خبرگزاری شبستان

دوشنبه ۳۰ مرداد ۱۳۹۶

الاثنين ٢٩ ذو القعدة ١٤٣٨

Monday, August 21, 2017

وقت :   Wednesday, March 15, 2017 خبر کوڈ : 67244
حجۃ الاسلام پناہیان:
عصرغیبت میں زیادہ ثواب کےباوجود ہم کیوں ظہورکےلیےدعاکریں؟
خبررساں ایجنسی شبستان: ایک صحابی نےامام صادق علیہ السلام کی خدمت میں آکرعرض کیا: کیا ہم آپ کے اصحاب کےاعمال کا ثواب زیادہ ہے یا آخری امام کےاصحابکےاعمال کا ثواب زیادہ ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: آپ کےاعمال کا ثواب آخری امام کے اصحاب کے ثواب سے زیادہ ہے۔ صحابی نے پوچھا: بنابریں ہم امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہورکی تعجیل کے لیے کیوں دعا کریں؟

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق حجۃ الاسلام علی رضا پناہیان نےاپنی کتاب (انتظارعامیانہ، عالمانہ وعارفانہ) میں لکھا ہےکہ اس سے قبل حضرت حجت علیہ السلام کےساتھ عشق ومحبت کے بارے میں گفتگو کی تھی تاہم مناسب یہ ہےکہ ظہورکے اشتیاق کے اس پہلو میں زیادہ سے زیادہ گفتگو کرنی چاہیے اوراس کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔ کیا ایسا ہوسکتاہے کہ کوئی شخص ایک ایسی حکومت کے قیام سےمحبت کرتا ہو کہ جس میں وہ خود کوئی منصب اورمقام نہیں رکھتا ہے؟ کیا ایک ایسی سماجی صورتحال کا عاشق ہوا جا سکتا ہے اوراس کے لیےآنسو بہائےجا سکتے ہیں،اگرچہ یہ صورتحال بہترین صورتحال ہو؟

جس طرح کہ ایک عقیدہ یا ایک نظریہ کےکچھ خاص نظریاتی اصول ہیں اوران اصولوں کے فقدان کی صورت میں وہ نظریہ اورعقیدہ تشکیل نہیں پاتا ہےاوراگرتشکیل پا بھی جائے تو وہ ضروری استحکام سے خالی ہوگا۔ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہورکےاشتیاق کے بارے میں نظریاتی اصولوں کےعلاوہ اس کے جذباتی اورمحبت آمیزاصولوں پربھی توجہ کرنی چاہیے،تاکہ اس اشتیاق تک پہنچنےکا راستہ آسان ہو اوراس کی اہمیت بھی واضح ہوجائے۔

امام صادق علیہ السلام کے ایک صحابی نے آپ کی خدمت میں آکرعرض کیا: کیا ہم آپ کے اصحاب کا ثواب بالاتر ہےیا آخری امام کےاصحاب کا ثواب؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: آپ کے اعمال کا ثواب،آخری امام کے اصحاب کے ثواب سے زیادہ ہے۔ اس نے پوچھا: اس کی کیا وجہ ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: جس طرح کہ خفیہ طورپرصدقہ  دینےکا ثواب ظاہری طورپرصدقہ دینے سے زیادہ ہے اسی طرح تمہارے غریب اورمظلوم امام کے ہمراہ  مظلومانہ اورباطل حکومت سے خوف کی حالت میں تمہاری عبادت کا اجروثواب ظاہرامام کے ہمراہ اورحق کی حکومت کی تشکیل  کے دوران کی عبادت کے اجروثوا ب سے زیادہ ہے۔ باطل حکومت سے خوف کی حالت میں عبادت کی اہمیت، حق کی حکومت میں امن وامان کی حالت میں عبادت کی اہمیت  کےمساوی نہیں ہے۔ خوف کی حالت میں نماز کی اہمیت، امن وامان کی حالت میں نماز کی اہمیت سے پچیس برابر زیادہ ہے۔

امام صادق علیہ السلام اوران کےاصحاب مظلوم تھے؛ لیکن امام زمانہ علیہ السلام پوری کائنات کے  سربراہ ہیں اوران کے اصحاب مظلوم نہیں ہوں گے؛ زحمت کریں گے لیکن مظلوم نہیں ہوں گے۔ یہ بات واضح ہےکہ غربت اورمظلومیت کےساتھ عبادت اورزحمت کا اجروثواب زیادہ ہے اس عبادت سے کہ جو غربت اورمظلومیت کے فقدان کی صورت میں انجام دی جائے۔

اس صحابی نے امام علیہ السلام کےاس کلام سے ایک خاص نتیجہ نکال کر ایک اوراہم سوال پوچھا: اگر اس طرح ہے پس ہم امام زمانہ علیہ السلام کے ظہورکی تعجیل کے لیے کیوں دعا کریں؟ جب کہ ہم آپ کی امامت کے دورمیں ہیں اورہمارے اعمال کا ثواب زیادہ ہے؟

اس سے پہلےکہ ہم امام صادق علیہ السلام کا جواب سنیں، اپنے لیے اس سوال کی حساسیت کو مزید واضح کرتے ہیں تاکہ امام علیہ السلام کے جواب کی اہمیت کو مزید سمجھ سکیں۔

امام صادق علیہ السلام کے فرمان کےمطابق امام صادق علیہ السلام کے دورکےشیعوں کی نمازکا ثواب، ظہورکے دورکے شیعوں کی نماز کےثواب سے زیادہ ہے۔اب ایک سادہ سا سوال پوچھتے ہیں:( غیبت کے دورمیں نماز پڑھنے والے شیعوں کی نماز کا ثواب زیادہ ہے یا امام صادق علیہ السلام کے اصحاب کی نماز کا ثواب؟ بے شک غیبت کے دورکےشیعوں کی نماز کا ثواب زیادہ ہے کیونکہ غیبت کے دور کے شیعوں نے امام صادق علیہ السلام کو بھی نہیں دیکھا ہوا ہے۔

بنابریں اگرامام صادق علیہ السلام کے اصحاب کے اعمال کا ثواب ظہورکے دورکے اصحاب کے اعمال سے ایک درجہ بالاتر ہے تو ہمارے اعمال کا ثواب ظہورکے دورکے اصحاب کے اعمال سے دو درجہ بالاتر ہے۔ بالفاظ دیگر جب امام زمانہ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو ہمارے اعمال کا ثواب دو درجےنیچے آجائے گا۔ ایسی تشریح کے ساتھ ہم حضرت حجت علیہ السلام کےظہورکے قریب ہونے کی کیوں دعا کریں؟

اس وقت کیونکہ ہم برے اورسخت حالات سے دوچارہیں اصولی طورپر ہمارے اچھے کاموں کا ثواب کئی گنا ہونا چاہیے اورہمارے بعض گناہوں کا عذاب بھی کم ہونا چاہیے اورجوبھی اپنےگناہ سےتوبہ کرے تو فورا اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں لیکن جب امام زمانہ علیہ السلام تشریف لائیں گےتو ہمارے اچھے اعمال کا ثواب بھی کم ہوجائے گا اورہمارے گناہوں کا عذاب بھی دوگنا ہوجائے گا۔ کیوں؟ کیونکہ اگر کوئی امام زمانہ علیہ السلام کے دورمیں نمازپڑھے، زکواۃ دے تو اس نے کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا ہے، کیونکہ اس دور میں حق آشکار ہوچکا ہوگا۔ لہذا اگر کوئی غیبت کے دور میں شہید ہوجائے تو اس کی قدروقیمت اس شہید سے زیادہ ہےکہ جو امام زمانہ علیہ السلام کے دو رمیں شہید ہو۔ چونکہ حاضرامام کے لیے شہید ہونا انتہائی آسان کام ہے۔ دوسری جانب معلومات میں اضافہ ہوجاتا ہے اورگناہ کے وسائل کم ہوجاتے ہیں۔ ان تمام امورکے ساتھ ہم امام زمانہ علیہ السلام کے ظہورکی تعجیل کے لیے کیوں دعا کریں؟ پس کس تعلق کی خاطرظہورکے نزدیک ہونے کی دعا کریں؟ شاید بہتر ہو کہ ہم یہ دعا کریں کہ ظہور میں تھوڑی تاخیر ہوجائے تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ ثواب جمع کرسکیں۔

معلوم ہوتا ہےکہ مطلوبہ صورتحال کےعنوان سے مہدوی معاشرے کے تحقق کا اشتیاق اتنا سادہ اور معمولی بھی نہیں ہے۔ کبھی سوچتے ہیں کہ ہم مہدوی معاشرے کے تحقق کا اشتیاق رکھتےہیں اگرہم اپنے اشتیاق کابغورجائزہ لیں تو ممکن ہے کہ ہمارا یہ اشتیاق آہستہ آہستہ ختم ہوجائے۔

اب اگرہم روایت کی طرف آئیں تو امام صادق علیہ السلام کےاصحابی کے اس سوال کی قدروقیمت کا پتہ چلتا ہےکہ جس نے پوچھا تھا: ( اگرآپ کے زمانے میں ہمارے اعمال کا ثواب زیادہ ہے تو ہم اپنے آپ کے حضرت قائم علیہ السلام کے اصحاب میں سے ہونے کی کیوں دعا کریں؟ امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: سبحان اللہ ، کیا تم پسند نہیں کرتے ہوکہ اللہ تعالیٰ دنیا میں عدل اورحق کو آشکار کرے اوراپنے بندوں کے حالات بہترکرے اور پریشان اورپراگندہ دلوں کے درمیان الفت اوروحدت قائم کرے اوراللہ کی زمین پرگناہ اورمعصیت نہ ہو، لوگوں کے درمیان اللہ کی حدود کا اجراء ہو اور اللہ تعالیٰ حق کو اس کےاہل کی طرف پلٹا دے اورانہیں غالب قراردے یہاں تک کہ خلق کے خوف سے کوئی حق مخفی نہ رہے؟ اے عمار، اللہ کی قسم تم میں سےجو شخص بھی اس حال میں مرے گا  اللہ کے نزدیک اس کا مقام بدراوراحد کے شہداء سے بالاتر ہوگا۔ پس تمہیں بشارت ہو۔ ۔ ۔)

۶۱۶۲۱۰

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

نوجوانوں میں دینی اور انقلابی جذبے کی تقویت پر زور

خبررساں ایجنسی شبستان پیر کی صبح صوبہ یزد اور ہمدان کے تعلیمی اور ثقافتی امور کے عہدیداروں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے نوجوان نسل میں انقلابی اور جہادی جذبے کی تقویت پر زور دیا۔

منتخب خبریں