خبرگزاری شبستان

شنبه ۱ مهر ۱۳۹۶

السبت ٣ المحرّم ١٤٣٩

Saturday, September 23, 2017

وقت :   Tuesday, March 14, 2017 خبر کوڈ : 67225
حجۃ الاسلام کفیل:
حضرت ام البنین(س)، امام زمانہ(عج) سےعشق ومحبت کا نمونہ عمل ہیں
خبررساں ایجنسی شبستان: حضرت ام البنین علیہا السلام نے اپنے چاربیٹوں کو کربلا بھیجا تھا اور اگرآپ کی بیٹی بھی ہوتی تو اسے بھی اس سفر پرروانہ کرتیں تاکہ وہ حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کا ساتھ دے سکے، اس کا مطلب یہ ہےکہ آپ کے پاس جو کچھ تھا اسے اپنے وقت کے امام کے لیے وقف کردیا تھا۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق حضرت مہدی موعود(عج) ثقافتی فاونڈیشن کے ثقافتی، تعلیمی اورتحقیقاتی امورکے مشیر حجۃ الاسلام والمسلمین محمد صادق کفیل نے تہران یونیورسٹی کی مسجد میں منعقد ہونے والے پروگرام میں  کہا ہے کہ ہجرت کے پانچویں سال میں حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا کی پیدائش ہوئی تھی۔ بنابریں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے وقت آپ کی عمر پانچ سال تھی اورآپ کے سب سے بڑے  بیٹےکا نام حضرت عباس علیہ السلام تھا کہ جو ۲۶ہجری قمری کو پیدا ہوئے تھے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کی حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا سے شادی، حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے فورا بعد نہیں ہوئی تھی بلکہ تاریخی لحاظ سے ۲۴ یا ۲۵ہجری قمری کو آپ کی شاد ی ہوئی تھی، یعنی  حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے تقریبا پندرہ سال بعد یہ شادی ہوئی تھی۔

حجۃالاسلام کفیل نے کہا ہےکہ حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا کی شخصیت اورآپ کے قبیلے کی شجاعت کی وجہ سے، امیرالمومنین امام علی علیہ السلام نے آپ سے شادی کی تھی۔ تاریخ میں نقل ہوا ہےکہ حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا کے چار بیٹے تھے کہ جنہیں آپ نے اپنےامام کے لیے وقف کردیا تھا۔

انہوں نے مزید کہاہے کہ واقعہ کربلا کے بعد جب بشیر مدینہ میں داخل ہوا تو حضرت امام البنین سلام اللہ علیہا نے اس سے اپنے کسی بیٹے کےبارے میں نہیں پوچھا ہے بلکہ فقط امام حسین علیہ السلام کے بارے میں پوچھا تھا۔ جب آپ کو امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبرسنائی گئی تو آپ نے فرمایا: میرے جگر کو آگ لگادی ہے یا میرا جگرجل گیا ہے۔ یعنی اپنے بیٹے کی شہادت کی بجائے اپنے وقت کے امام کی شہادت پرافسوس کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا ہےکہ تاریخ میں حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا کا شاعرہ اوراہل حدیث کےعنوان سے تعارف کروایا گیا ہے۔ آپ روحانی مسائل سے ہٹ کرعلمی شخصیت کی بھی مالک تھیں اورواقعہ عاشورا کے بعد آپ آرام سے نہیں بیٹھی  تھیں بلکہ حضرت عباس علیہ السلام کے چارسالہ بیٹے کو ساتھ لےکرہرروز جنت البقیع کے قبرستان میں آتیں اورنوحہ خوانی کرتی تھیں تاکہ واقعہ کربلا فراموش نہ ہوسکے اورآپ کو عاشورا کی پہلی ذاکرہ  کہا جاسکتا ہے۔

حجۃ الاسلام کفیل نےمزید کہا ہے کہ اولاد کی تربیت کے لیےحضرت ام البنین سلام اللہ علیہا بہترین آئیڈیل ہیں اورایک ماں کو آپ کے تربیتی اصولوں اورمعیاروں پرعمل کرنا اورجائزہ لینا چاہیے کہ آپ نےکس طرح اپنے بیٹوں کی تربیت کی کہ وہ تمام کے تمام اپنے وقت کے امام پرقربان ہوگئے اورکسی ایک نے بھی منہ نہیں موڑا ہے۔

انہوں نے آخرمیں کہا ہے کہ ایک استاد نقل کررہے تھے کہ وہ ایک مشکل میں مبتلا ہوئے تو جو دعا بھی کرتا وہ مشکل برطرف نہ ہوتی۔ ایک دن انہوں نے دو رکعت نما زپڑھ کرحضرت ام البنین سلام اللہ علیہا کو ہدیہ کیا تو ایک دن حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا میں ایک ولی خدا کو دیکھا تو انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے کیا کیا ہے کہ ہمیں تمہارے لیے دعا کرنےکا کہا گیا ہے۔

۶۱۷۰۰۳

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

آیت اللہ سید احمد میرعمادی:

مکتب عاشورا کا اہم ترین درس خدا کیلئے قیام ہے

سماجی: ایران کے صوبہ لرستان میں نمائندہ ولی فقیہ نے ذلت پر عزت کو ترجیح دینے کو مکتب حسینی کا عظیم درس قرار دیتے ہوئے کہا قیام عاشورا کا سب سے بڑا درس خدا کیلئے قیام ہے۔

منتخب خبریں