خبرگزاری شبستان

دوشنبه ۲ بهمن ۱۳۹۶

الاثنين ٦ جمادى الأولى ١٤٣٩

Monday, January 22, 2018

وقت :   Tuesday, November 14, 2017 خبر کوڈ : 70212

رضوان و قرب کے مقام تک کیسے پہنچا جائے
شبستان نیوز : بہترین انسان وہ ہے جسے عبادت سے عشق ہو۔ جو عبادت ہی کو اپنا معشوق بنائے، عبادت سے معانقہ کرے اور اپنے پورے وجود سے اسے محسوس کرے۔ اپنے آپ کو عبادت کے لیے فرصت دے۔ جب وہ ایسا کرے گا تو اسے اس چیز سے کوئی پریشانی نہیں ہو گی کہ وہ دنیا میں مشکلات سے دوچار ہو کر زندگی بسر کر رہا ہے یا آسانی سے۔

شبستان نیوز ایجنسی کے نمائندے کی رپورٹ :

حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کے استاد حجت الاسلام قاسم ترخان انسان کے اپنے خالق کے ساتھ ارتباط اور عبادت کے مختلف پہلؤوں پر بحث کرتے ہوئے کہتے ہیں :

ہماری عبادت ہمارے اپنے فائدے میں ہے۔ اس کا کیا معنی ہے؟

اس کا جواب دو طرح سے دیا جا سکتا ہے:

الف : اگرچہ عبادتوں کے آثار بھی ہوتے ہیں لیکن ائمہ معصومین علیہم السلام نے ان آثار کی وجہ عبادات نہیں کیں بلکہ وہ فقط اور فقط خدا وند عالم کی ذات کو مدنظر رکھتے ہوئے عبادات انجام دیتے تھے۔ وہ خدا کو فقط بحیث خدا تسلیم کرتے تھے۔ عبادات سے ان کی کوئی اپنی ذاتی غرض نہ ہوتی تھی۔

انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات تو طے ہے کہ عبادات کے اثرات ہوتے ہیں۔ یہ بے ہودہ اور لغو کام نہیں ہے کیونکہ خداوند عالم کسی بھی ایسے کام کا حکم نہیں دیتا جو لغو اور بے ہودہ ہو۔ عبادات کے یہ اثرات خود انسان پر ہوتے ہیں چاہے وہ عام انسان ہو یا معصومین ہوں۔ البتہ فرق صرف یہ ہے کہ معصومین علیہم السلام عام لوگوں کی نسبت عبادات سے زیادہ لذت اور فائدہ حاصل کرتے ہیں کیونکہ وہ پوری معرفت کے ساتھ عبادات کو انجام دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فقط عبادت ہی ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے انسان خداوند کریم سے قرب اور اس کے رضوان کی منزل  پر پہنچ جاتا ہے۔

669354

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

دوسروں کو امن سے محروم کرنے کا وقت ختم

خبررساں ایجنسی شبستان اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے آج بروز پیر فایننشل ٹائمز میں اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ آج ماضی کے برعکس دوسروں کو امن سے محروم کرنے کا وقت ختم ہو چکا اور سیکورٹی نیٹ ورک قائم کرنے کا وقت آ پہنچا ہے اور امن کو صرف اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے لئے بھی برقرار کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیج فارس کے علاقےمیں ایک خاص گروہ کیلئے امن قائم کرنے کا خیال اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے اس لئے کہ خلیج فارس کے علاقے کے تمام ملکوں کے مفادات مشترکہ ہیں۔

منتخب خبریں