خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۷ آیان ۱۳۹۶

السبت ٢٩ صفر ١٤٣٩

Saturday, November 18, 2017

وقت :   Sunday, July 16, 2017 خبر کوڈ : 68656

علم، بغیر اخلاق کے صحیح راستہ طے نہیں کرتا
شبستان نیوز: امریکا کی ارکنساس یونیورسٹی میں دینی مطالعات کے شعبے کے رئیس نے کہا ہے کہ علم کا مقصد فقط فائدہ حاصل کرنا رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم، بغیر اخلاق کے صحیح راستہ طے نہیں کرتا اور گمراہی کا شکار ہو جاتا ہے۔

شبستان نیوز ایجنسی کی طلیعہ کے حوالے سے رپورٹ:

علم اور اخلاق میں فاصلہ پیدا ہونے کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ ہے کہ فلسفہ مثبتیت (Positivism) کا رجحان روز بہ روز غلبہ پاتا جا رہا ہے۔ اس رجحان کا غلبہ اس  چیز کا باعث بنا ہے کہ علم کے اندر اخلاق اور اخلاقی اقدار کی بنیاد اسی مثبتیت کے رجحان پر رکھی جا رہی ہے۔

مثبتیت (Positivism)  ایک ایسا فلسفہ ہے جس کے مطابق صرف واقعی علم (Positive Science) کو اصلی علم سمجھا جا سکتا ہے اور وہی علم جو سائنسی (Scientific Method) اور تجرباتی بنیادوں پر  حاصل کیا جائے ، درست علم تصور کیا جائے گا۔اس فلسفہ علم کو انگریزی میں (Positivism)  کہتے ہیں۔

یہ اصطلاح اٹھارہویں صدی عیسوی میں سب سے پہلے فرانسیسی فلسفی اور سماجی علوم کے ماہر Auguste Comte  نے گھڑی اور متعارف کروائی۔ اس فلسفی کا یہ نظریہ تھا کہ تاریخی جبر انسان کو ایک ایسی سمت میں لے جائے گا جہاں دینی اور فلسفی نظریات ختم ہو جائیں گے اور فقط وہی علم و فکر باقی رہے گی جو تجرباتی بنیادوں پر ہو اور Positiveہو۔ تاریخ کے اس نئے زمانے میں دین و فلسفہ سے مربوط تمام مسائل ختم ہو جائیں گے۔

امریکا کی ارکنساس یونیورسٹی میں دینی مطالعات کے شعبے کے رئیس پروفیسر کلائٹن کراکٹ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہی فلسفہ مثبتیت ہے جس نے علم اور اخلاق میں فاصلہ پیدا کر دیا ہے، جبکہ اخلاق کے بغیر علم اپنا صحیح راستہ نہ تو  مشخص کر سکتا ہے اور نہ ہی طے کر سکتا ہے۔ جس کا نتیجہ گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ لہٰذا گمراہی سے بچنے کے لیے ہمیں اس فلسفۂ مثبتیت کے حصار سے باہر آ کر اخلاقی قدروں پر بھی توجہ دینا ہو گی۔

642172

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے

شبستان نیوز : ادارہ اوقاف و خیراتی امور کے ثقافتی و سماجی امور کے جنرل ڈائریکٹر نے وقف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے۔ امامزادوں کے حرم یا ان کے علاوہ دوسرے مقدس مقامات کی ملکیت میں اگر ان کے اپنے اوقاف ہوں تو وہ اپنے تعمیراتی اور ثقافتی امور کے اخراجات وہاں سے پورے کر سکتے ہیں۔

منتخب خبریں