خبرگزاری شبستان

دوشنبه ۲۷ آذر ۱۳۹۶

الاثنين ٣٠ ربيع الأوّل ١٤٣٩

Monday, December 18, 2017

وقت :   Wednesday, October 11, 2017 خبر کوڈ : 69671

حضرت حجت(عج) کے ظہورسے قبل حکومت کی تشکیل کا فلسفہ
خبررساں ایجنسی شبستان: عمل اورکردارتبدیلی اورتکامل کا لازمہ ہےاوراگرہمارا عقیدہ ہےکہ حضرت حجت علیہ السلام کو اللہ کی نصرت حاصل ہے اوراللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا تواس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تحریک اورقیام کے بغیرآپ کواللہ تعالیٰ کی نصرت اورمدد نصیب ہوگی ۔ ۔ ۔

خبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگارکی رپورٹ کے مطابق قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ایک برحق وعدہ مومنین کی نصرت اورمدد کرنےکا وعدہ ہے کہ جو عصرغیبت میں امام زمانہ علیہ السلام کے ظہورکی راہ ہموارکرنے کےلیے منتظرین کے دلوں کو گرماتا ہے؛ لیکن قرآن کریم نےاس وعدے کے ساتھ کچھ ایسی شرائط کو بھی مدنظررکھا ہے تاکہ منتظرین جان لیں کہ ان شرائط کے بغیر وہ الہی نصرت کےاہل نہیں ہوسکتے ہیں۔

بنابریں الہی نصرت کے حصول میں موثرعناصرکا جائزہ لینے کے لیےمہدویت تخصصی سنٹرکے علمی بورڈ کے رکن حجۃ الاسلام والمسلمین جواد جعفری سے گفتگو کی گئی ہےکہ جس کا خلاصہ قارئین کے پیش خدمت  ہے:

قرآن مجید فرماتا ہے: «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ» یا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:«إِنَّ اللَّهَ يُدافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا»۔ قرآن کریم کی اس نکتے کی وضاحت کے پیش نظرکہ حتمی اوریقینی نصرت اورکامیابی انبیاء اوراللہ تعالیٰ پرایمان لانے والوں کے لیے ہے تو پھرمہدوی حکومت کے تحقق کے لیے حکومت تشکیل ہونی چاہیے اوران کی کامیابی کے لیے ساتھیوں کو فراہم کرنا چاہیے؟

قرآن کریم میں ان آیات کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی آیات بھی آئی ہیں کہ کہ جن میں مومنین کو اللہ تعالیٰ کی نصرت اورتائید نصیب ہونے کی کیفیت اورشرائط بھی بیان ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْکُمْ وَ يُثَبِّتْ أَقْدامَکُمْ» یعنی یقینا فقط ایمان، نصرت اورکامیابی کا باعث نہیں ہوگا بلکہ ایمان کے ساتھ مومنین کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے تحقق کے لیے اقدامات بھی کرنے چاہییں تاکہ اللہ کے دین کی مدد کی وجہ سے انہیں اللہ تعالیٰ کی مدد اورنصرت نصیب ہوسکے۔

بے شک اللہ تعالیٰ کو ہماری نصرت اورمدد کی ضرورت نہیں ہے اوروہ اس سے منزہ اورمبرا ہے اوراگراس نے فرمایا ہےکہ اللہ کی مدد کرو تو یقینا اس سے مراد دین اورتوحیدی مسلک کی مدد کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے: «إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ إِنَّا لا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا» بنابریں فقط ایمان کافی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال کے لیے ذریعے انہیں آزمائے گا۔ سورہ مبارکہ نورمیں فرماتا ہے: «وَعَدَ اللَّهُ الَّذینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذینَ مِنْ قَبْلِهِمْ» اگرہم فقط ایمان کافی ہوتا تواللہ تعالیٰ اس آیہ میں فرماتا: «وَعَدَ اللَّهُ الَّذینَ آمَنُوا مِنْکُمْ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْأَرْض) اورعمل صالح کی قید کو اٹھا لیتا لیکن اللہ تعالیٰ نےانتہائی واضح اورشفاف بیان میں عمل صالح اوراچھےکردارکو ایمان کےساتھ ذکرکرکے زمین اپنے خلیفہ کی حکومت کی شرط قراردیا ہے تاکہ لوگ اورمومنین جان لیں کہ الہی اجروثواب اوراچھے انجام تک پہنچنےکے لیےعمل، کوشش اورجدوجہد کی ضرورت ہے اوراللہ تعالیٰ پرفقط ایمان دنیاوی اوراخروی سعادت کا سبب نہیں بنے گا۔

بنابریں اگرہم اللہ تعالیٰ کی نصرت اورمدد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کوشش اورجدوجہد کرنا ہوگی۔

661457

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

ثقافت اور اس کے موضوعات کو پہچانے بغیر فقہ کوئی حکم نہیں دے سکتی

شبستان نیوز : آیت اللہ مبلغی نے کہا ہے کہ اعلیٰ اقدار اور نیک کاموں کو ترجیح دینے کے حوالے سے دین کی نظریے کو سامنے نہ رکھنا خدا پر افتراء باندھنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت اور اس کے موضوعات کو پہچانے بغیر فقہ کوئی حکم نہیں دے سکتی۔

منتخب خبریں