خبرگزاری شبستان

شنبه ۱ مهر ۱۳۹۶

السبت ٣ المحرّم ١٤٣٩

Saturday, September 23, 2017

وقت :   Wednesday, April 12, 2017 خبر کوڈ : 67484
قائد انقلاب اسلامی:
امیرالمومنین(ع) کی خلفاء کےلیےہدایات اورقربانیاں
خبررساں ایجنسی شبستان: امیرالمومنین علیہ السلام نےتین خلفا کےپچیس سالہ دورحکومت کے دوران اپنے تعاون کو وزارت کےعنوان سے یاد کیا ہے۔ عثمان کے قتل کے بعد لوگ جب امیرالمومنین علیہ السلام کے پاس آئے توآپ نے فرمایا: امیربننے سے بہترہےکہ میں وزیرہی رہوں۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق قائد انقلاب اسلامی کے بیانات پرمشتمل کتاب( انسان ۲۵۰سالہ) میں امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کے سیاسی اورجہادی طرززندگی کے بارے میں آیا ہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد امیرالمومنین علی علیہ السلام کی زندگی کا سخت ترین دورتھا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ تھے تو آپ، ان کے سائے میں جہاد کیا کرتے تھے اوربہت اچھے دن تھے۔ لیکن ان کی رحلت کے بعد امیرالمومنین علیہ السلام نے ایثار وقربانی کے بہت سخت ترین اورعظیم امتحان دیےہیں۔

پیغمبراکرم صلی اللہ کی رحلت کےوقت آپ کی ساری توجہ اپنی ذمہ داری پرمرکوزتھی البتہ آپ جانتے تھےکہ کچھ لوگ جمع ہوکرحکومت اوراقتدارکی بات کررہے ہیں۔ جبکہ امیرالمومنین علیہ السلام کےلیے یہ بات اہم نہیں تھی۔ جب لوگوں نے ابوبکر کی بیعت کرلی تو امیرالمومنین علیہ السلام اعتراض کے باوجود ایک سائیڈ پرہوگئےتھے اورآپ کی طرف سے حکومت کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ امیرالمومنین علیہ السلام ان سالوں کے دوران فقط چند مقامات پرفرمایا تھا: «لَقَد عَلِمتُم أنّی أحَقُّ النّاسِ بِها مِن غَیری»۔ تم جانتے ہو کہ میں تمام لوگوں سے زیادہ خلافت کا حقدارہوں اوراسے  تم بھی جانتے ہو۔ «و واللَّه لأَسْلِمَنَّ» اللہ کی قسم میں اس وقت تک تسلیم رہوں گا جب تک مسلمانوں کےامورسلامتی کے ساتھ انجام پاتےرہیں گے۔(«ما سَلِمَتْ أمورُ المُسلِمینَ)۔ جب تک لوگوں پرظلم وستم نہیں ہوگا اورفقط میں مظلوم ہوں اس وقت تک میں کوئی اقدام نہیں کروں گا اورکوئی اعتراض اور مزاحمت ایجاد نہیں کروں گا۔ (نہج البلاغہ، خطبہ نمبر۷۴)

امیرالمومنین علیہ السلام ان پچیس سالوں کے دوران کبھی بھی قیام کرنے، طاقت اوراقتدارکے حصول  کے لیے لوگوں کو جمع کرنےکے بارے میں نہیں سوچا ہے۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے وقت آپ کی عمر۳۰ یا ۳۳سال تھی کہ جو جوانی اورجسمانی طاقت پرمشتمل تھی اور لوگوں کے درمیان مقام ومنزلت، بہت زیادہ علم اورطاقت کے باوجود آپ نے کوئی اقدام نہیں کیا۔

اس کے بعد چھ افراد کی شورای میں آپ کوشرکت کی دعوت دی گئی۔ امام علیہ السلام نے اس شورای میں بھی شرکت کی اورنہیں فرمایا کہ ہم ان کے ہم پلہ نہیں ہوں، طلحہ وزبیرکہاں اورمیں کہاں ، عبدالرحمان بن عوف اورعثمان کہاں اورمیں کہاں۔ اس شورای میں بھی عبدالرحمان بن عوف کا ووٹ کاسٹنگ ووٹ تھا یعنی اگروہ امیرالمومنین علیہ السلام کی بیعت کرلیتا تو امیرالمومنین علیہ السلام خلیفہ بن جاتے۔ لہذا اس نےامیرالمومنین کی طرف منہ کرکے تجویز دی کہ آپ اللہ کی کتاب، سنت رسول اورسیرت شخین کے مطابق حرکت کریں۔ توامام علیہ السلام نے فرمایا: میں اللہ کی کتاب اورسنت رسول کوقبول کرتا ہوں لیکن سیرت شیخین سےمیرا کوئی تعلق نہیں ہےمیں اپنےاجتہاد پر عمل کروں گا اوران کےاجتہاد سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یعنی آپ تھوڑی سی چشم پوشی کرکے حکومت حاصل کرسکتے تھے لیکن امیرالمومنین علیہ السلام نے ایسا سوچا بھی نہیں تھا اوراس طرح حکومت ہاتھوں سے نکل گئی۔ یہاں پربھی آپ نےایثارکیا ہےاوراپنے آپ کو پیش نہیں کیا ہے۔ امیرالمومنین علیہ السلام ابتداء سے ہی اس قسم کے جذبات کا اظہارنہیں کیا کرتے تھے۔

۶۲۰۹۸۸

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

آیت اللہ سید احمد میرعمادی:

مکتب عاشورا کا اہم ترین درس خدا کیلئے قیام ہے

سماجی: ایران کے صوبہ لرستان میں نمائندہ ولی فقیہ نے ذلت پر عزت کو ترجیح دینے کو مکتب حسینی کا عظیم درس قرار دیتے ہوئے کہا قیام عاشورا کا سب سے بڑا درس خدا کیلئے قیام ہے۔

منتخب خبریں