خبرگزاری شبستان

چهارشنبه ۱ آذر ۱۳۹۶

الأربعاء ٤ ربيع الأوّل ١٤٣٩

Wednesday, November 22, 2017

وقت :   Sunday, April 16, 2017 خبر کوڈ : 67523

چراغ کی طرح روشن دلوں کے بارے میں امام باقر(ع) کی روایت
خبررساں ایجنسی شبستان: امام باقرعلیہ السلام ایسے دلوں کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ دل کہ جو ازہر ہیں یعنی ایسے دل کہ جو چراغ کی طرح چمکتے ہیں اورضوء افشانی کرتے ہیں۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق کتاب کافی کی جلد نمبردو کے باب الایمان والکفرمیں دل کی حالت کی تبدیلی اوراس کی تاریکی نامی باب میں امام باقرعلیہ السلام کی ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ جس میں امام علیہ السلام نے دلوں کو چارقسموں میں تقسیم کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ بعض دلوں پرمہرلگ چکی ہے اوراب ان میں نورحق کے چمکنےکی کوئی امید نہیں ہے۔ دوسری قسم ایسے دلوں کی ہےکہ جن پرمہرتونہیں لگی ہے لیکن وہ الٹے ہیں جس طرح کہ ایک برتن الٹا پڑا ہو۔ اس الٹے پڑے ہوئے برتن پرجب بارش ہوتی ہے تو یہ برتن اس بارش سےاستفادہ نہیں کرسکتا ہے۔ امام فرماتے ہیں کہ یہ دل الٹے ہیں لیکن اپنی حالت کو تبدیل کرسکتے ہیں یعنی ممکن ہے کہ یہ برتن اپنی پہلی حالت پرلوٹ جائے اوربارش سےاستفادہ کرسکے۔ تیسری قسم ایسے دلوں کی ہےکہ جو منحرف ہیں اورعوامانہ تعبیرکے مطابق نہ تو سیدھے پڑے ہوئے ہیں اورنہ ہی الٹے ہیں بلکہ ان دونوں کی درمیان حالت میں ہیں۔

چوتھی قسم ایسے دلوں کی ہےکہ جو پسندیدہ اورمطلوب حالت رکھتے ہیں اورانوارحق کی چمک کے سامنے ہیں۔ امام باقر علیہ السلام اس روایت میں پہلےدل کہ جس پرمہرلگی ہوئی ہے، کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ دل، منافق کا دل ہے۔ منافقت کینسرسے بھی بری ہے۔ یہ دل کی بدترین حالت ہے اورحق سے بہت دور ہے۔ دوسری قسم کے دل، کافروں اورمشرکین کے دل ہیں کہ جن کا معنویت سے کوئی تعلق نہیں ہے اوران کے دل دنیا کے روزہ مرہ کے کاموں میں مشغول ہیں۔ ایسے افراد نورحق اوررحمت الہی کی بارش سے کوئی استفادہ نہیں کرسکتے ہیں۔ البتہ یہ خود نقصان اٹھاتے ہیں کیونکہ اللہ کو ہماری ضرورت نہیں ہے چونکہ اگرہم نےاس کی طرف پشت کی اورگناہ کیا توہم انسانی عزت وکرامت سے محروم ہوجائیں گے اسے تو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے۔ تیسری قسم کے دل نہ تو صاف ہیں اورنہ الٹے ہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان کی حالت پرقائم ہیں۔ ان کے اندرایمان بھی ہے اورمنافقت بھی۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ایسے افراد دعاوں کےپروگراموں میں بھی جاتے ہیں اور کبھی کبھی لہوولعب کے پروگراموں میں بھی شرکت کرتے ہیں، یہ اللہ کی محبت بھی رکھتے ہیں اور شیطان کی محبت بھی۔ اس قسم کے افراد کو خطرہ لاحق ہے۔ چوتھی قسم کے دل نورانی اورپاک و طاہردل ہیں۔ امام باقرعلیہ السلام ایسے دلوں کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو دل ازہر ہیں یعنی چراغ کی طرح منوراورروشنی عطا کرتے ہیں یہ اطہرہیں یعی طیب وطاہرہیں۔ امام علیہ السلام اس قسم کے دل رکھنے والوں کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ جب انہیں نعمت دیتا ہے تو وہ اس نعمت پراس کا شکرادا کرتے ہیں اوروہ جانتے ہیں کہ جو کچھ ہےاسی کا ہے۔ جانتے ہیں کہ شکر کے بھی درجات ہیں۔ زبانی شکرسے لے کرقلبی اورعملی شکرتک۔ جب کوئی عملی شکرکے مرتبے پرپہنچ جائے تو اس وقت وہ ملنے والی نعمتوں کو ایسے راستے پرقراردیتا ہے کہ جو اس کی سعادت کا باعث بنتی ہیں۔ اس قسم کے دل کا مالک انسان اپنے آپ سے پوچھتا ہےکہ میں اپنی اس آنکھ ، کان، زبان اورفکرکی کس طرح حفاظت کروں تاکہ ان نعمتوں کا شکرادا کرسکوں۔

۶۲۱۲۱۵

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

عرب لیگ کے بیان پر حزب اللہ کے سربراہ کا شدید ردعمل

خبررساں ایجنسی شبستان حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب میں حزب اللہ اور ایران کے خلاف عرب لیگ کے اجلاس کے اختتامی بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ اور ایران پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ دشمنوں کی طرف سے ہمیشہ اس قسم کے الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں

منتخب خبریں