خبرگزاری شبستان

پنج شنبه ۲۳ آذر ۱۳۹۶

الخميس ٢٦ ربيع الأوّل ١٤٣٩

Thursday, December 14, 2017

وقت :   Wednesday, June 14, 2017 خبر کوڈ : 68238
حجۃ الاسلام مروجی طبسی:
امام علی(ع)کا مالک اشترکےنام خط سیاستدانوں کے لیےایک اخلاقی اورسیاسی منشور ہے
خبررساں ایجنسی شبستان: حوزہ علمیہ کےایک استاد نےامام علی علیہ السلام کےمالک اشترکے نام خط کو سیاستدانوں کے لیے ایک اخلاقی اورسیاسی نصب العین قراردیتے ہوئےکہا ہے کہ اس وقت یہ خط دنیا میں ایک زندہ وجاوید دستاویز ہے کہ سیاستدان جس پرعمل کرتےہیں۔

حوزہ علمیہ کے استاد حجۃ الاسلام محمد جواد مروجی طبسی نے خبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگارسےگفتگو کے دوران امام علی علیہ السلام کی حکومت میں اخلاق کی قدرومنزلت کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت امام علی علیہ السلام نےاخلاق کےاعلیٰ ترین مراحل کو طے کیا ہےکیونکہ آپ چارسال کی عمر سےہی پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیرتربیت آگئے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو ان کے آبائی گھرسے لاکر اپنی گود میں بڑا کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا ہےکہ نہج البلاغہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ امیرالمومنین علیہ السلام کا مستحکم اورمضبوط رابطہ واضح  ہے۔ امام علی علیہ السلام کیونکہ دن رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ہوتے تھے اسی وجہ سے آپ ان کےاخلاق اورآداب سے  استفادہ کرتے تھے۔

حجۃ الاسلام مروجی طبسی نےکہا ہےکہ امام علی علیہ السلام اپنی گھروالوں میں بھی اسی اخلاق کو عملی جامہ پہناتے ہیں اوراپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میرے بیٹو  آپس میں مل جل کررہو اورایک دوسرے کو معاف کرو اورایک دوسرے کی مدد کے لیے جلدی کرو خبردار ایک دوسرے کی طرف پشت نہ کرو اورنیکی اورتقویٰ میں ایک دوسرے کےمددگاربنو، جہاں پربھی تقویٰ اورنیکی ہے وہاں ایک دوسرے سے تعاون کرو،اللہ تعالیٰ کو مدنظرقراردو اورخوف خدا رکھو اور ظالموں کو اپنے اوپرمسلط نہ ہونے دو۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ امام علیہ السلام نے جنگ بصرہ میں لوگوں کے سامنے فتنہ وفساد کرنے والوں کی ذلیل ورسوا فرمایاتھا۔  آپ فتنہ وفساد کے سربراہوں سے ایک خاص برتاو کرتے تھے اورایک اخلاقی عہدوپیمان کے ساتھ انہیں چھوڑدیا کرتے تھے اورفرمایا کرتے تھے کہ اگرکسی نے جنگ کی طرف پیٹھ کی تواس کے پیچھے نہ جاو اوراگرکسی زخمی کودیکھو تو قتل نہ کرو۔

حوزہ علمیہ کے استاد نےکہا ہےکہ جب عثمان بن حنیف دولتمندوں کی محفل میں شرکت کرتے ہیں تو انہیں نصیحت کرتے ہیں کہ اگرقانون کی مراعات کرو اوراگرتم نے ایسا نہ کیا تو تمہیں امیرالمومنین کی مذمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ امیرالمومنین علی علیہ السلام کے فرامین اورنصائح معاشرے کے کسی خاص طبقے سے مربوط نہیں تھے بلکہ مسلمانوں کے پیشوا اورامام ہونے کےعنوان سے آپ کے بیانات تمام انسانوں سے مربوط تھے اورہرکوئی اپنی نظریاتی اورفکری صلاحیت کی بنا پران سے استفادہ کیا کرتا تھا۔

حجۃ الاسلام مروجی طبسی نےکہا ہے کہ امیرالمومنین علی السلام کا مالک اشترکے نام خط اس وقت کے سیاستدانوں کے لیےایک اخلاقی اورسیاسی نصب العین شمارہوتا ہے ۔ آپ علیہ السلام اس خط میں فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ کو مدنظرقراردو، فقراء کے حقوق کو ضائع نہ ہونے دوکیونکہ وہ اپنے قائد سے ایک خاص توجہ کی امید رکھتے ہیں،دولتمندوں کو اپنے گرد جمع نہ کرو، جس لوگوں کو مختلف عہدوں کے لیے انتخاب کرتے ہو وہ ایسے افراد نہ ہوں کہ جو  تمہارے وسیلے سے لوگوں سے انتقام لیں اورایسے لوگوں کو انتخاب کرو کہ جو تمہاری ملاقات میں رکاوٹ نہ بنیں۔

انہوں نے مزید کہا ہےکہ ایک دن امام علیہ السلام نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک عورت نے آکرکہا کہ آپ نے جس شخص کو ہمارا گورنربنا کربھیجا ہے وہ ہم پرظلم کرتا ہے،اضافی ٹیکس لیتا ہے، لوگوں کے حالات کی مراعات نہیں کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے لوگ آپ کی حکومت سے بدظن ہوگئے ہیں۔امام علیہ  السلام نے فوری طورپرایک خط لکھا کہ جونہی یہ خط تمہارے پاس پہنچے تم معزول ہو اورگورنری کے عہدے کو چھوڑکردو۔ یہ خط ہمارے حکمرانوں کے لیے ایک اخلاقی درس ہے کہ یعنی ہمارے حکمرانوں کو بھی علم وآگاہی کے بنا پرعمل کرنا چاہیے اورسیاسی اخلاق کی مراعات کرنی چاہیے، اگرکسی عہدیدار نے لوگوں پرظلم کیا تو فوری طورپراس کے خلاف ایکشن لینا چاہیے تاکہ سیاسی عدل وانصاف قائم ہو۔

۶۳۵۶۹۰

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

غزہ پر اسرائیلی جارحیت میں درجنوں فلسطینی زخمی

خبررساں ایجنسی شبستان اسرائیل کے جنگی طیاروں نے بدھ کی رات اور جمعرات کی صبح غزہ پر شدید ترین فضائی حملے کیے۔ اگرچہ بدھ کی شب اور جمعرات کی صبح ہونے والے حملوں میں جانی اور مالی نقصان کی اطلاعات تاحال موصول نہیں ہوئی ہیں تاہم سیکورٹی و طبی ذرائع کا کہنا ہے شمالی غزہ کا علاقہ اسرائیل کے حملوں کا مرکز تھا۔

منتخب خبریں