خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۷ آیان ۱۳۹۶

السبت ٢٩ صفر ١٤٣٩

Saturday, November 18, 2017

وقت :   Monday, March 13, 2017 خبر کوڈ : 67206
آیت اللہ جوادی آملی:
منتظرین کا(منا اھل البیت) کےمقام پرفائز ہونےکا راستہ
خبررساں ایجنسی شبستان: بعض اوقات ممکن ہےکہ حضرت حجت عجل اللہ تعالیٰ کی نظررحیمیہ ان کے سچےاورصالح منتظر کے شامل حال ہوجائےکہ جنہوں نےجہاد اوسط اورجہاد اکبر کےمیدان میں اپنی تربیت کررکھی ہے اوراہل بیت علیہم السلام کی بارگاہ میں پہنچ چکے ہیں۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق مفسرقرآن کریم آیت اللہ جوادی آملی نے اپنی کتاب( امام مہدی علیہ السلام موجود موعود) میں لکھتے ہیں:

اہل بیت علیہم السلام کا بلند مقام کہ جو وہی( عنداللہ مقام محمود) ہے،  قرب الہی کا بلندترین مرتبہ ہے کہ ہربامعرفت مومن جس کی آرزو رکھتا ہے۔ اگرچہ اہل بیت علیہم السلام کےمقام پرفائزہونا معمولی اورعام افراد کے بس کی بات نہیں ہے۔ تاہم بعض اوقات ممکن ہےکہ حضرت حجت عجل اللہ تعالیٰ  فرجہ الشیرف کی نظر نظررحیمیہ ان کےسچے اورصالح منتظر کے شامل حال ہوجائےکہ جنہوں نےجہاد اوسط اورجہاد اکبر کےمیدان میں اپنی تربیت کررکھی ہے اوراہل بیت علیہم السلام کی بارگاہ میں پہنچ چکے ہیں۔ اہل بیت علیہم السلام کی کیمیائی نظر کی وجہ سے ان کا وجود گرانقدربن جائے اوراپنے وجودی مرتبے کی بنا پراہل بیت علیہم السلام کے مقام محمود پرفائز ہوکر اپنے سینے پر(منا اھل البیت) کا میڈل سجالیں، جس طرح کہ حضرت فضہ علیہا السلام، حضرت ابوذر،حضرت سلمان محمدی رضی اللہ عنہما اپنے زمانے کے ولی کے ساتھ حقیقی ارتباط کی وجہ سےاس مقام پرفائز تھے۔

حضرت فضہ رحمۃ اللہ علیہا علوی اورفاطمی نورانی گھرکی خادمہ ہیں کہ جو ایک دن تانبے جیسا وجود رکھتی تھیں لیکن اہل بیت علیہم السلام کے لطف وکرم کی وجہ سے وہ سونا بن گئی تھیں اور ایسے مقام پرفائز ہوگئیں کہ آیہ شریفہ(وَ يُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكيناً وَ يَتيماً وَ أَسيراً) میں شامل ہوگئیں اور(منا اھل البیت) کے مقام پرفائز ہوگئی تھیں۔

منتظرین کی ذمہ داریاں

 امام صادق علیہ السلام کی نورانی دعا منتظرانسانوں کی پہلی ذمہ داری کی وضاحت کرتی ہے:«اَللّهُمَّ عَرِّفْنى نَفْسَكَ فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى نَفْسَكَ لَمْ اَعْرِف نَبِيَّكَ اَللّهُمَّ عَرِّفْنى رَسُولَكَ فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى رَسُولَكَ لَمْ اَعْرِفْ حُجَّتَكَ اَللّهُمَّ عَرِّفْنى حُجَّتَكَ فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى حُجَّتَكَ ضَلَلْتُ عَنْ دينى) امام اورامامت کی معرفت ایک منتظرمومن کی پہلی ذمہ داری ہےکہ جو توحید اورنبوت کی معرفت پراستوار ہے، جب ہمیں معلوم ہوگیا کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے خلیفہ ہیں اوراس کی وحی کی بنا پربات اورکام کرتے ہیں تواس وقت پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معرفت کے سائے میں امام کو پہچانا چاہیے، وگرنہ ہم خٰیال کریں گے کہ سقیفہ کے پرچم کےتحت مسئلہ امامت تک پہنچا جاسکتا ہے۔

جیسا کہ واضح ہے کہ امامت رسالت کی نائب ہے اورنائب، منوب عنہ(جس کا نائب ہے) کی بات کے علاوہ کوئی بات نہیں کرتا ہے پس جو منوب عنہ کی معرفت حاصل کرلے وہ اس کے نائب تک پہنچ سکتا ہے اورجب وہ اس مقام پرپہنچ جاتا ہے تواس کی علمی اورعملی مشکلات حل ہوجائیں گی،یعنی جب وہ اس معرفت پرپہنچ جائےگا اورامامت اورنبوت کے راستے سے توحید تک پہنچےگا تو اس وقت وہ اپنی فکراورعمل میں دین کے علاوہ کسی اورچیز کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرے گا اور زندگی کے تمام میدانوں میں دین کی اتباع کرےگا۔ سماجی امورکےمیدان میں بھی غیردینی جمہوریت کے سامنے تسلیم نہیں ہوگا اور لوگوں کے حکم کی بجائے اللہ کے حکم کےمطابق قانون بنائے گا اورالہی قوانین کے سامنے ہی سرتسلیم خم ہوگا۔

۶۱۵۷۲۰

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے

شبستان نیوز : ادارہ اوقاف و خیراتی امور کے ثقافتی و سماجی امور کے جنرل ڈائریکٹر نے وقف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے۔ امامزادوں کے حرم یا ان کے علاوہ دوسرے مقدس مقامات کی ملکیت میں اگر ان کے اپنے اوقاف ہوں تو وہ اپنے تعمیراتی اور ثقافتی امور کے اخراجات وہاں سے پورے کر سکتے ہیں۔

منتخب خبریں