خبرگزاری شبستان

یکشنبه ۳۱ شهریور ۱۳۹۸

الأحد ٢٣ المحرّم ١٤٤١

Sunday, September 22, 2019

وقت :   Tuesday, June 6, 2017 خبر کوڈ : 68118

حضرت خدیجہ(س) کی معاشی اورتجارتی سرگرمیوں کا راز
خبررساں ایجنسی شبستان: میرا خیال یہ ہےکہ ایک عورت کےعنوان سےحضرت خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہا کا معاشی اورتجارتی میدان میں داخل ہونا ایک عظیم ہدف کی نشاندہی کرتا ہے، بالخصوص آپ نےمختلف ممالک کے ساتھ تجارتی روابط کے ذریعے معلومات کو حاصل کیا اورآخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت کے لیےمال ودولت جمع کیا تھا۔

کتاب (ملیکہ بطحاء) کے مولف حجۃ الاسلام مقداد تابش نے ۱۰ماہ مبارک رمضان کوحضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی رحلت کی مناسبت سےخبررساں ایجنسی شبستان کےنامہ نگارسےگفتگو کے دوران کہا ہےکہ جب پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت ایسے افراد کے توسط سے نقل ہوتی ہے کہ جو حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا سے دشمنی رکھتی تھیں تو معلوم ہونا چاہیےکہ ان افراد نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا، حضرت ابوطالب علیہ السلام اورحضرت جعفرطیارعلیہ السلام کوبدنام کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ اہل سنت کےعالم دین حاکم نیشاپوری کہتا ہےکہ یہ جو ہشام بن عروہ بن زبیر سے نقل ہوا ہےکہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی وفات کے وقت عمرساٹھ سال تھی اور پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ازدواج کے وقت آپ کی عمرچالیس سال تھی، یہ غلط ہے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ علامہ مجلسی نے بحارالانوار، بلاذری، سید مرتضیٰ، شیخ طوسی وغیرہ جیسےعلماء نے واضح کہا ہےکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےساتھ شادی کے وقت حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا دوشیزہ اورکنواری تھیں۔ علامہ مجلسی بحارالانوارمیں لکھتے ہیں کہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی طرف زینب اوررقیہ جیسی جس اولاد کی نسبت دی جاتی ہے وہ آپ کی بہن (ہالہ) کی بیٹیاں تھیں کہ جو اپنی ماں کی وفات کی وجہ سےحضرت خدیجہ کی سرپرستی میں آگئی تھیں۔ بنابریں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی سے پہلے آپ نے کسی سے شادی نہیں کی ہوئی تھی۔

حجۃالاسلام تابش نےکہا ہے کہ اہل سنت کےعالم دین ابوالقاسم بن محمد بن اصفہانی نےاپنی کتاب میں اس مسئلے کی وضاحت کی ہے اورابن شہرآشوب نےبھی اپنی کتاب مناقب میں ذکرکیا ہےکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شادی کے وقت حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا دوشیزہ اورکنواری تھیں اورعلامہ مجلسی کی نقل کے مطابق ابن عباس نے بھی شادی کے وقت حضرت خدیجہ کی عمرکو ۲۸سال قراردیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہےکہ متعدد اقوال موجود ہیں کہ شادی کے وقت حضرت خدیجہ دوشیزہ اور کنواری تھیں اورآپ کی عمر۲۵ سے ۲۸سال کے درمیان تھی اورآپ نے اس مدت کے دوران شادی کی خواہش کرنے والے تمام مردوں کو نفی میں جواب دیا تھا کیونکہ آپ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منتظرتھیں۔ شافعی مذہب کےعالم دین بیہقی نےنقل کیا ہےکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ۲۵سال کی عمرمیں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا سےشادی کی تھی کہ جن کی اس وقت عمربھی ۲۵سال تھی۔

کتاب(ملیکہ بطحاء) کےمولف نےاسلام کی راہ میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کےسارے مال کو خرچ کرنےکے بارے میں کہا ہےکہ آپ کو قریش کی عورتوں کی سردارکہا جاتا تھا کیونکہ آپ کی دولت اورمعاشی مینجمنٹ بہت اعلیٰ تھی اوراسی وجہ سے آپ کو خواتین کی سردارکہا جاتا تھا۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ جس دورمیں  اکثرخواتین پاکدامنی سےکوسوں دورتھیں اس وقت حضرت خدیجہ طاہرہ کےنام سےمعروف تھیں۔ آپ اپنے سرمائے سے تجارتی قافلوں کو بھیجا کرتی تھیں لیکن خود شام اورحبشہ کی طرف نہیں جاتیں تھیں کیونکہ آپ کی پاکدامنی اورعظمت وبزرگی تجارتی سفر پرجانےکی اجازت نہیں دیتی تھی اورآپ فقط معاشی مینجمنٹ پرہی اکتفا کیا کرتی تھیں۔

حجۃ الاسلام تابش نےکہا ہےکہ آپ کی معاشی سرگرمیاں اتنی زیادہ اورپررونق تھیں کہ آپ کو ملکہ عظیمہ کےنام سےیاد کیا جاتا تھا۔ نقل ہوا ہے کہ اس وقت مکہ میں آپ دولت مند ترین خاتون تھیں کہ بعض نےذکرکیا ہےکہ مختلف علاقوں میں آپ کے اسی ہزاراونٹ اورتقریبا چارسوغلام تھے لیکن آپ فقراء اوریتیموں کی مدد کیا کرتی تھیں۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا گھراتنا بڑا تھا کہ مکہ کے تمام لوگ اس میں سکونت اختیارکرسکتے تھے۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ کیونکہ آپ آخری پیغمبرکی منتظرتھیں اور انتطارکا مطلب ہاتھ پرہاتھ رکھ کربیٹھنا نہیں ہےبلکہ کام کرنےکے معنی میں ہے۔ لہذا حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے سوچا ہوا تھا کہ ظہورکے وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجاز کے معاشرے میں مشکلات کا سامنا ہوگا کہ جن کے حل کے لیےثقافتی اورسماجی حمایت کی ضرورت ہوگی کہ جس کی ذمہ داری حضرت ابوطالب علیہ السلام نے سنبھالی اوردوسری مالی حمایت کی ضرورت ہوگی کہ جس کی وجہ سے آپ نے تجارتی اورمعاشی میدان میں قدم رکھا تھا۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ میرا خیال یہ ہےکہ ایک عورت کےعنوان سےحضرت خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہا کا معاشی اورتجارتی میدان میں داخل ہونا ایک عظیم ہدف کی نشاندہی کرتا ہے، بالخصوص آپ نے مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی روابط کے ذریعے معلومات کو حاصل کیا اورآخری پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت کے لیے مال ودولت جمع کیا تھا۔

حجۃ الاسلام تابش نےکہا ہے کہ شادی کے بعد حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا سارا مال پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دے دیا جاتا ہےاورآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مکہ میں تیرہ سال کی مدت میں مسلمانوں کو حبشہ میں بھیجنے اوردیگرامورکے لیےحضرت خدیجہ کے مال سےاستفادہ کرتے ہیں۔

کتاب(ملیکہ بطحاء) کےمولف نےمزید کہا ہےکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: «ما نَفَعَنِی مالٌ قَطُّ ما نَفَعَنِی مالُ خَدِیجةُ) حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی دولت جتنا کسی اوردولت نے مجھے فائدہ نہیں دیا ہے۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیےیہ امداد اتنی زیادہ مفید ثابت ہوئی کہ یہ جملہ معروف ہوگیا: ( اسلام نے دوچیزوں سےترقی کی ہےایک علی علیہ السلام کی تلوار اوردوسرا خدیجہ علیہا السلام کے مال سے) یعنی اگرآپ کا مال نہ ہوتا بالخصوص شعب ابی طالب  کے دورمیں تو مسلمان اس معاشی محاصرے کی وجہ سے بھوک اورپیاس سےمرجاتے۔ لہذا اس مال نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوراسلام کو نجات دی ہے۔

انہوں نےکہا ہےکہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نےاپنا سارامال پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرقربان کردیا۔ نقل ہےکہ شعب ابی طالب میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا: میرے مال میں سے فقط دو چمڑے باقی بچے ہیں کہ جن میں سےایک نیچےبچھاتی ہوں اوردوسرا اوپراوڑھتی ہوں اوریہاں تک کہ سورہ مبارک ضحی کی آیت نمبر۸ (وَجَدَكَ عائِلاً فَأَغْنَی) (تم فقیر تھے اورہم نے تمہیں بے نیازکیا) شیعہ اوراہل سنت نے نقل کیا ہے کہ یعنی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی مال دولت سے بے نیاز کیا تھا۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اپنا سارا مال خرچ کرکے(مومن مجاہد) کا مصداق بن گئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ سورہ توبہ کی آیت نمبر۸۸ میں فرماتا ہے: «لكِنِ الرَّسُولُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جاهَدُوا بِأَمْوالِهِمْ وَ أَنْفُسِهِمْ ...،) جب کہ رسول اوران کے ساتھ ایمان لانے والوں نے اپنے اموال اوراپنی جانوں کےساتھ جہاد کیا۔ ۔ ۔) اورحضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اس مومن کا مصداق ہیں کہ جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہ کر اپنےمال اوراپنی جان کو اس راہ میں قربان کردیا تھا اورآخرکارشعب ابی طالب کے بہت زیادہ دباوکی وجہ سےکچھ عرصے کے بعد اس دنیا سے رحلت فرماگئیں۔

تاریخ کےاس محقق نے کہا ہےکہ اپنے سارے مال کو خرچ کرنے کے باوجود حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےطلبگارنہیں تھیں اوراپنے آپ کو قصوروارقراردیتی ہیں۔ جب اپنی وفات کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وصیت کرنا چاہتی ہیں تو آپ کی خدمت میں عرض کرتی ہیں: میں نے ٓپ کے حق میں سستی اورکوتاہی کی ہےمجھے معاف کردیجیے تو اللہ تعالیٰ بشارت دیتا ہےکہ خدیجہ سے کہہ دیجیےکہ میں نے تمہارے لیے جنت میں زبرجد، زمرد اوریاقوت سے ایک محل تعمیر کیا ہے۔

حجۃ الاسلام تابش نےآخرمیں کہا ہےکہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا جب بستربیماری پرتھیں اوراپنی زندگی کے آخری لمحات گزاررہی تھیں تو آپ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو آواز دیتی ہیں اورانتہائی شرم وحیاء کے ساتھ کہتی ہیں کہ آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاکران سے نبوت کا لباس لےکرآئیں تاکہ اس سےکفن کے عنوان سےاستفادہ کرسکیں یعنی ایک درس دے رہی ہیں کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچنے کے لیےحضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو شفیع قراردینا چاہیے۔

۶۳۳۵۷۱

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز

سماجی: اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر بندرعباس میں 8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز ہوچکا ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان دانشور، علماء، مفکرین اور عمائدین شرکت کررہے ہیں۔

منتخب خبریں