خبرگزاری شبستان

چهارشنبه ۱ آذر ۱۳۹۶

الأربعاء ٤ ربيع الأوّل ١٤٣٩

Wednesday, November 22, 2017

وقت :   Wednesday, October 18, 2017 خبر کوڈ : 69799

عراق اورشام میں دہشتگردی کی کمرٹوٹ چکی ہے
خبررساں ایجنسی شبستان: کچھ سال ظلم وستم کے داستانیں رقم کرنے کے بعد اب دہشتگرد گروہ داعش کی بنیادیں کمزورپڑرہی ہیں اوراپنے مرکزکےکھو جانے سے اب رقہ بھی سقوط کرتا ہوا نظرآرہا ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق الوطن نےعبدالمنعم علی عیسی کے آرٹیکل کو شائع کرتے ہوئے لکھا ہےکہ دہشتگرد گروہ داعش اکثرعلاقوں پراپنے قبضےکو کھو چکا ہے اورروس کی وزارت دفاع کی رپورٹ کے مطابق اب اس کے زیرکنٹرول علاقے کا کل رقبہ آٹھ فی صد ہے اور شامی فوج کے توسط سے المیادین شہرکی آزادی کے بعد اس رقبے میں بھی کمی آئی ہے۔ عراق میں بھی اس دہشتگرد گروہ کی کوئی بہترصورتحال نہیں ہے۔

 سیاسی اورعسکری شکست کے بعد اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ داعش کس منحوس انجام کی منتظر ہے اوربالفاظ دیگراس دہشتگرد گروہ کے سامنے اب کونسے آپشنزموجود ہیں؟

واشنگٹن نے 2014ء میں دہشتگردی اورداعش کےساتھ جنگ کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کی خبردی تھی لیکن ان کے اقدامات سے بہت زیادہ ابہامات اوراعتراضات پیدا ہوئے تھے۔ درحقیقت امریکہ داعش کی عمرکے لمبا ہونے اوراپنے مفادات کے لیے ان سے استفادہ کرنے کی کوشش میں تھا۔

دسمبر2015ء میں ریاض نے دہشتگردی کےخلاف اسلامی اتحاد کی تاسیس کا اعلان کیا تھا کہ جس کا مقصد داعش کے ساتھ جنگ تھی اوراس اتحاد کا اس وقت اعلان کیا گیا تھا کہ جب مغرب مکمل طورپرسعودی پالیسیوں کی حمایت کرتا تھا اورآل سعود کا وزیرخارجہ شام میں فوج بھیجنےکی باتیں کیا کرتا تھا لیکن اس اتحاد سےکوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوا تھا۔

2016ء کے موسم گرما میں اس واقعات میں تبدیلی رونما ہوئی اورداعش کی تباہی کے لیے ایک علاقائی اوربین الاقوامی عزم وجود میں آیا۔ اس وقت داعش اپنے زیرکنٹرول علاقوں کے جغرافیہ پر نظرثانی کرنے پرمجبورہے تاہم اپنی بقاء کے لیے اس دہشتگرد گروہ کے پاس آپشنز بہت کمزورہیں اوراب یہ گروہ بھی تقسیم ہوتا جارہا ہے، شاید اس گروہ کے بعض عناصراس گروہ کو ترک کرنے اوردیگرممالک میں پناہ لینے پرمجبورہوگئے ہوئے ہیں کہ جہاں پروہ گمنامی کی زندگی بسرکرسکیں۔ یا پھرہتھیارپھینک کراپنے اٌپنےممالک کی طرف پلٹ جائیں تویہ آپشن بھی بہت زیادہ خطروں پر مشتمل ہےکیونکہ جو شخص کئی سالوں تک قتل وغارت کرتا رہا ہے اورلڑنا اس کی عادت بن چکی ہے اس کے لیے اپنی عادی زندگی کی طرف پلٹنا بہت سخت اورمشکل ہے۔ احتمال ہے کہ یہ افراد خفیہ کاروائیوں کے ذریعے اپنے ممالک میں خودکش حملے کریں۔

663218

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

عرب لیگ کے بیان پر حزب اللہ کے سربراہ کا شدید ردعمل

خبررساں ایجنسی شبستان حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب میں حزب اللہ اور ایران کے خلاف عرب لیگ کے اجلاس کے اختتامی بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ اور ایران پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ دشمنوں کی طرف سے ہمیشہ اس قسم کے الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں

منتخب خبریں