خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۷ آیان ۱۳۹۶

السبت ٢٩ صفر ١٤٣٩

Saturday, November 18, 2017

وقت :   Tuesday, July 11, 2017 خبر کوڈ : 68589
حجۃ الاسلام پناہیان:
امام زمانہ(عج) کا منتظردوسروں سےلاتعلق نہیں رہ سکتا ہے
خبررساں ایجنسی شبستان: انسان کے اندرہرچیز محبت سے وابستہ ہے اورہمیں اس محبت اورتعلق کو نظم وضبط دینا چاہیے اوراگریہ محبت اہل بیت علیہم السلام سےہو تو پیغمبراکرم(ص) کے فرمان کے مطابق یہ محبت حکمت کا سبب بنتی ہے۔ شیعوں کو ایک دوسرے دلی محبت کرنی چاہیے اورپھرزبان سے اس کا اظہار بھی کرنا چاہیے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق حوزہ ویونیورسٹی کے استاد حجۃ الاسلام والمسلمین علی رضا پناہیان نےاپنے ایک خطاب میں کہا ہےکہ قرآنی آیات اوراحادیث کےمطابق آخرالزمان میں بہترین اقوام اورمومنین موجود ہوں گےاورتمام اقوام اورملتوں میں سےہم ایرانیوں کو بشارت دی گئی ہے کہ یہ بہترین افراد اورمومنین ہیں اورہم دینداری کی بہترین قسم کی نمائش کے لیےاقدام کریں گے۔

آخرالزمان میں جو قوم ظہورکی راہ ہموارکرے گی وہ ایرانی قوم ہے اورہم امید کرتے ہیں کہ ہم ابھی ان افراد میں شامل ہوں ۔؛ اب سوال یہ ہےکہ غیبت کے دورکے افراد بالخصوص غیبت کے آخری دور کے افراد کو کس قسم کی خصوصیات کا مالک ہونا چاہیے؟

قرآنی آیات کےمطابق(فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَ يُحِبُّونَهُ)یہ ایسی قوم ہیں کہ اللہ ان افراد سے محبت کرا ہے اوریہ بھی اللہ تعالیٰ سےمحبت کرتے ہیں۔ بات  مسلّم ہےکہ جو شخص محبت کی وجہ سے کوئی کام انجام دیتا ہے اس قدروقیمت اس شخص کےکام سے کہیں بالاتر ہےکہ جو جہنم کے خوف سے کوئی کام انجام دیتا ہے۔

محبت ، معرفت کا سرچشمہ ہے اوروہی معرفت ہی قدروقیمت رکھتی ہےکہ جو محبت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہو۔ اگرکوئی جاننے کا شوق نہ رکھتا ہو تو عالم نہیں بن سکتا ہے اوربعض افراد کا محبت پراعتراض کرنا تعجب کا باعث ہے۔

آخرالزمان کے محبین کی پہلی صفت ،محبت ہے؛ یعنی اللہ تعالی ان سے محبت کرتا ہے اوروہ بھی اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ جو افراد محبت پرمبنی دین رکھتے ہیں ان کی محبت کا پہلا اثر یہ ہے کہ وہ دیگرمومنین کے سامنے خاضع ہیں یعنی جب ایک شخص اللہ سےمحبت کرتا ہو اوراللہ بھی اس سے محبت کرتا ہو تواس کا پہلا اثریہ ہےکہ وہ دوسروں سےمحبت کرئے گا اوراچھے افراد اورشیعوں سے عشق ومحبت کرے گا۔

اہل بیت علیہم السلام فرماتے ہیں کہ اگرتم ہمارے شیعوں میں سےکسی ایک مظلوم شیعہ پرآنسو بہاو تو گویا تم نے ہمارے لیے آنسو بہائے ہیں۔ لہذا مجالس عزا میں سرتن سےجدا ہونے والے شیعوں اور مظلوموں کے لیےگریہ کرنا چاہیے اورشہدا کو یاد کرنا چاہیے۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جس سے بھی محبت کرتے ہو اس سےاظہاربھی کرو اوریہ خشک اورمعمولی برتاو شیعوں کا اخلاق نہیں ہے اورفقط ایک سلام پرہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایک دوسرے پرقربان ہونا چاہیے۔

یہ ایک غلط اورجھوٹی بات ہےکہ ایک شخص کہےکہ میں فقط امام زمانہ علیہ السلام کا چاہنے والا اورمرید ہوں لیکن میرا دوسروں سےکوئی تعلق نہیں ہے۔ تحف العقول میں آیا ہے کہ امام صاد ق علیہ السلام فرماتے ہیں: «انَّ سُرعة ائتلافِ القُلوبِ الابرار اذا التَقَوا و ان لَم یُظهِروا التَّوَدِدَ بِاَلسِنَتِهِم کَسُرعةِ اِختِلاطِ مَاءِ السَّماءِ بِمَاءِ الانهَارِ) بتحقیق ملاقات کے وقت نیک لوگوں کے دلوں کے ایک دوسرے ملنے کی تیزی بارش کے پانی کے نہرکے پانی سے ملنے کی تیزی کی طرح ہے۔ پھرفرمایا: «وَ اِنَّ بُعدَ ائتلافِ قُلوبِ الفجّارِ اذا التَقَوا واِن أظهَروالتَّوَدِدَ بِاَلسِنَتِهِم کَبُعدِ البَهائِمِ مِنَ التَعاطپُفِ واِن طَالَ اعتلافُها علی مِذوَدٍ واحدٍ) تفرہ ایجا کرنے والے اورفاسق وفاجرلوگوں کے دل محبت اوردوستی سےحیوانات کی دوری کی طرح ہے کہ جو اگرچہ ایک ہی جگہ سے گھاس پھوس کھاتے ہیں لیکن ان کے دل ایک دوسرے سے دور ہیں۔

بنابریں آج کل شیعوں کو ایک دوسرے سےمحبت کرنی چاہیے اورایک دوسرےکا حامی ہونا چاہیے کیونکہ اس صورت میں اہل بیت علیہم السلام سےان کی محبت میں بھی اضافہ ہوجائےگا۔

۶۳۷۶۳۳

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے

شبستان نیوز : ادارہ اوقاف و خیراتی امور کے ثقافتی و سماجی امور کے جنرل ڈائریکٹر نے وقف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے۔ امامزادوں کے حرم یا ان کے علاوہ دوسرے مقدس مقامات کی ملکیت میں اگر ان کے اپنے اوقاف ہوں تو وہ اپنے تعمیراتی اور ثقافتی امور کے اخراجات وہاں سے پورے کر سکتے ہیں۔

منتخب خبریں