خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۷ آیان ۱۳۹۶

السبت ٢٩ صفر ١٤٣٩

Saturday, November 18, 2017

وقت :   Wednesday, April 19, 2017 خبر کوڈ : 67555
حجۃ الاسلام پناہیان:
آخرالزمان میں منتظرین کا اصلی ترین مقابلہ
خبررساں ایجنسی شبستان: ہر دورمیں کچھ افراد اللہ تعالیٰ سےمحبت رکھ سکتے ہیں لیکن اس محبت کا ایک لہرمیں تبدیل ہوجانا اوراس کی وجہ سے دینداری آجائے یہ فقط آخرالزمان کی قوم کے ساتھ مختص ہے بنابریں ہم سےمحبت کی بنا پردینداری کی توقع رکھتے ہیں۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق حوزہ ویونیورسٹی کےاستاد حجۃ الاسلام والمسلمین علی رضا پناہیان نے ۲۰۱۴ء میں آیت اللہ حق شناس نامی امام بارگاہ میں انتظارکےآخرین مراحل کے موضوع پرتقاریرکی تھیں۔ آج ان تقاریر میں سےایک تقریرکا خلاصہ پیش خدمت ہے:

ہم نے آخرالزمان میں برائیوں کے بارے میں سنا ہےلیکن آج ہم ان برائیوں کے ساتھ ساتھ ظاہرہونے والی خوبیوں اوراچھائیوں کو سنیں کیونکہ آخرالزمان فقط سیاہی اوربرائیوں سے ہی لبریز نہیں ہے بلکہ اس دورمیں بہترین اورزیبا ترین اچھائیاں اورخوبیاں بھی روںما ہوتی ہیں۔

قرآن کریم فرماتاہے: (يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنوا مَن يَرتَدَّ مِنكُم عَن دينِهِ فَسَوفَ يَأتِي اللَّهُ بِقَومٍ يُحِبُّهُم وَيُحِبّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى المُؤمِنينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الكافِرينَ يُجاهِدونَ في سَبيلِ اللَّهِ وَلا يَخافونَ لَومَةَ لائِمٍ ذلِكَ فَضلُ اللَّهِ يُؤتيهِ مَن يَشاءُ  وَاللَّهُ واسِعٌ عَليمٌ)۔ چند دلیلوں کی بنا پریہ آیہ شریفہ قرآن کریم کی استثنائی آیات میں سے ہے اور اس کے استثنیٰ ہونےکی ایک دلیل اس کا شان نزول ہےکہ جسے سب نے نقل کیا ہے۔ اس آیہ کے نزول کے وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا ہماری قوم ہے تو آپ نے فرمایا: یہ سلمان فارسی کی قوم ہےاوریہ واحد آیہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی محبت کے بارے میں فرمایا ہےکہ میں اس قوم سے محبت کرتا ہوں اوریہ آیہ شریفہ آخرالزمان کی بہترین خصوصیات کو بیان کررہی ہے۔

امام سجاد علیہ السلام ایک روایت میں فرماتے ہیں : پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں یہ بہترین مومن افراد ہیں اوریہ غیبت کے دورمیں اللہ تعالیٰ پراتنا ایمان رکھتے ہیں کہ گویا اپنے غائب امام زمانہ علیہ السلام کو دیکھ رہے ہیں اوران کا احترام کرتے ہیں اورگویا کہ وہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیمے اوران کے ہم رکاب جنگ کررہے ہیں۔

اس آیت کےآخرمیں ہے (ذلِكَ فَضلُ اللَّهِ يُؤتيهِ مَن يَشاءُ  وَاللَّهُ واسِعٌ عَليمٌ) یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تم نے یہ توفیقات خود حاصل کی ہیں بلکہ یہ اللہ کا فضل کہ جو تمہیں عطا ہوا ہے۔ لہذا ہمیں بھی اسی قوم میں شمارہونا چاہیےاورجب اللہ تعالیٰ اپنا فضل عطاکرے تو ہم بھی وہ فضل الہی حاصل کرسکیں۔ بعض اوقات ابلیس انسانوں کو مایوس اورمغرورکردیتا ہے۔ لیکن ہمیں معلوم ہونا چاہیےکہ ہم آخرالزمان کی قوم میں موجود ہیں کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورامیرالمومنین علیہ السلام جن کی ملاقات کا اشتیاق رکھتے تھے۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں: (واصل من لا یستحق وصالنا مخافة أن نبقى بغیر صدیق)۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیےکہ ہمارے دین کی بنیاد محبت پراستوارہو کہ جوجذبے کی تبدیلی کا باعث بنے گا۔ اس آیہ شریفہ کی اس طرح تفسیرکرتا ہوں کہ یہ قوم اہل بیت علیہم السلام کی محبت کی مالک ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اس سےمحبت کرتا ہے اوربے شک یہ افراد اہل بیت علیہم السلام کی محبت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی محبت تک پہنچے ہیں۔

۶۲۱۹۳۴

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے

شبستان نیوز : ادارہ اوقاف و خیراتی امور کے ثقافتی و سماجی امور کے جنرل ڈائریکٹر نے وقف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے۔ امامزادوں کے حرم یا ان کے علاوہ دوسرے مقدس مقامات کی ملکیت میں اگر ان کے اپنے اوقاف ہوں تو وہ اپنے تعمیراتی اور ثقافتی امور کے اخراجات وہاں سے پورے کر سکتے ہیں۔

منتخب خبریں