خبرگزاری شبستان

دوشنبه ۱۱ اردیبهشت ۱۳۹۶

الاثنين ٥ شعبان ١٤٣٨

Monday, May 01, 2017

وقت :   Thursday, March 16, 2017 خبر کوڈ : 67260
آیت اللہ مروجی طبسی:
سال کی آخری جمعرات کو اہل قبورکی زیارت کا فلسفہ
خبررساں ایجنسی شبستان: میں نےامام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: کیا آپ اہل قبور کی زیارت کو جاتے ہیں؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: ہاں۔ میں نے سوال کیا: جب ہم ان کی زیارت کے لیے جاتے ہیں تو کیا وہ ہمارے آنے سے باخبرہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں اللہ کی قسم وہ مطلع ہوتے ہیں اورخوش بھی ہوتے ہیں۔

 

حوزہ علمیہ قم کےاستاد آیت اللہ نجم الدین مروجی طبسی نےسال کی آخری جمعرات کو اہل قبورکی زیارت کی سنت کے بارے میں خبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگار سےگفتگو کے دوران کہا ہے کہ ہماری روایات میں قبروں کی زیارت کی ثقافت موجود ہے اوریہ فقط اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کےساتھ مختص نہیں ہے بلکہ اہل سنت کے درمیان بھی یہ سنت رائج ہے۔ البتہ ہم وہابیوں کو اہل سنت میں سےشمار نہیں کرتے ہیں کیونکہ ان کا اپنا ایک مخصوص نظریہ ہے۔

انہوں نےمزید کہا ہے کہ یہ جو کہا گیا ہےکہ ہماری روایا ت میں قبروں کی زیارت کا موضوع نقل ہوا ہے، البتہ اس سے مراد فقط ہم شیعہ نہیں ہیں،بلکہ تمام مسلمان اہل قبورکی زیارت پرمتفق ہیں اور وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی پیروی قراردیتے ہیں۔

آیت اللہ مروجی طبسی نے کہا ہےکہ کتاب وسائل الشیعہ کی جلد نمبر۳ کے باب دفن میت میں اس بارے میں متعدد روایات ذکر ہوئی ہیں۔ مثال کےطورپر راوی کہتا ہےکہ میں نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: کیا آپ  اہل قبور کی زیارت کو جاتے ہیں؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: ہاں۔ میں نے سوال کیا: جب ہم ان کی زیارت کے لیے جاتے ہیں تو کیا وہ ہمارے آنے سے باخبرہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں اللہ کی قسم وہ مطلع ہوتے ہیں اورخوش بھی ہوتے ہیں۔

 کتاب( الوہابیۃ، دعاوی وردود) کےمولف نے مزید کہا ہے کہ ایک اورروایت میں امام کاظم علیہ السلام سے نقل ہوا ہےکہ مومن، زائرکی زیارت سے مطلع ہوتا ہے۔ اسحاق بن عمارنے اس طرح نقل کیا ہے کہ میں نے امام علیہ السلام سے پوچھا: کیا  مومن شخص اپنے رشتہ داروں کے قبرپرآنے سے باخبرہوتا ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: ہاں وہ بہت خوش ہوتا ہے ،جب تک آپ اس کی قبر کے پاس رہتے ہیں وہ خوش ہوتا ہے اورجب وہاں سے اٹھ کرجاتے ہیں تو وہ پریشان ہوجاتا ہے۔ اسی طرح امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کی  روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: اپنے مردوں کی زیارت کے لیے جاو کیونکہ وہ خوش ہوتے ہیں اوراگرتمہاری کوئی حاجت ہے تو اسے اپنے والدین کی قبر کے پاس بیان کرو۔

انہوں نے اس بات پرزور دے کرکہا ہے کہ ہماری روایات میں آیا ہے کہ ہفتے، سوموار، جمعرات اورجمعہ کو اہل قبورکی زیارت کے لیے جاو۔ اس بارے میں  متعدد روایات موجود ہیں۔

دینی مسائل کےماہر نےمزید کہا ہےکہ صفوان جمال کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہرشب جمعہ کو اپنے اصحاب کے ساتھ جنت البقیع کے قبرستان میں جایا کرتے تھے اوراہل قبور کی زیارت کرتے ہوئے فرماتے تھے: (السلام علیکم یا اھل الدیار) اورتین مرتبہ اس جملے کی تکرارکیا کرتے تھے۔اس کے بعد فرمایا: (رحمکم اللہ)، اللہ تعالیٰ تم پراپنی رحمت نازل کرے اورتین مرتبہ اس جملے کی بھی تکرار کیا کرتے تھے۔

آیت اللہ مروجی طبسی نےکہا ہےکہ امام صادق علیہ السلام کی ایک اورحدیث میں ہےکہ آپ نے فرمایا: تم جب بھی قبرستان میں جاو تو کہو:( السلام علی اھل الجنہ) اہل جنت پرسلام ہو۔ یہ عبارت درحقیقت ایک قسم  دعا اورامید ہے یعنی ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سب افراد کو اہل جنت میں سے قراردے۔

انہوں نے مزید کہا ہےکہ امام رضا علیہ السلام ایک روایت میں فرماتے ہیں: سات مرتبہ سورہ قدر کی تلاوت اہل قبرکے لیےامان کا باعث بنتی ہے اوراس کے علاوہ اس شخص کی مغفرت اورسلامتی کا سبب بھی بنتی ہے کہ جو یہ سورہ پڑھتا ہے۔

انہوں نے اس بات پرزوردے کرکہا ہے کہ قبرپرہاتھ  رکھنے کےبارے میں متعدد روایات موجود ہیں کہ جو اس عمل کے جائز ہونے پردلالت کرتی ہیں۔اسی طرح قبرپرپانی  ڈالنے کے بارے میں روایات موجود ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہےکہ میت کے دفن کے وقت یہ عمل انجام دیا جاتا ہے۔ امام رضا علیہ السلام سے نقل ہونے والی روایت سے استفادہ کرتے ہوئے فقہاء نے چالیس دن یا چالیس مہینے تک قبرپرپانی ڈالنے کےاستحباب کا استفادہ کیا ہے۔

حوزہ علمیہ قم کے استاد نے آخرمیں کہا ہےکہ انسان جتنا زیادہ موت کی یاد میں ہواتنا ہی وہ  دنیا اورشہوت پرکم توجہ دیتا ہے۔ موت کی یاد سے معاشرہ کنٹرول ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری اسلامی تعلیمات میں مرنے والوں کو یاد کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ لیکن یہ جو سال کے آخری جمعرات یا جمعہ کو اہل قبور کی زیارت کوجائیں یہ مردوں پرایک قسم کا ظلم ہے کیونکہ وہ پورا سال ہماری جانب سے چھوٹے سے چھوٹے ہدیہ اورنیک عمل کے منتظر ہیں ۔ لہذا اسے سال کے آخری ہفتے میں محدود نہ کریں۔

۶۱۶۹۴۱

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

آیت اللہ زین العابدین قربانی:

حجت الاسلام قرائتی سادہ زبان تبلیغ اسلام کے بانیوں میں سے ہیں

سماجی: ایران کے صوبہ گیلان میں نمائںدہ ولی فقیہ نے کہا حجت الاسلام قرائتی سادہ اور فنی زبان میں تبلیغ اسلام کے بانیوں میں سے ہیں۔

منتخب خبریں