خبرگزاری شبستان

دوشنبه ۳۰ مرداد ۱۳۹۶

الاثنين ٢٩ ذو القعدة ١٤٣٨

Monday, August 21, 2017

وقت :   Wednesday, August 09, 2017 خبر کوڈ : 68885

حدیث کساء کی برکات کا راز
خبررساں ایجنسی شبستان: حوزہ اوریونیورسٹی کے ایک استاد نےحدیث کساء کی برکات اوراس کے مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ یہ برکات قابل دفاع ہیں کیونکہ جس محفل میں بھی یہ حدیث پڑھی جائےاللہ تعالیٰ اس پراپنی رحمت نازل کرتا ہے اوراس میں موجود لوگوں کےغم واندہ کو برطرف اوران کی حاجات کو پورا کرتا ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق حدیث کساء ایک حدیث قدسی ہےکہ جو پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امیرالمومنین امام علی علیہ السلام، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، امام حسن اورامام حسین علیہما السلام کی فضیلت کے بارے میں ہے اوراس کے فرازوں میں اہل بیت علیہم السلام اورائمہ اطہارعلیہم السلام کی معرفت کا ایک مکمل کورس ہے۔

حوزہ علمیہ ویونیورسٹی کےاستاد حجۃ الاسلام سید مجتبیٰ معنوی نے خبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگارسے گفتگو کے دوران حدیث کساء کی سند کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ مفاتیح الجنان کےمولف کی جانب سے اسے کتاب میں ذکرنہیں کیا گیا ہے لیکن یہ چیزاس حدیث کی سند اور اس کے معتبرہ ونے میں کوئی مشکل ایجاد نہیں کرتا ہے۔ کیونکہ حدیث کساء ایک قابل اعتماد سند رکھتی ہے تاہم اس کا متن اس روایت کےساتھ سازگارنہیں ہے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ حدیث کساء کی سند کا جائزہ لینے سےمعلوم ہوتا ہےکہ یہ حدیث کتاب دلائل الامامہ میں نقل ہوئی ہے اورآیہ تطھیرکے ذیل میں ذکرہوئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں فرمایا:«اللّهُمَّ هؤُلاءِ اهلُ بَیتی، اللّهُمَّ اذهِب عَنهُمُ الرِّجسَ و طَهِّرهُم تَطهیراً۔

انہوں نےکہا ہے کہ شیعہ اوراہل سنت کی کتابوں میں یہ حدیث نقل ہوئی ہے۔ شیعہ کتب جیسے تفسیر قمی، تفسیرفرات کوفی، تفسیرالبرھان فی تفسیر القرآن اوراسی طرح اصول کافی اورشیخ طوسی کی الامالی میں بھی اس کا متن آیا ہے۔ اوراہل سنت کی کتابوں جیسے صحیح مسلم میں اس حدیث کی طرف اشارہ کیا گیا ہےکہ حضرت عائشہ نےکہا: ایک دن پیغمبرگھرسے نکلے اوراپنےاوپر سیاہ بالوں سے بنی ہوئی عبا اوڑھ کرلیٹ گئے۔ پھرسب سے پہلے امام حسن علیہ السلام آئے، اس کے بعد امام حسین علیہ السلام آئے،ان کے بعد حضرت زہرا سلام اللہ علیہا آئیں اورپھرآخرمیں امیرالمومنین علیہ السلام آئے تورسول اکرم نے ان سب کواپنی عبا کے نیچے جگہ دی اورفرمایا:  «انَّما یریدُ اللّهُ لِیذهِبَ عَنکمُ الرِّجسَ اهلَ البَیتِ و یطَهِّرَکم تَطهیراً۔

حجۃالاسلام معنوی نے اس سوال کہ اس دعا میں آپ کے اہل بیت سےکیا مراد ہے؟ کے جواب میں کہا ہے کہ حدیث کساء کے سائے میں اہل بیت کی شناخت ہوتی ہے اوراس حدیث سے توسل کے ذریعے اگرشیعوں کے لیے کوئی اثرات اوربرکات حاصل ہوتی ہیں تواس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعارف کروایا جارہا ہے۔

حوزہ ویونیورسٹی کے استاد نےمزید کہا ہےکہ تاریخ سے دورہونے کی وجہ سے شیعہ حضرات گزشتہ تاریخ کا مشاہدہ کرکے آسانی کے ساتھ اہل بیت علیہم السلام کوپہچان سکتے ہیں لیکن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دورمیں یہ تشخیص اتنی آسان نہیں تھی اوراس میں ابہامات پائے جاتے تھے۔ اب بھی ابہامات پائے جاتے ہیں اوربعض کا عقیدہ ہےکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجات کس طرح آل میں شامل نہیں ہیں۔ بنابریں حدیث کساء پیغمبراکرم اوراہل بیت علیہم  السلام سے توسل کے ذریعے ہماری توجہ کواپنے اصلی مقصد کی طرف مرکوزکرتی ہے۔

۶۴۷۰۵۳

 

 

کلیدی الفاظ:
|
|
|

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

نوجوانوں میں دینی اور انقلابی جذبے کی تقویت پر زور

خبررساں ایجنسی شبستان پیر کی صبح صوبہ یزد اور ہمدان کے تعلیمی اور ثقافتی امور کے عہدیداروں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے نوجوان نسل میں انقلابی اور جہادی جذبے کی تقویت پر زور دیا۔

منتخب خبریں