خبرگزاری شبستان

دوشنبه ۲۷ آذر ۱۳۹۶

الاثنين ٣٠ ربيع الأوّل ١٤٣٩

Monday, December 18, 2017

وقت :   Thursday, August 10, 2017 خبر کوڈ : 68900

عصرغیبت میں حکومت اورلوگوں کا باہمی رابطہ
خبررساں ایجنسی شبستان:صحیح اطاعت کا مطلب یہ ہےکہ جب ایک اسلامی معاشرےمیں حقیقی اور توحیدی ارادے کی بنیاد رکھ دی جائےتو تمام لوگوں پرذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ وہ دینی اصولوں کے دائرے میں رہ کر ولی فقیہ کی اطاعت کریں اوردینی اقدارکے تحقق کے لیےاقدام کریں۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق مہدویت تخصصی سنٹرکےتحقیقاتی امورکےمشیر حجۃ الاسلام والمسلمین مہدی یوسفیان نےعصرغیبت میں امت کی قیادت اورسرپرستی کی اہمیت اور حاکمیت کے بارے میں قرآنی اصولوں کا جائزہ لیتے ہوئےکہا ہے کہ عصرغیبت کا دورظہوریا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی حکومت اورائمہ معصومین علیہم السلام کی ولایت کے دورسے مختلف نہیں ہے؛کیونکہ آخرکار ہردورمیں انسان زندگی بسرکررہے ہیں اورمعاشرے کا انتظام بھی چلانا چاہیے۔ جب طے ہےکہ معاشرہ کی مینجمنٹ کی جائے تو یہیں سے ہی ایک نظام اورحکومت کی تشکیل کا آغازہوتا ہےکہ جوصحیح اورتوحیدی راستے پرمعاشرے کو گامزن کرتی ہے۔

دوسری بات معاشرے میں لوگوں کے مقام کا مسئلہ ہےکہ معاشرے کے تمام افراد کو اس معاشرے کی سربلندی کےلیےحاکمیت اورنظام کی مدد کرنی چاہیے۔اس راہ میں مومنین کے ولی اورسرپرست کی ایک خاص اہمیت ہے۔ دینی قوانین اوراصولوں نے لوگوں کے دوکرداروں کی وضاحت کی ہے ایک مشورے کا کردارہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اپنے پیغمبرسے فرماتا ہے: «وَشَاوِرْهُمْ فِی الأَمْرِ»،  یعنی  اے پیغمبر جو امورمعاشرے سے مربوط ہیں ان میں لوگوں سے مشورہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے حکومت کے مقابلے میں لوگوں کا دوسرا کردارپیش کیا ہے وہ یہ ہےکہ لوگوں کو اسلامی اور فقہی فرامین کی اطاعت کرنی چاہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ٖفرماتا ہے:«یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللَّهَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُوْلِی الْأَمْرِ مِنْکُمْ» البتہ صحیح اطاعت کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک اسلامی معاشرے میں حقیقی اورتوحیدی حکومت قائم ہوجائے تو لوگوں پرذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ وہ دینی اصولوں  کے دائرہ کارمیں رہ کرولی فقیہ کی اطاعت کریں اوردینی تعلیمات کے نفاذ کے لیے اقدام کریں۔

اب مسئلہ یہ ہےکہ اگر ہم امام عصرعلیہ السلام کی کریمہ حکومت کے تحقق کےلیے درست حرکت نہ کرسکیں تو اس دوران کن افراد کی ذمہ داری زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ تو کہنا چاہیےکہ اگراسلامی حکومت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی الہی حکومت کے راستے پرگامزن نہ ہوسکے تو کہنا چاہیےکہ وہ حکومت سرے سے اسلامی حکومت ہے ہی نہیں۔

مرجعیت اورولایت فقیہ کی تعریف میں کچھ خاص شرائط اورقوانین مقررہیں کہ اگریہ شرائط نہ ہوں تو خود بخود مرجعیت اورولایت کا مقام ختم ہوجاتا ہے۔

حکومت ایک الہی مسئلہ اوراللہ کی امانت ہےاوراس کی مقبولیت عوام کے ساتھ مربوط ہے۔ اگردینی حکومت کا سربراہ فقہ اوردین میں درج شرائط کا کھو دے تو وہ خود بخود حکومت سےمعزول ہو جائے گا۔

اس اسلامی حکومت میں لوگوں کی پہلی ذمہ داری یہ ہےکہ وہ نقائص اورکمزوریوں کےمقابلے میں استقامت اورپائیداری کا ثبوت دیں اوروعظ ونصیحت کا موضوع ایک پبلک موضوع ہے دین نے بھی اس کی تائید کی ہوئی ہےکیونکہ اسلامی حکومت کوئی انفرادی،طاغوتی اورآمرانہ حکومت نہیں ہے کہ ایک شخص سب کو برطرف کرکےخود تمام امورکو اپنے کنٹرول میں لےلے۔ جب اسلامی حکومت میں لوگوں کو انتخاب کا حق دیا گیا ہے تو لوگوں کو ولی فقیہ کے معتقد اوربہترین شخص کا انتخاب کرکے دینی اوراسلامی نظام کےنفاد میں سہولتیں فراہم کریں۔

۶۴۷۷۹۰

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

ثقافت اور اس کے موضوعات کو پہچانے بغیر فقہ کوئی حکم نہیں دے سکتی

شبستان نیوز : آیت اللہ مبلغی نے کہا ہے کہ اعلیٰ اقدار اور نیک کاموں کو ترجیح دینے کے حوالے سے دین کی نظریے کو سامنے نہ رکھنا خدا پر افتراء باندھنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت اور اس کے موضوعات کو پہچانے بغیر فقہ کوئی حکم نہیں دے سکتی۔

منتخب خبریں