خبرگزاری شبستان

پنج شنبه ۱ تیر ۱۳۹۶

الخميس ٢٨ رمضان ١٤٣٨

Thursday, June 22, 2017

وقت :   Thursday, March 16, 2017 خبر کوڈ : 67262

کیا امام مہدی(عج) کی ولادت کی احادیث معتبر ہیں؟
خبررساں ایجنسی شبستان: حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں احادیث کہ جو تواتر سےبھی بالاتر ہیں، کے ساتھ خبرواحد کا سلوک نہیں کیا جاسکتا ہے اوران احادیث کے ہرایک راوی کا تنقیدی جائزہ نہیں لیا جاسکتا ہے اوران کی وثاقت ثابت نہ ہونے کی صورت میں ان احادیث پراعتراض نہیں کیا جاسکتا ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگارکی رپورٹ کےمطابق حضرت مہدی موعود(عج) ثقافتی فاونڈیشن کے شعبہ تحقیقات کی کوششوں سے آمادہ کیے جانے والےمطالب میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت اوران کی سند کے معتبر ہونے کے بارے میں مطالب پیش کیے جاتے ہیں:

کیا امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سےمربوط احادیث ضعیف اورمجہول السند ہیں؟

 ہماری کوشش ہے کہ ہم  چند نکات میں اس سوال کا جواب پیش کریں:

۱۔ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں نقل ہونےوالی احادیث کی تعداد ایک ہزارسے زیادہ ہے کہ جو مطابقی، تضمنی اورالتزامی دلالت کے اعتبار سےامام مہدی علیہ السلام کی ولادت پردلالت کرتی ہیں۔ بنابریں اگرچہ ان میں سے بعض احادیث کی سند ضعیف اورمجہول ہو لیکن دیگر بہت سی روایات کی سند صحیح ہونےکے پیش نظریہ ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں اوریوں سب کی سب حجت بن جاتی ہیں۔ بنابریں اس طریقے سے ہم ان تمام روایات کے صحیح ہونے کا استفادہ کرتے ہیں اوریہ وہی طریقہ ہےکہ جسے شیعہ اورسنی علماء نے استعمال کیا ہے۔

۲۔  اہل سنت کےمعروف محدث ناصر الدین البانی نےاپنی کتاب( سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ) میں مختلف طریقوں سےحدیث ثقلین کی تصحیح کرنے کے بعد لکھتے ہیں: کئی عرصہ پہلےاس حدیث کے استنباط کے بعد مجھے دمشق سےعمان کی جانب سفر کرنے کا ایک دعوت نامہ بھیجا گیا۔ اس کےبعد ۱۴۰۲ھ کے اوائل میں وہاں سےامارات گیا۔ قطر میں بعض اساتذہ اورڈاکٹروں ( ظاہرا اس کی مراد قطرکے شریعت کالج میں فقہ واصول کے استاد ڈاکٹرعلی احمد سالوس) سےملاقات کی تو اس وقت کالج کے ایک شخص نے حدیث ثقلین  کے ضعیف ہونے کے بارے میں ڈاکٹر سالوس کا ایک ایک رسالہ مجھے دیا۔ اس رسالےکو پڑھنےکے بعد میں سمجھ گیا کہ اس رسالہ کا رائٹر،علم حدیث سے زیادہ آگاہی نہیں رکھتا ہے اوراس نے دو اعتبار سےغلطی کی ہے کہ اوراسے ان کی یاد دہانی کروائی۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ اس نے حدیث ثقلین کے حوالے سے فقط بعض شائع ہونے والےرائج مآخذ پراکتفا کیا تھا لہذا اس نے حدیث کے طریقوں کے بارے میں بہت سنجیدہ غلطی کی تھی۔ اس نے اس حدیث کی بہت سی سندوں اوراس کے طریقوں کو مستقل یا صحیح یا حسن جیسے شواہد کو ضمیمہ کیے بغیراس حدیث کی بہت سی سندوں اوراس کے طریقوں کو فراموش کردیا تھا چہ جائیکہ کہ یہ حدیث بہت سے شواہد اورقرائن بھی رکھتی ہے۔

دوسری وجہ یہ تھی کہ اس نے علم حدیث کے علماء اوراس کے مصححین اور حدیثی اصطلاحات میں موجود قواعد پرتوجہ نہیں کی تھی۔ کیونکہ حدیث اگرچہ ضعیف ہو لیکن طرق کی کثرت کی وجہ سے معتبرہوجاتی ہے۔ لہذا اس سے ایک واضح غلطی سرزد ہوئی تھی اوریوں اس نے حدیث کو ضعیف قراردے دیا تھا۔(۱)

۳۔ مسلّمہ اعتقادی اورکلامی مسائل کےبارے میں امامیہ کے طریقے سےجو احادیث شیعوں تک پہنچی ہیں کیونکہ امامیہ کے نزدیک ان کا مضمون اورمفاد مسلّم اورثابت ہے لہذا ان احادیث کے راویوں کے بارے میں کوئی جرح وتعدیل نہیں کی گئی ہے؛ کیونکہ اس چیزکی ضرورت نہیں ہے اورانہیں احادیث میں سے امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کی احادیث بھی ہیں۔

۴۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں احادیث کہ جو تواتر سے بھی بالاتر ہیں، کے ساتھ خبرواحد کا سلوک نہیں کیا جاسکتا ہے اوران احادیث کے ہرایک راوی کا تنقیدی جائزہ نہیں لیا جاسکتا ہے اوران کی وثاقت ثابت نہ ہونے کی صورت میں ان احادیث پراعتراض نہیں کیا جاسکتا ہے

۵ ۔ کسی کو نص کے مقابلے میں اجتہاد کرنےکا حق حاصل نہیں ہے۔ بنابریں اگرکچھ دلیلیں امام مہدی علیہ السلام کی ولادت اوران کے وجود پرنص ہیں اوران کی سند بھی کامل ہے بلکہ متواتر ہے تو کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ کہےکہ میں مجتہد ہوں اورمجھےامام مہدی علیہ السلام سےمربوط روایات میں اجتہاد کرنےکا حق حاصل نہیں ہے؛ کیونکہ اس قسم کا اجتہاد، نص کے مقابلے میں اجتہاد ہے کہ اپنے مقام پرجس کے بطلان کا حکم مشخص ہے۔

۶۔ دائرہ کے وسیع اورمحدود ہونے کے اعتبار سے تواتر کی کچھ قسمیں ہیں: الف) بعض اوقات تواتر کا دائرہ، بہت زیادہ وسیع ہےمثلا پہلی اوردوسری عظیم جنگوں کے وقوع پذیر ہونےکی خبرکا متواتر ہونا۔ ب) بعض اوقات تواتر کا دائرہ پہلی قسم سے محدود ہے جیسے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کےقیام کا واقعہ۔ ج) بعض اوقات تواتر کا دائرہ ، دوسری قسم سے بھی محدودترہےجیسےلغت، صرف ونحو، اشتقاق اوربلاغت جیسے ادبیات عرب کے قواعد وغیرہ۔ کیونکہ عرب زبان کے تمام متکلمین ادبیات عرب کی تمام خصوصیات سے آگاہ نہیں ہیں بلکہ علم ادب کے علماء ہیں کہ جواس علم کی خصوصیات سے دقیق باخبر ہیں۔

۷۔ اس نکتے کو بیان کرنے سے واضح ہوجاتا ہےکہ جن افراد نےامام حسن عسکری علیہ السلام کی وفات کے بعد کچھ شیعوں کے درمیان حیرانگی کے واقعہ سےغلط استفادہ کرکےاسے موضوع کے متواتر احادیث کے ساتھ متضاد ہونے کا اعتراض کیا ہے وہ ایک انتہائی کمزور اورسست اعتراض ہے، کیونکہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ خبرکے تواترمیں فقط ہرطبقےکے راویوں کی ایک جماعت کا تحمل کرنا کافی ہے اورپوری امت اورتمام راویوں کے باخبرہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

۸۔ آخری جو چیز کہی جاسکتی ہے کہ وہ یہ ہے کہ اس تواترکا دائرہ وسیع نہیں ہے بلکہ متوسط یا محدود ہے اوریہ چیز ریاضی اورعقلی قانون کے تحت تواترکے نچلے درجےکے حصول کے ساتھ منافات نہیں رکھتا ہے اوریہ ایک واضح غلطی ہے کہ کوئی یہ گمان کرے کہ تواترفقط ایک قسم پرصادق ہے اوراس دائرہ سے زیادہ کو شامل نہیں ہے۔

۹۔ ایک محقق شخص امام عسکری علیہ السلام کے دور کے سیاسی حالات کاجائزہ لینے کے بعد یہ اطمینان پیدا کرلیتا ہےکہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے مربوط احادیث کے راویوں کی جہالت کا ایک سبب وہی سیاسی دباو تھا کہ جو اس دورکے ظالم حکمرانوں کے ذریعے شیعوں پرڈالا گیا تھا۔ لہذا بہت سے راوی اپنے آپ کا  دیگرناموں سےتعارف کرواتے تھےتاکہ پہچانےنہ جائیں۔ بالخصوص ہم جانتے ہیں کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے جانشین کی صورتحال کے بارے میں سوال کرنے والے کچھ افراد کا تعلق دیگرعلاقوں سے تھا کہ جو سامرا میں آتے تھے اور وہ شیعوں کے خاص افراد اورمعروف صحابیوں میں سے نہیں تھے۔

البتہ ایک محقق شخص ایسی احادیث کہ جو امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کےمتعلق ہیں، کے مجموعہ کی طرف رجو ع کرکے ایسی بہت  ساری احادیث کو حاصل کرلیتا ہے کہ جن کی سند تام اورصحیح ہے اورانہیں مستفاضہ احادیث قراردیا جاسکتا ہے۔ تاہم بعد میں کسی اورآرٹیکل میں اس کی طرف اشارہ کیا جائے گا۔

ماخذ:

1) ...  بعد تخریج هذا الحدیث بزمن بعید، کتب علیّ أن اهاجر من دمشق الی عمان، ثم أن أسافر منها الی الامارات العربیه؛ أوائل سنه ۱۴۰۲ هجریه، فلقیت فی قطر بعض الأستاذه و الدکاتره الطیبین، فأهدی الیّ أحدهم رساله له مطبوعه فی تضعیف هذا الحدیث فلمّا قرأتها تبیّن لی انّه حدیث عهد بهذه الصناعه و ذلک من ناحیتین ذکرتهما له: الأولی: انه اقتصر فی تخریجه علی بعض المصادر المطبوعه المتداوله و لذلک قصر تقصیراً فاحشاً فی تحقیق الکلام علیه، وفاته کثیر من الطرق و الأسانید التی هی بذاتها صحیحه أو حسنه فضلاً عن الشواهد  و المتابعات کما یبدو لکل ناظر یقابل تخریجه بما خرجته هنا.الثانیه: انه لم یلتفت الی أقوال المصححین للحدیث من العلمإ ولا الی قاعدتهم التی ذکروها فی مصطلح الحدیث: انّ الحدیث الضعیف یتقوی بکثره الطرق، فوقع فی هذا الخطأ الفادح من تضعیف الحدیث الصحیح. (.سلسله الأحادیث الصحیحه، ناصرالدین البانی وهابی، چاپ ریاض، ج ۴، ص ۳۵۸٫)

۶۱۷۳۲۷

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

حجۃ الاسلام حسن روحانی:

ایرانی عوام کی کامیابیاں،اللہ کی راہ میں قربانی اورجہاد کےمرہون منت ہیں

خبررساں ایجنسی شبستان: ایرانی صدر نےشہداء کےاہل خانہ کی ضیافت افطارمیں شہادت اورقربانی کوانتہائی گرانقدراورعظیم قراردیتے ہوئےکہا ہے کہ ایرانی عوام کی کامیابیاں، اللہ کی راہ میں قربانی اورجہاد کے مرہون منت ہیں۔

منتخب خبریں