خبرگزاری شبستان

چهارشنبه ۱ آذر ۱۳۹۶

الأربعاء ٤ ربيع الأوّل ١٤٣٩

Wednesday, November 22, 2017

وقت :   Wednesday, October 18, 2017 خبر کوڈ : 69803

عصرغیبت میں حضرت حجت(عج) کی برکات
خبررساں ایجنسی شبستان: انتظارایک ایسا موضوع ہےکہ جو غیبت کے سائےمیں معنی پیدا کرتا ہے۔ جب تک غیبت نہ ہو انتظارمتحقق نہیں ہوسکتا ہے۔ حکومت حق کا انتظاردرحقیقت نفی اوراثبات جیسے دوعناصرسے مرکب ہےیعنی موجودہ صورتحال سے نفرت اوربہترصورتحال سےعشق ومحبت۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق اسلامی تھاٹ اینڈ کلچرریسرچ سنٹرکےعلمی بورڈ کے رکن حجۃ الاسلام والمسلمین قاسم ترخان نےاپنی ایک تحریرمیں فلسفہ غیبت اورمسئلہ انتظاراور اسی طرح عصرغیبت میں امام زمانہ علیہ السلام کی برکات کی طرف اشارہ کیا ہے۔

 ابتداء میں مسئلہ غیبت امام زمانہ علیہ السلام اورمسئلہ انتظارمیں یہ کہنا چاہیے کہ غیبت کا سبب الہی اسرارمیں سے ایک راز ہے اورہمیں اس کا علم نہیں ہے تاہم روایات اورعقل کی مدد سےاس کی بعض حکمتوں کوبیان کیا جاسکتا ہے۔ ان حکمتوں کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

الف: جو حضرت امام مہدی علیہ السلام سےمربوط ہیں۔

ب۔ جودیگرامورسےمربوط ہیں۔

حصہ اول:

 روایات میں آیا ہےکہ حضرت امام زمانہ علیہ السلام اس وجہ سےغائب ہوئے ہیں تاکہ کسی کی بیعت آپ کی گردن پرنہ ہو۔ بعض اوقات قتل کے خطرے سے نجات کو بھی فلسفہ غیبت قراردیا گیا ہے۔

طے یہ ہےکہ امام زمانہ علیہ السلام دنیا میں انقلاب برپا کریں اوراس کے تمام امورکی اصلاح کریں اورایک نئے تمدن کی بنیاد رکھیں اوریہ چیزاسی وقت ممکن ہوسکتی ہےکہ جب دنیا کے لوگوں نے مختلف تمدنوں اورحکومتوں کا مشاہدہ کررکھا ہو اوربشریت کے اہداف کے تحقق میں ان کی ناکامی کو دیکھ چکے ہوں تاکہ امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت کی تشکیل کے لیے عالمی سطح پرانتظار کیا جاسئے اوران کو تسلیم کرنے کی راہ ہموارہو۔

دوسرا حصہ:

بندوں کا امتحان ایسے مسائل میں سے ہے کہ روایات میں اسے فلسفہ غیبت کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔

امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں: جب ساتویں امام کے پانچویں بیٹےغائب ہوجائیں تواپنے دین کی حفاظت کرنا، خبردارتمہیں کوئی اپنے دین سےخارج نہ کردے۔ اے میرے بیٹے صاحب الامرکے لیے مجبورا غیبت ہوگی، اس طرح کہ مومنین کا ایک گروہ اپنے عقیدے سے پھرجائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کی غیبت کے وسیلے سےاپنے بندوں کا امتحان لے گا۔

غیبت کے دورمیں امام مہدی علیہ السلام کے وجود کی برکات

1۔ امید کا ہونا؛ زندہ امام کا عقیدہ ایسے ہی ہے کہ جس طرح میدان جنگ میں لشکرکے کمانڈرکے زندہ ہونے کی امید ہوتی ہے کہ جو سپاہیوں کی امید اوردلگرمی کا باعث بنتا ہے۔

2۔ تربیتی اورتہذیب نفس کا اثر

3۔ اللہ کے آئین کی حفاظت ۔

4۔ ایک حملہ آورگروہ کی تربیت۔ غیبت کے دورمیں امام زمانہ علیہ السلام بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے سورج کی مانند ہیں اورلوگ جس طرح بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے سورج سے استفادہ کرتے ہیں اسی طرح امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے دورمیں ان سے راہنمائی لیتے ہیں۔

5۔ روحانی اثرورسوخ ( یعنی تکوینی ولایت کے ذریعے تکوینی تربیت)۔

6۔ خلقت کا ہدف ۔ انسانوں کی مثال باغ کے ان درختوں اورپودوں کی سی ہےکہ جو تکامل کے راستے پرگامزن ہیں جبکہ گمراہ اورمنحرف لوگوں کی مثال جڑی بوٹیوں کی سی ہے کہ جو خود بخود اگ آتی ہیں اورباغبان کا مقصد بھی ان درختوں اورپودوں کی آبیاری کرنا ہےنہ کہ جڑی بوٹیوں کی۔«أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصَّلِحُون».

7۔ واسطہ فیض الہی۔ انسان کامل کا واضح مصداق امام معصوم ہے اورایک طرف سےتو مخلوقات سے وابستہ ہےجبکہ دوسری طرف سے وہ اپنے خالق سے متصل ہے۔ «بهم یرزقون اللَّه عباده و بهم ینزل القطر من السماء و بهم تخرج برکات الارض»۔

663264

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

عرب لیگ کے بیان پر حزب اللہ کے سربراہ کا شدید ردعمل

خبررساں ایجنسی شبستان حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب میں حزب اللہ اور ایران کے خلاف عرب لیگ کے اجلاس کے اختتامی بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ اور ایران پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ دشمنوں کی طرف سے ہمیشہ اس قسم کے الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں

منتخب خبریں