خبرگزاری شبستان

چهارشنبه ۲۶ مهر ۱۳۹۶

الأربعاء ٢٨ المحرّم ١٤٣٩

Wednesday, October 18, 2017

وقت :   Wednesday, April 19, 2017 خبر کوڈ : 67552

حضرت زہرا(س) کا اپنے خطبہ فدکیہ میں پچاس سےزائد قرآنی آیات سےاستفادہ
خبررساں ایجنسی شبستان: حجۃ الاسلام حسینی قمی نےحضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی میں قرآن کریم کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہےکہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبہ فدکیہ میں قرآن کریم کی پچاس سے زیادہ آیات کی تلاوت کی تھی۔

خبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگارکی رپورٹ کےمطابق تہران کی بلدیہ کےشعبہ امورخواتین اورمحکمہ اوقاف وخیراتی امور کے تعاون سے امام خمینی مصلی میں قرآنی مبلغ خواتین کا نواں سیمینارمنعقد ہوا ہے جس میں محکمہ اوقاف کےاساتذہ اورعہدیداروں نے شرکت کی ہے۔

حجۃالاسلام حسینی قمی نےاس سیمینار میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زندگی میں قرآن کریم کی اہمیت کے چارمرحلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ سب سے پہلےمرحلے میں آپ سلام اللہ علیہا کی زندگی میں تلاوت قرآن کریم کی اہمیت ہے۔

انہوں نے اس مطلب کہ اہل بیت علیہم السلام ہرتین دنوں میں ایک مرتبہ قرآن کریم کو ختم کیا کرتے تھے، کی وضاحت کرتے ہوئےکہا ہےکہ بنابریں قرآن کریم کی مبلغہ خواتین کواپنی تبلیغ میں روزانہ کی بنیاد پرقرآن کریم کی تلاوت کو اہمیت دینی چاہیے۔

انہوں نے قرآن کریم کےساتھ گفتگو کرنے کا دوسرا مرحلہ قراردیتے ہوئےکہا ہےکہ جب انسان قرآن کریم سے مانوس ہوجاتا ہے تو وہ قرآنی گفتگو کرسکتا ہےجیسا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنےخطبہ فدکیہ میں قرآن کریم کی پچاس سے زائد آیات کی تلاوت کی تھی۔

حجۃ الاسلام حسینی قمی نے قرآن کریم سےمتاثرہونے کو تیسرا مرحلہ قراردیتے ہوئےکہا ہے کہ اگرانسانی زندگی اورمعاشرے میں قرآنی آیات کے اثرات ظاہرہوجائیں تو معاشرہ ایک خاص الہی مقام پرپہنچ جائے گا۔

حوزہ علمیہ کےاستاد نےقرآن کریم سےمانوس ہونےکو چوتھا مرحلہ قراردیتے ہوئےکہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرآپ قرآن کریم کے ساتھ زندگی گزارتی ہیں تو آپ قرآن کے ساتھ مریں گے اور قرآن کے ساتھ محشورہوں گے یہاں تک کہ موت کے بعد بھی قرآن سے مانوس ہوں گے۔

۶۲۳۱۷۴

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

آیت اللہ جعفر سبحانی:

جوانی میں علم و دانش کے حصول پر توجہ دینی چاہئے

سماجی: ایران کے نامور عالم دین اور شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ جعفر سبحانی نے کہا جوانی کے زمانے میں علم و دانش حاصل کرنے اور تالیف و تصنیف پر زیادہ توجہ دینی چاہئے انہوں نے کہا اس عمر میں زیادہ مطالعہ اور علمی مباحثہ کرکے اسے لکھنا چاہئے کیونکہ اس زمانے کا علم بڑھاپے میں انسان کے لئے روشن چراغ کی طرح ہوتا ہے۔

منتخب خبریں