خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۷ آیان ۱۳۹۶

السبت ٢٩ صفر ١٤٣٩

Saturday, November 18, 2017

وقت :   Sunday, July 16, 2017 خبر کوڈ : 68658

مسجدالاقصی كوبند كرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی
خبررساں ایجنسی شبستان اسلامی جمہوريہ ايران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے كہا ہے كہ ناجائز صہيونی فورسز كا مسجد الاقصی ميں نمازيوں پر پابندی كا اقدام قابل مذمت، انسانی حقوق اور انسانی قوانين كے بنيادی اصولوں كی كھلی خلاف ورزی ہے۔ ايران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے كہا كہ ناجا‏‏ئز صہيونی حکومت كے جرائم، فلسطينيوں كے بنيادی حقوق كی جارحيت اور خلاف ورزيوں كے علاوہ ان كے اس قسم کے اقدامات سے سنگين نتائج سامنے آئيں گے۔ بہرام قاسمی نے فلسطينی نمازيوں كیلئے مسجد الاقصی كے دروازے كھولنے پر زور ديتے ہوئے دنيا اورعالمی برادری سے مقبوضہ فلسطين ميں صہيونيوں كی جانب سے انسانی حقوق كی مسلسل خلاف ورزیوں اور مظالم كا نوٹس لينے كا مطالبہ كيا.

دوسری جانب فلسطینی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں عرب، مسلم ممالک اورعالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غاصب صہیونی حکومت کے مظالم کے خلاف ایک مضبوط موقف اپناتے ہوئے مسجد الاقصی کو بچانے کی کوشش کریں۔ فلسطينی دفتر خارجہ كے مطابق غاصب صہيونی حكومت كی غير قانونی كارروائيوں سے مسجد الاقصی ميں كشيدگی كی صورتحال پيدا كی گئی اور اس حوالے سے عالمی برادری كی جانب سے ناجائز صيہونی حكومت كے غير انسانی مظالم كے خلاف كو‏ئی سنجيدہ اورعملی اقدام نہيں كیا گیا ہے۔ فلسطيني وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ كيا ہے كہ صہيونی رياست پر دباؤ ڈالنے كے ساتھ ساتھ صہيونيوں كی جانب سے مسجد الاقصی کی بے حرمتی اور حملوں كو روكا جائے.

واضح رہے كہ جمعہ كے روز صہيوني فورسز نے مسجد الاقصی ميں تين فلسطينی نوجوانوں کو شہيد کردیا اس جھڑپ میں دو صيہونی فوجی بھی ہلاک ہوئےاس واقعے كے بعد صيہونی حكومت كے وزيراعظم بن یامین نيتن ياہونے مسجد الاقصی كے دروازوں كو بند كرنے كا حكم ديا اور فلسطينی نمازيوں پرمسجد الاقصی ميں داخلے پر پابندی لگا دی.

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے

شبستان نیوز : ادارہ اوقاف و خیراتی امور کے ثقافتی و سماجی امور کے جنرل ڈائریکٹر نے وقف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے اندر مشترکہ وقف کی ترویج ہونی چاہیے۔ امامزادوں کے حرم یا ان کے علاوہ دوسرے مقدس مقامات کی ملکیت میں اگر ان کے اپنے اوقاف ہوں تو وہ اپنے تعمیراتی اور ثقافتی امور کے اخراجات وہاں سے پورے کر سکتے ہیں۔

منتخب خبریں