خبرگزاری شبستان

یکشنبه ۱۰ اردیبهشت ۱۳۹۶

الأحد ٤ شعبان ١٤٣٨

Sunday, April 30, 2017

وقت :   Saturday, April 15, 2017 خبر کوڈ : 67512
قائد انقلاب اسلامی:
علوی حکومت، مظلومیت کےباوجود طاقتوراورکامیاب حکومت تھی
خبررساں ایجنسی شبستان: اس حکومت کا دورمظلومیت کا باوجود ایک طاقتوراورکامیاب حکومت کا دورتھا۔ یعنی آپ نے اپنے دورمیں دشمنوں کو گھٹنےٹیکنےپرمجبورکیا اورپھراپنی مظلومانہ شہادت کےبعد پوری تاریخ میں مشعل کی طرح روشن باقی رہے ہیں۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق قائد انقلاب اسلامی کے بیانات پرمشتمل کتاب(انسان ۲۵۰ سالہ) میں امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کی سیاسی اورجہادی طرززندگی کے بارے میں آیا ہے:

امیرالمومنین علیہ السلام کی شخصیت اورزندگی میں تین ایسےعناصرجمع ہوئےہیں کہ جو ظاہری طورپرایک جگہ پرجمع نہیں ہوتے ہیں۔ یہ تین عناصرمندرجہ ذیل ہیں: اقتدار، مظلومیت اورکامیابی۔

امیرالمومنین کا اقتدار،ان کے فولادی ارادے، پختہ عزم اورمشکل ترین عسکری میدانوں، اسلامی اورانسانی اعلیٰ مفاہیم کی جانب مختلف ذہنوں اورفکروں کی ہدایت اورمالک اشتر،عماریاسر، ابن عباس اورمحمد بن ابی بکرجیسے عظیم انسانوں کی تربیت میں قدرت اورطاقت مراد ہے۔ امیرالمومنین علیہ السلام کی شخصیت میں کوئی کمزورپوائنٹ موجود نہیں ہے۔ لیکن اس کےباوجود تاریخ کےایک مظلوم ترین شخص ہیں اور آپ کی پوری زندگی میں مظلومیت دکھائی دیتی ہے۔ جوانی کےدورمیں مظلوم واقع ہوئے، خلافت اوربڑھاپے کے دورمیں مظلوم واقع ہوئے اورپھرشہادت کے بعد کئی سال تک آپ کی مظلومیت باقی رہی ہے۔

تیسرا عنصرآپ کی کامیابی ہے۔ کامیابی یہی ہےکہ سب سے پہلے آپ اپنی زندگی میں تمام دشواریوں اورسختیوں کےباوجود کامیاب رہے۔ یعنی دشمن ،علی علیہ السلام کو گھٹنےٹیکنےپرمجبورنہ کر سکے بلکہ وہ سب شکست کھاگئے تھے۔ آپ کی شہادت کے بعد روز بروز آپ کی شخصیت واضح ترہوتی گئی۔ آج بھی آپ پوری دنیا میں دیکھ لیں کہ کتنےایسے افراد ہیں کہ جو مسلمان تو نہیں ہیں لیکن امام علی علیہ السلام کو تاریخ اسلام کا ایک چمکتے ہوئے ستارے کے عنوان سے قبول کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مظلومیت کے بدلے میں انہیں یہ اجروثواب عطا کیا ہے۔

 عبداللہ بن عروہ بن زبیر کا بیٹا اپنے باپ کے سامنے امیرالمومین علیہ السلام کو برا بھلا کہتا ہے۔ مصعب بن زبیرکےعلاوہ باقی پوراخاندان زبیرامیرالمومننین علیہ السلام کا دشمن تھا۔ مصعب بن زبیرایک شجاع اورکریم انسان تھا اوریہ حضرت سکینہ کا شوہربھی تھا یعنی امام حسین علیہ السلام کا داماد۔ اس برا بھلا کہنے کے بعد اس کا باپ اس کے سامنے ایک جملہ  کہتا ہے کہ جس میں ایک اہم نکتہ موجود ہے۔ عبداللہ اپنےبیٹے سےکہتا ہے: «واللَّه یابنی النّاس شیئا قطّ الّا هدمه الدّین و لابنی الدّین شیئا فاستطاعت الدّنیا هدمه» جو عمارت بھی دین کے اوپرقائم کی گئی ہے اہل دنیا نے اسے جتنا بھی گرانا چاہا ہے گرا نہیں سکے ہیں یعنی بیہودہ زحمت نہ کریں اس لیے کہ امیرالمومنین علیہ السلام کا نام دین اورایمان پرقائم ہے لہذا وہ منہدم نہیں ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد کہتا ہے: «الم تر الی علی کیف تظهر بنو مروان عیبه و ذمّه فکانّمایأخذون بناصیتة رفعا الی السّماء» کیا تم نے نہیں دیکھا کہ بنی مروان نے کس طرح ہرموقع پرعلی بن ابی طالب علیہ السلام کو برا بھلا کہا ہے لیکن ان تمام تر برائیوں کے باوجود آپ کا چہرہ زیادہ چمکا ہے، یعنی لوگوں کے ذہنوں میں ان برائیوں کا الٹا اثرپڑا ہے۔ اس کے مقابلے میں بنی امیہ نے اپنے بڑوں کی جتنی بھی تعریفیں کی ہیں لوگوں کےذہنوں میں ان سے نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ شاید امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت کے تیس سال بعد یہ بات کہی گئی ہے۔ یعنی امیرالمومنین اپنی تمام ترمظلومیت کے باوجود اپنی زندگی اورپوری تاریخ اور بشریت کے ذہنوں میں کامیاب ہیں۔

اسی طرح امیرالمومنین علیہ السلام کی مظلومیت کے ساتھ آپ کےاقتدار کا نمونہ یہ ہےکہ امیرالمومنین علیہ السلام کو اپنی حکومت کے دوران تین گروہوں قاسطین، ناکثین اورمارقین کے ساتھ جنگ کرنا پڑی۔  اپنی حکومت کے دورمیں امیرالمومنین علیہ السلام کا پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکومت کے درمیان عمدہ فرق یہ تھا کہ آنحضرت کے دور میں دشمن مشخص تھا۔ لیکن امیرالمومننین علیہ السلام کےدورمیں دشمن کی صفیں مشخص نہیں تھیں۔ کیونکہ طلحہ اورزبیر جیسی شٰخصیات کو سب جانتے تھےاورزبیروہی شخص تھا کہ جس نے امیرالمومنین علیہ السلام کی حمایت میں سقیفہ پراعتراض کیا تھا۔ جی ہاں بعض اوقات دنیا پرستی اوردنیا کی زیبائیاں اس طرح موثرواقع ہوتی ہیں کہ انسان خواص کے بارے میں بھی شک وتردید کا شکارہوجاتا ہے۔ بنابریں یہ انتہائی سخت ایام تھے۔

امیرالمومنین فرماتے ہیں: «لا یحمل هذا العلم الا اهل البصر و الصّبر».  یعنی علم کو برداشت کرنے کے لیے سب سے پہلے بصیرت ضروری ہے۔

۶۲۱۹۱۸

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

ایران میں پاکستانی قونصل جنرل کی طلبی، پاک، ایران سرحد پر دہشتگردی واقعے پر شدید احتجاج

شبستان نیوز ایجنسی: پاک،ايران سرحد کے قريب ميرجاوہ کے علاقے ميں ايراني فورسز پر دہشت گردوں کے حملے سے اہلکاروں کي شہادت پر صوبہ سيستان و بلوچستان کے گورنر جنرل نے پاکستاني قونصل جنرل کو طلب کرکے اس واقعے پر احتجاج کيا.

منتخب خبریں