خبرگزاری شبستان

دوشنبه ۲۷ آذر ۱۳۹۶

الاثنين ٣٠ ربيع الأوّل ١٤٣٩

Monday, December 18, 2017

وقت :   Tuesday, October 10, 2017 خبر کوڈ : 69660
حجۃ الاسلام حسن قائمی:
امام حسین(ع) کا ہدف غدیرسے امت کے انحراف کو ختم کرنا تھا
خبررساں ایجنسی شبستان: امام حسین علیہ السلام نے واقعہ کربلا سے پہلے اپنے متعدد خطبوں میں اپنے قیام کے ہدف کواس طرح بیان فرمایا ہے: (خَرَجتُ لِطَلَبِ الإصلاحِ فِي امّة جدّي) میں اپنے نانا کی امت کے اصلاح کے لیےنکل رہا ہوں اورامت پیغمبرمیں یہ انحراف فقط غدیرسے دورتھی۔

مہدویت تخصصی سنٹرکے استاد حجۃالاسلام والمسلمین حسن قائمی نے خبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگارسےگفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ سقیفہ کا واقعہ ، غدیراورامیرالمومنین علیہ السلام کی جانشینی سے انحراف کوئی ایک اچانک واقعہ نہیں تھا بلکہ مخالفین نے کئی سالوں سے اس کےلیے پلاننگ کررکھی تھی۔ ان افراد نے کئی سالوں سے پلاننگ کرکے اپنے ساتھی بنا رکھے تھے تاکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد خلافت کو غصب کرسکیں اوریہ کوئی اچانک واقعہ نہیں تھا۔

انہوں ںےمزید کہا ہےکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی انہی منصوبوں اوراقدامات پرپریشان تھے۔ لہذا اللہ تعالیٰ آیہ ابلاغ میں فرماتا ہے: «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ) اے پیغمبر جو کچھ اللہ نے تم پرنازل کیا ہے اسے پہنچا دواورپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاخیرکی دلیل لوگوں کی مخالفت اوراآپ کی نبوت کا انکارتھی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ) اللہ تعالیٰ تمہیں لوگوں سےمحفوظ رکھے گا۔

حجۃ الاسلام قائمی نیا نےکہا ہےکہ امام حسین علیہ السلام نے قیام عاشورا کا بیان کرتے ہوئےفرمایا تھا: (أُرِيدُ أَن آمُر بِالمَعرُوفِ وَ أَنهي عَنِ المُنكَرِ) میں امربالمعروف ونہی عن المنکرکرنا چاہتا ہوں۔ امام حسین علیہ السلام جس نیکی اورمعروف کو انجام دینا چاہتے تھے وہ ولایت تھی اورجس منکراور برائی سے منع کرنا چاہتے تھے وہ غدیراورولایت سے انحراف تھی۔

انہوں نے احیائے ولایت کو امام حسین علیہ السلام کے قیام کا اصلی ہدف بتاتے ہوئےکہا ہے کہ آپ نے معاشرے اورامت پیغمبرمیں مظلوم واقع ہونے والی ولایت کو اس کا اصلی مقام دینے کے لیے قیام کیا تھا اوریزید کی طاغوتی ولایت سے منع کیا تھا کہ جو اس وقت کے معاشرے کی برائی تھی۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ غدیراورامامت سے انحراف نے امام حسین علیہ السلام کو شہادت کی منزل پرلاکھڑا کیا اورآپ نےخون کا نذرانہ پیش کرکے اس انحراف کا راستہ روکا تھا۔  ہم زیارت عاشورا میں پڑھتے ہیں: «اَشْهَدُ اَنَّكَ قَدْ اَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَيْتَ الزَّكاةَ، وَاَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَيْتَ عَنِ المُنْكَرِ)۔ واقعہ عاشورا کے بعد لوگ نماز کو نہیں بھولے تھے کہ امام حسین علیہ السلام اسے قائم کرنا چاہتے تھے بلکہ آپ ولایت کے ہمراہ نماز کا احیاء کرنا چاہتے تھے کیونکہ ولایت کے بغیرنماز کا کوئی مقام نہیں ہے۔

660830

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

ثقافت اور اس کے موضوعات کو پہچانے بغیر فقہ کوئی حکم نہیں دے سکتی

شبستان نیوز : آیت اللہ مبلغی نے کہا ہے کہ اعلیٰ اقدار اور نیک کاموں کو ترجیح دینے کے حوالے سے دین کی نظریے کو سامنے نہ رکھنا خدا پر افتراء باندھنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت اور اس کے موضوعات کو پہچانے بغیر فقہ کوئی حکم نہیں دے سکتی۔

منتخب خبریں