خبرگزاری شبستان

دوشنبه ۲۷ آذر ۱۳۹۶

الاثنين ٣٠ ربيع الأوّل ١٤٣٩

Monday, December 18, 2017

وقت :   Wednesday, June 14, 2017 خبر کوڈ : 68239

امام زمانہ(عج) کو بھی امیرالمومنین(ع) کا نام نہیں دیا جاسکتا
خبررساں ایجنسی شبستان: امام صادق علیہ السلام سےسوال کیا گیا کہ کیا امام زمانہ علیہ السلام کو امیرالمومنین کےعنوان سے سلام کیا جاسکتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں، اللہ نے یہ نام فقط امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے ساتھ مختص کیا ہے اوران سے پہلے کسی کو اس نام سے نہیں پکارا گیا ہے اوراس کے بعد بھی ۔ ۔ ۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق دعائے افتتاح امام زمانہ ارواحنا لہ الفدا سےمنقول ہے کہ جس میں توحید، رسالت اورامامت جیسے اعلیٰ مطالب موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حمد وثنا کےبعد پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پردرودوسلام شروع ہوکر حضرت امام مہدی علیہ السلام پرختم ہوتا ہے۔ اس دوران امام مہدی علیہ السلام کی کچھ ایسی صفات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ جن کے ذریعے گرانقدرحقائق تک پہنچا جاسکتا ہے اوران میں سے ایک حقیقت یہ ہے کہ توحید کے قبول ہونے کی ایک اہم ترین شرط امامت کا اعتقاد ہے۔

امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ابتداء میں امام علی علیہ السلام کا امیرالمومنین کے لقب سے تعارف کرواتے ہیں اوریہ ایک جالب نکتہ ہے کیونکہ اگرچہ وصی، عبد، ولایت، حجت، آیت کبریٰ  اورنبا عظیم اپنے اپنےمقام پرانتہائی ہیں تاہم امام زمانہ علیہ السلام اس لقب کو مقدم کرکے ایک خاص ہدف رکھتے ہیں اوریہ بات معلوم ہے کہ اسلامی حکومت میں شخص کو ایسی صفات اورخصوصیات کا مالک ہونا چاہیے تاکہ وہ امیرالمومنین اوررہبربن سکے۔ امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف نے آخری بات کو پہلے ذکر کیا ہےکہ جوامیرالمومنین علیہ السلام کےحق میں ہونے والے ظلم وستم پرغم اندوہ کی شدت سےحکایت کرتا ہے۔ گویا فرماتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام فقط امیرالمومنین ہیں اوربس۔ حضرت ابوالحسن علیہ السلام سےسوال کیا گیا کہ امام علی علیہ السلام کو کیوں امیرالمومنین کہا گیا؟ تو آپ نےفرمایا:کیونکہ وہ مومنین کو علمی طعام دیتے ہیں مگرتم نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے:( ونمیر اھلنا)(یوسف ۶۵) اورہم اپنے گھر والوں کو طعام دیتے ہیں اورایک اورروایت میں اس سوال کے جواب میں امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا:(لانہ میرہ العلم یمتار منہ ولایمتارمن احد غیرہ)( کلینی، ج ۱، ص۴۱۲؛ شیخ صدوق، ج۱،ص ۱۶۰) کیونکہ امام علیہ السلام علم کے خزانے تھے کہ جو دوسروں کو علمی غذا دیا کرتے تھے اورآپ کےعلاوہ کوئی اورایسا نہیں تھا۔ ممکن ہےکہ روایت سے یہ مراد ہو کہ دیگرحکمران کہ  لوگوں کے امیرہیں وہ ان کی جسمانی اورمادی غذا کا اہتمام کرتے ہیں تاکہ ان کی حیوانی زندگی کے نظام کو چلاسکیں لیکن امام علی علیہ السلام کی حکومت لوگوں کی معیشت کے ساتھ ساتھ انہیں روحانی، علمی اورمعنوی غذا بھی فراہم کرتی ہے اوریہ فقط مومنین سے مختص ہے کیونکہ فقط مومنین ہی ہیں کہ جوان کےعلوم سے استفادہ کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرماتے ہیں: وہ مجھ سے ہیں اورمیں ان سے ہوں اورجس جس کا میں مولا اورامیر ہوں وہ بھی اس اس کے مولا اورامیرہیں اورمیں تمام مسلمانوں کا رہبراورامام ہوں اورمیں علی اس امت کے باپ ہیں۔ (مجلسی،ج۳۴،ص۹۱)۔

  احادیث کی بنا پرپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو یہ لقب عطا کیا تھا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات میں انہیں امیرالمومنین کا لقب عطا کیا تھا۔ اگرتمام ائمہ معصومین علیہم السلام امیرالمومنین ہیں لیکن یہ لقب فقط حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ مختص ہے اوردیگرائمہ اطہارعلیہم السلام بھی اپنے آپ کو امیرالمومنین کہنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔(مہدوی کنی، ۱۳۸۱ھ ش، ۱۸۷)۔

امام صادق علیہ السلام سےسوال کیا گیا کہ کیا امام زمانہ علیہ السلام کو امیرالمومنین کےعنوان سے سلام کیا جاسکتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا:نہیں، اللہ نے یہ نام فقط امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے ساتھ مختص کیا ہے اوران سے پہلے کسی کو اس نام سےنہیں پکارا گیا ہے اوراس کے بعد بھی کافرکےعلاوہ کوئی اوراس نام سےاستفادہ نہیں کرے گا(کلینی، ج۱، ص ۴۱۱)۔ بنابریں لفظ امیرالمومنین فقط ایک لفظ اورکلمہ نہیں ہے کیونکہ الفاظ اورکلمات کے بارے میں اس قسم کی کوئی پابندی نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ ایک لقب اورلفظ سے ہٹ کرکوئی چیز ہے۔ جبکہ اس دعا میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہلی خصوصیت عبد ہونا آیا ہے اوراس میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بنابریں حضرت حجت علیہ السلام نےامیرالمومنین علیہ السلام کے امیرالمومنین اور آپ کے وصی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کے بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف کی وجہ سےاس لقب اورصفت کو عبودیت کی صفت پرمقدم کیا ہے تاکہ حضرت علی علیہ السلام کی امامت کی تائید اوراس پرتاکید کی جاسکے۔

ماخذ: فصلنامہ قرآنی کوثر، شمارہ ۳۹۔

۶۳۵۱۸۶

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

ثقافت اور اس کے موضوعات کو پہچانے بغیر فقہ کوئی حکم نہیں دے سکتی

شبستان نیوز : آیت اللہ مبلغی نے کہا ہے کہ اعلیٰ اقدار اور نیک کاموں کو ترجیح دینے کے حوالے سے دین کی نظریے کو سامنے نہ رکھنا خدا پر افتراء باندھنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت اور اس کے موضوعات کو پہچانے بغیر فقہ کوئی حکم نہیں دے سکتی۔

منتخب خبریں