خبرگزاری شبستان

سه شنبه ۲۶ شهریور ۱۳۹۸

الثلاثاء ١٨ المحرّم ١٤٤١

Tuesday, September 17, 2019

وقت :   Monday, May 1, 2017 خبر کوڈ : 67686

حضرت اباالفضل العباس(ع) کےبلند مقام کا راز
خبررساں ایجنسی شبستان: حضرت ابالفضل العباس علیہ السلام اپنے امام کے سامنے تسلیم ہونے کے علاوہ وفا کے عروج پرفائز تھے۔ یعنی ایک عبد اورغلام اپنے مولا کے سامنے جس طرح ہوتا ہے حضرت عباس علیہ السلام بھی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ اسی طرح تھے۔ ایسا کوئی حق نہیں ہے کہ جسے قمربنی ہاشم علیہ السلام نے ادا نہ کیا ہو۔

سیرت اہل بیت علیہم السلام کےمحقق حجۃ الاسلام علی محمد باقی نے خبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگارسے گفتگو کے دوران اس مطلب کہ حضرت ابالفضل العباس علیہ السلام کی شناخت اور معرفت کی ایک بہترین روش امام صادق علیہ السلام کی اس زیارت کا جائزہ لینا ہے، کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہےکہ یہ زیارت شیعوں کے چھٹے امام سے منسوب ہے اورامام صادق علیہ السلام نے حضرت اباالفضل العباس علیہ السلام کے لیے یہ زیارت پڑھی ہے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ راوی کہتا ہےکہ امام صادق علیہ السلام ایک دن امام حسین علیہ السلام کے حرم میں تشریف لے گئے اوراس کے بعد حضرت عباس علیہ السلام کے حرم میں جاکراس معروف زیارت کی تلاوت کی۔ بہت کم منقول زیارات ہیں کہ جو معصوم کی زبان سے نقل ہوئی ہوں ۔ یہی چیزحضرت عباس علیہ السلام کی پہچان ہے۔

اس محقق نےکہا ہے کہ اس زیارت میں کچھ ایسے جملے ہیں کہ جو قابل توجہ ہیں۔ سب سے پہلے حضرت اباالفضل العباس علیہ السلام کی خدمت میں سلام کیا جاتا ہے۔ یہ ایک مخصوص سلام ہے۔ ایک دفعہ ہم کسی کو سلام کرتےہیں تو وہ سلام ہماری اپنی جانب سے ہوتا ہے اورمثلا کہتے ہیں:( السلام علیک یا ۔ ۔ ۔) ایک مرتبہ اللہ کی جانب سے سلام ہے اورایک مرتبہ اللہ تعالیٰ اوراس کے مقرب فرشتوں کی جانب سے سلام ہے۔ حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کے زیارت نامہ کی ابتداء میں جو سلام آیا ہے وہ ایک مفصل سلام ہے: (سَلاَمُ اللَّهِ وَ سَلاَمُ مَلاَئِكَتِهِ الْمُقَرَّبِينَ وَ أَنْبِيَائِهِ الْمُرْسَلِينَ وَ عِبَادِهِ الصَّالِحِينَ وَ جَمِيعِ الشُّهَدَاءِ وَ الصِّدِّيقِينَ‏ وَ الزَّاكِيَاتُ الطَّيِّبَاتُ فِيمَا تَغْتَدِي وَ تَرُوحُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ۔ ۔ ۔)۔ کیفیت اورمقدار کےلحاظ سے یہ ایک عمیق اورگہراسلام ہے۔ یعنی حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام پرسلام ہردورکے لیے ہے۔ اسی طرح اس زیارت نامے کی دوسری خصوصیت آپ کا سید الشہداءعلیہ السلام کے سامنے تسلیم ہونا ہے۔ «أَشْهَدُ لَكَ بِالتَّسْلِيمِ وَ التَّصْدِيقِ وَ الْوَفَاءِ وَ النَّصِيحَةِ لِخَلَفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ الْمُرْسَلِ‏)

حوزہ علمیہ کے استاد نےمزید کہا ہے کہ اس کے بعد ہم پڑھتے ہیں: «السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ‏» یہاں پرحضرت عباس علیہ السلام کی دو صفات کو بیان کیا گیا ہے: ایک عبد اوردوسری صفت صالح ہونا ہے۔ جب ہم نماز کے تشھد میں پڑھتے ہیں: «اَشهَدُ اَنْ لاَ اِلهَ اِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَریکَ لَهُ، وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، اَللّهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ» یہاں پریہ سوال پیش آتا ہےکہ یہ عبد صالح کون ہےکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیےبھی یہ صفت استعمال کی ہے۔ اس صفت کا مطلب یہ ہے کہ عبودیت، رسالت پرمقدم ہے۔ بنابریں جو شخص اللہ کے خلیفہ کا عبد اورغلام بننا چاہتا ہے اسے عبودیت کی منزل فائز ہونا چاہیے۔

حجۃ الاسلام باقی نے آخرمیں کہا ہےکہ حضرت عباس علیہ السلام نے کربلا کےمیدان میں نام وشہرت کمانے اورجنت کےلالچ یا جہنم کے خوف کی بجائے فقط اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیا تھا اورایثاراورقربانی کی ایک عظیم مثال قائم کردی تھی۔

۶۲۵۶۸۱

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز

سماجی: اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر بندرعباس میں 8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز ہوچکا ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان دانشور، علماء، مفکرین اور عمائدین شرکت کررہے ہیں۔

منتخب خبریں