق خون نہیں بہائیں گے( ولا یقتلوا محرما)،کسی کی عزت وآبرو سےنہیں کھیلیں گے( ولایھتک حریما محرّما)، کسی کے گھر پرحملہ نہیں کریں گے( ولا یھجموا منزلا)، کسی کو ناحق نہیں ماریں گے( ولا یضربوا احدا الا بالحق)، سونا ،چاندی ،گندم اورجو کا  ذخیرہ نہیں کریں گے( ولا یکنزوا ذھبا ولا فضۃ ولا بّرا ولا شعیرا)، یتیم کا مال نہیں کھائیں گے( ولا یاکلوا مال الیتیم)، غیریقینی بات کی گواہی نہیں دیں گے( ولا یشھدوا بما لا یعلمون)، کسی مسجد کو خراب نہیں کریں گے( ولا یخربوا مسجدا)، شراب نہیں پیئیں گے( ولا یشربوا مسکرا)، ریشمی اور پشمی لباس نہیں پہنیں گے( ولا یلبسوا الخز ولا الحریر)، مال ودولت کے سامنےسرتسلیم خم نہیں کریں گے( ولا یتمنطقوا بالذھب)، ڈاکے نہیں ڈالیں گے( ولا یقطعوا طریقا)، راستوں کو ناامن نہیں کریں گے ( ولا یخیفوا سبیلا)، ہم جنس کی طرف تمایل نہیں رکھیں گے( ولا یفسقوا بغلام)، گندم اورجو کو ذخیرہ نہیں کریں گے( ولا یحبسوا طعاما من برّ ولا شعیر)، تھوڑے مال پرقناعت کریں گے( ویرضون بالقلیل )، پاکیزگی کو پسند کریں گے( ویشتّمون علی الطیب)، نجاست سےاجتناب کریں گے( ویکرھون النجاسۃ ۔ ۔۔ )(۳)

امام زمانہ علیہ السلام  فرماتے ہیں: پس تم میں سے ہرایک ایسا کام کرے کہ جو محبت کو جلب کرنے کا باعث بنتا ہے اورہماری ناراضگی اورہمارے غصے کا باعث بننے والے کاموں سے اجتناب کرے۔ پس آگاہ ہوجاو کہ اچانک آدمی کی موت آجاتی ہے تو پھر اس کی توبہ اس کو فائدہ نہیں دیتی ہے اورندامت اورپشیمانی اسے عذاب سے نجات نہیں دے سکتی ہے۔(۴)

یقین جان لیں کہ اگر شیعوں کے اندرموجود چھوٹی سی برائی بھی امام زمانہ علیہ السلام کے دل کو ناراض کردیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے جاہل اورمنحرف شیعوں کی وجہ سے اپنے شکوے کا اظہارفرمایا ہے: بتحقیق ہمارے جاھل اورکم عقل شیعہ اور وہ افراد کہ جو مچھر کے پروں جتنابھی دین کو اہمیت نہیں دیتے ہیں، ہمیں آزارواذیتیں پہنچاتے ہیں۔(۵)

آخرمیں نصیحت کی جاتی ہےکہ دعا پڑھنے اورنیک اعمال انجام دینے کے ذریعے امام زمانہ علیہ السلام کےساتھ اپنےارتباط کو درست کریں اوراپنے آپ کو ہمیشہ ان کا مدیون اورمقروض قراردیں۔ لہذا دعائےعہد اورندبہ کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ توبہ اوراستغفارکو بھی فراموش نہ کریں۔ کیونکہ گناہوں کی مغفرت کے لیے اللہ کی بارگاہ میں بہترین شفیع امام معصوم ہے اورشیعوں کے حق میں اس کی دعا یقینا قبول ہوتی ہے۔(۶)

مآخذ:

[1] بحارالانوار، ح 53، ص 175.

[2] نجم الثاقب، ص 567.

[3] منتخب الاثر، ص 581، ح 4 ؛ الملاحم و الفتن، ص 53.

[4] بحارالانوار، ج 53، ص 174، ح 7.

[5] احتجاج طبرسى، ج 2، ص 474.

[6] مزید مطالعہ کے لیے مندرجہ ذیل کتابوں کی طرف رجوع کریں: ناصر مكارم شيرازى،( مهدى انقلابى بزرگ )؛ محمد محمدى رى شهرى، (كيمياى محبّت) ؛ عليرضا رجالى، (يكصد پرسش و پاسخ پيرامون امام زمان(عج) )و...

۶۱۶۱۲۱

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

حجۃ الاسلام حسن روحانی:

ایرانی عوام کی کامیابیاں،اللہ کی راہ میں قربانی اورجہاد کےمرہون منت ہیں

خبررساں ایجنسی شبستان: ایرانی صدر نےشہداء کےاہل خانہ کی ضیافت افطارمیں شہادت اورقربانی کوانتہائی گرانقدراورعظیم قراردیتے ہوئےکہا ہے کہ ایرانی عوام کی کامیابیاں، اللہ کی راہ میں قربانی اورجہاد کے مرہون منت ہیں۔

منتخب خبریں