خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۷ آیان ۱۳۹۶

السبت ٢٩ صفر ١٤٣٩

Saturday, November 18, 2017

وقت :   Thursday, July 13, 2017 خبر کوڈ : 68624
آیت اللہ سید احمد خاتمی:
دین،اسلامی حکومت کا متن ہے
خبررساں ایجنسی شبستان: تہران کےامام جمعہ نےکہا ہے کہ دین،اسلامی حکومت کےمتن میں واقع ہے، لہذا حکمرانوں کو معاہدوں پردستخط اوربین الاقوامی دستاویزات میں دین کو اپنےعمل کا معیار قراردینا چاہیے۔

خبررساں ایجنسی  شبستان شعبہ مشہد نےآستان نیوزکےحوالے سےنقل کیا ہے کہ تہران کے امام جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی نےحرم مطہرامام رضا علیہ السلام میں اپنے خطاب کے دوران امام علی علیہ السلام اوراہل بیت علیہم السلام کی پیروی کو صراط حق بتاتے ہوئےکہا ہےکہ مومنین کو اپنی زندگی میں دقت سے کام لینا چاہیے اوراپنی زندگی کے انفرادی اورسماجی پہلووں میں اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کو معیارقراردینا چاہیے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ افسوس سےکہنا پڑتا ہےکہ بعض سیکولرگروپس دینداری اوراہل بیت علیہم السلام کی پیروی کو اہمیت نہیں دیتے ہیں اوراس قسم کے گروہ انقلاب کی ابتداء سے ہی موجود تھے اوریہ مغرب کےگرویدہ تھے۔

تہران کےامام جمعہ نےکہا ہےکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دینداری عطا کرتا ہے۔ سورہ انفال کی آیت نمبر۲۴ کی بنا پر دین کی پیروی کا مطلب زندگی کو صحیح سمجھنا شمارہوتا ہے۔

انہوں نے اللہ تعالیٰ سےمحبت کو مومنین کا طریقہ کارقراردیتے ہوئےکہا ہےکہ امیرالمومنین علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں: جو شخص اپنی حکومت کو دین کی خدمت میں قراردے تو تمام طاقتیں اس کے سامنے جھک جاتی ہیں؛ لیکن جو شخص دین کو وسیلہ قراردیتا ہے اوراسے حکومت کا خادم قراردیتا ہےتو وہ ذلیل وخوارہوجاتا ہے۔ لہذا ہرمقام ومنصب پرموجود افراد کو اس مقام ومنصب کو دین کی خدمت میں قراردینا چاہیے۔

آیت اللہ خاتمی نےقائد انقلاب اسلامی کے فرمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا کہ آپ نے فرمایا تھا کہ ہم نےجہاں پربھی اسلام پرعمل کیا ہےکامیاب ہوئے ہیں اورجہاں پربھی پیچھےہٹے ہیں نقصان اٹھایا ہے۔ اگرہم نے انقلاب کے دوران اسلامی اقدار کو ترک کردیا تو ہمارے دشمن ہم پرمسلط ہو جائیں گے۔

۶۴۱۵۵۶

 

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے

شبستان نیوز : ادارہ اوقاف و خیراتی امور کے ثقافتی و سماجی امور کے جنرل ڈائریکٹر نے وقف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے۔ امامزادوں کے حرم یا ان کے علاوہ دوسرے مقدس مقامات کی ملکیت میں اگر ان کے اپنے اوقاف ہوں تو وہ اپنے تعمیراتی اور ثقافتی امور کے اخراجات وہاں سے پورے کر سکتے ہیں۔

منتخب خبریں