خبرگزاری شبستان

چهارشنبه ۲۶ مهر ۱۳۹۶

الأربعاء ٢٨ المحرّم ١٤٣٩

Wednesday, October 18, 2017

وقت :   Sunday, June 18, 2017 خبر کوڈ : 68293
حجۃ الاسلام مرزا محمدی:
دعا،الہی عنایت کا ایک بہانہ ہے
خبررساں ایجنسی شبستان: حجۃ الاسلام مرزا محمدی نےاس مطلب کہ دعا، اللہ کی بارگاہ میں گدائی ہے،کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دعا، الہی عنایت اورعطا کا ایک بہانہ ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق حوزہ علمیہ کےاستاد حجۃ الاسلام محمد مرزا محمدی نےشب قدرکی مناسبت سے تہران کی ارگ مسجد میں خطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ دعا، حضرت حق تعالی سے تمنا اورگدائی ہے کہ جس کے لیے اس کی اجازت کی ضرورت ہے، درحقیقت دعا، اللہ کی بارگاہ میں گدائی ہے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے خط نمبر۳۱ میں فرماتے ہیں:جان لو کہ وہ خدا کہ جس کے پاس پوری کائنات کے خزانے ہیں، اس نے تمہیں دعا کرنے اوراسے پکارنے کی اجازت دی ہوئی ہے لہذا اللہ نے انسان کو اجازت دی ہے اورخود اس کی قبولیت کی بھی کفالت کی ہے۔

حجۃ الاسلام مرزا محمدی نے کہا ہےکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: جونہی ہم نے دعا کی اجازت دی ہے اسی نے بغیرکسی  حجاب اوررکاوٹ کےاس کی قبولیت کی بھی ضمانت دی ہے، اس آیت کی بنا پردعا کرنا عطا اورعنایت کا ایک بہانہ ہے۔

انہوں نے اللہ تعالیٰ کے تمام الہی وعدوں کو حق قراردیتے ہوئےکہا ہےکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حکم دیا ہےکہ وہ اس کے فضل کی درخواست کرے بنابریں مومن کو اللہ کی بارگاہ سے اپنے امورکی دعا کرنی چاہیے کیونکہ وہ اپنی رحیمیہ رحمت کے ساتھ مومن کو عطا کرتا ہے اوریہ دوسروں کو شامل نہیں ہے۔

حوزہ علمیہ کے استاد نےآخرمیں کہا ہےکہ ائمہ اطہارعلیہم السلام نے لوگوں کو کثرت کے ساتھ دعا کرنے کی تاکید فرمائی ہے،کثرت دعا اورمحبت الہی کو جلب کرنے کے درمیان بہت گہرا ارتباط پایا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہراس شخص کو پسند کرتا ہےکہ جو اس کی بارگاہ میں گدائی کرے اوراگر یہ عمل اصراراورکثرت دعا پرختم ہو تو اللہ تعالی اپنے لطف وکرم سے اسےعطا کرتا ہے۔

۶۳۶۳۵۹

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

آیت اللہ جعفر سبحانی:

جوانی میں علم و دانش کے حصول پر توجہ دینی چاہئے

سماجی: ایران کے نامور عالم دین اور شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ جعفر سبحانی نے کہا جوانی کے زمانے میں علم و دانش حاصل کرنے اور تالیف و تصنیف پر زیادہ توجہ دینی چاہئے انہوں نے کہا اس عمر میں زیادہ مطالعہ اور علمی مباحثہ کرکے اسے لکھنا چاہئے کیونکہ اس زمانے کا علم بڑھاپے میں انسان کے لئے روشن چراغ کی طرح ہوتا ہے۔

منتخب خبریں