خبرگزاری شبستان

سه شنبه ۴ مهر ۱۳۹۶

الثلاثاء ٦ المحرّم ١٤٣٩

Tuesday, September 26, 2017

وقت :   Monday, August 21, 2017 خبر کوڈ : 69065

امام جواد(ع) کہاں دفن ہیں؟
خبررساں ایجنسی شبستان: امام کاظم علیہ السلام جب بغداد میں تھے تو اس وقت آپ نےقبرستان قریش میں زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا تاکہ وہان پردفن ہوں اورشہادت کے بعد انہیں اس زمین میں دفن کیا گیا۔ امام جواد علیہ السلام بھی اپنےجد کی قبرکے پچھلےوالے حصے میں دفن ہیں۔ اس روضے پربہت زیادہ مصیبتیں آئی ہیں۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق امام کاظم علیہ السلام جب بغداد میں تھےتواس وقت آپ نے قبرستان قریش میں زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا تاکہ وہان پردفن ہوں اورشہادت کے بعد انہیں اس زمین میں دفن کیا گیا۔ امام جواد علیہ السلام بھی اپنے جد کی قبرکے پچھلےوالے حصے میں دفن ہیں۔ اس روضے پربہت زیادہ مصیبتیں آئی ہیں کہ جن کی طرف مختصرطورپراشارہ کرتے ہیں: ان دونوں ہستیوں کے دفن کے بعد ان کی قبروں پرمقبرے تعمیرکیے گئے کہ جو کاظمین کے نام سے معروف ہوگئے، اس کے بعد اس کے ساتھ ساتھ گھربنائے گئے کہ جو بغداد شہرکے ساتھ دیہات کے نام سےمعروف ہوگیا۔ لیکن انتہائی خوف وہراس کی حالت میں ان دونوں اماموں کی زیارت کی جاتی رہی ہے یہاں تک کہ دیالمہ کے دورمیں خوف ختم ہوگیا توپھرشیعہ جوق درجوق زیارت کے لیے آنے لگے۔

۴۴۳ہجری کو بغداد شہرمیں شیعوں اوراہل سنت کے درمیان بہت زیادہ جھڑپیں ہوئیں کہ جس کے نتیجےمیں ان دونوں اماموں کے مقبروں کو لوٹا گیا اوران کی اہانت کی گئی اورآخرمیں اس ضریح اورمقبرے کو جلا دیا گیا اوروہ ان کی قبرکو کھود کرجنازے کوکسی اورجگہ پرمنتقل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔۴۴۶ھ کو ان کے مقبرے کو دوبارہ تعمیر کیا گیا ۔۴۹۰ہجری کو سلجوقیان کےایک وزیرابوالفضل اسعد بن موسی قمی نے ضریع اوراس کے اطراف میں صحن بنانےکا حکم دیا تھا۔ ۵۱۷ہجری کو مسترشد عباس کی حکومت کے دورمیں مخالفین نے ایک مرتبہ پھرمقبرے پرحملہ کردیا اوروہاں پرموجود ہرچیز کو لوٹ کرلے گئے۔عمارتوں کو خراب کردیا۔۵۷۵ھ کو مستضی بامراللہ عباسی مرگیا تواس کا بیٹا ناصردین اللہ کہ جو اہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں میں سے تھا،خلافت پربیٹھا تواس نےاس مقبرے کو دوبارہ تعمیرکرنےکا حکم دیا تھا۔

ناصردین اللہ عباسی کے بیٹے ظاہربامراللہ کی خلافت کے ایام میں ان دو اماموں کے قبرمیں بہت بڑی آگ لگ گئی کہ جس نے ہرچیز کو جلا کررکھ دیا اوراس کے بعد ظاہربامراللہ نے اسے تعمیرکرنے کا حکم  دیا تھا اوراس کی موت کے بعد مستنصرباللہ نےاس کی تعمیرات کو مکمل کیا تھا۔ ۹۶۶ہجری کو شاہ اسماعیل صفوی نے اس کی عمارتوں کو تعمیرکروایا تھا اوروہاں پرصفوی جامع مسجد کو تعمیرکیا۔ ۱۲۸۷ہجری کو ناصرالدین شاہ قاجارنےمقبرہ پرنئی ضریع بنائی تھی۔۱۲۹۳ہجری کو ناصرالدین شاہ کے چچا فرہاد مرزا نے گزشتہ عمارتوں کو گرا کرنئی عمارتیں تعمیرکی تھیں۔

جواد قیومی اصفہانی کی کتاب( صحیفہ امام جواد علیہ السلام) سے اقتباس

۶۵۰۰۲۴

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

شام کے شہر حلب کی مساجد میں عزاداری سید الشہداء(ع) کا انعقاد

بین الاقوامی: محرم الحرام کی مناسبت سے شہر حلب میں مجالس سید الشہداء(ع) اور عزاداری سید الشہدا(ع) کا اہتمام کیا گیا ہے۔

منتخب خبریں