خبرگزاری شبستان

دوشنبه ۲۷ آذر ۱۳۹۶

الاثنين ٣٠ ربيع الأوّل ١٤٣٩

Monday, December 18, 2017

وقت :   Wednesday, October 11, 2017 خبر کوڈ : 69682

ایران کی جانب سے امریکہ کو ٹھوس جواب دیئے جانے کے عزم کا اعلان
خبررساں ایجنسی شبستان ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے منگل کے روز اٹلی کے دارالحکومت روم میں منعقدہ بین الاقوامی جوہری تخفیف اسلحہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے شرکا نے جوہری معاہدے کے حوالے سے مثبت مؤقف پیش کیا۔

اس موقع پرانہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اجتماعی تعاون کے ذریعے جوہری معاہدے کو جاری رکھنے کے لئے قدم اٹھائے۔

علی اکبر صالحی نے اس کانفرنس میں جوہری معاہدے پر اسلامی جمہوریہ ایران کے مؤقف پر روشنی ڈالی اور کہا کہ جب تک دوسرے فریق اپنے وعدوں پر قائم رہیں گے تب تک ایران کی جانب سے بھی پاسداری کا عمل جاری رہے گا اور اگر خلاف ورزی کی گئی تو یقینا ایران بھی اس پر جوابی ردعمل دکھائے گا.

انھوں نے کہا کہ بعض ممالک چاہتے ہیں کہ جوہری مذاکرات دوبارہ کئے جائیں جبکہ یہ عمل ناممکن ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب غلام علی خوشرو نے کہا ہے کہ مقابل فریق کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی پاسداری نہ کئے جانے کی صورت میں ایران کی جانب سے مناسب ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔

انھوں نے اقوام متحدہ میں تخفیف اسلحہ اور سلامتی سے متعلق اجلاس میں ایٹمی معاہدے کی اہمیت پر زور دینے والے ملکوں کی قدردارنی کرتے ہوئے اس معاہدے پر مکمل طور پرعملدرآمد کئے جانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی نے بارہا اس بات پر تاکید کی ہے کہ ایران نے ایٹمی معاہدے کی مکمل پاسداری کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب تک مقابل فریق ملکوں کی جانب سے ایمٹمی معاہدے کی پاسداری کی جاتی رہے گی ایران بھی اس پر عمل درآمد کرتا رہے گا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب غلام علی خوشرو نے اس سال موسم گرما میں جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے کی منظوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم قدم اور ترک اسلحہ کے بارے میں جوہری ہتھیاروں کے حامل ملکوں کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی پر سخت اجتماعی ردعمل تھا۔

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

ثقافت اور اس کے موضوعات کو پہچانے بغیر فقہ کوئی حکم نہیں دے سکتی

شبستان نیوز : آیت اللہ مبلغی نے کہا ہے کہ اعلیٰ اقدار اور نیک کاموں کو ترجیح دینے کے حوالے سے دین کی نظریے کو سامنے نہ رکھنا خدا پر افتراء باندھنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت اور اس کے موضوعات کو پہچانے بغیر فقہ کوئی حکم نہیں دے سکتی۔

منتخب خبریں