خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۵ آذر ۱۳۹۶

السبت ٢٨ ربيع الأوّل ١٤٣٩

Saturday, December 16, 2017

وقت :   Monday, November 20, 2017 خبر کوڈ : 70301
حجۃ الاسلام اخوان:
تہذیب نفس، نفسانی خواہشات کے مقابلےکا بہترین ذریعہ ہے
خبررساں ایجنسی شبستان: مفسرقرآن کریم نےتہذیب نفس کو انسان کی سعادت کا واحد راستہ بتاتے ہوئےکہا ہےکہ اگرانسان تہذیب نفس نہ کرے اوراپنےآپ کو نفسانی خواہشات کے تابع قراردے دے توممکن ہے کہ ایک دن کربلا کے اشقیاء کی طرح اپنے امام کے مقابلے میں بھی کھڑے ہوجائیں۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق مفسرقرآن کریم حجۃ الاسلام اخوان نے شہید بہشتی مسجد میں ماہ صفرکے تیسرے عشرے کی مناسبت سے منعقد ہونے والے پروگرام میں کہا ہے کہ قران کریم نے یہودیوں کی خبردیتے ہوئےکہا ہےکہ جب وہ کسی مسئلے میں شکست کھاجاتے تو کہتےکہ وہ نجات دینے والا آئے گا اورظالموں سے ہمارا حق لے گا۔

انہوں نے مزید کہا ہےکہ وہ اپنے آپ کو پیغمبرخاتم کے منتظرین میں سے قراردیتے تھے لیکن جب انہوں نے مکہ میں انہیں پہچانا تو ان کی جان کے درپے ہوگئے تھے اوراس 180 درجے کے پلٹنے کی واحد دلیل یہ تھی کہ وہ پیغمبرخاتم کی رسالت کو اپنے مطالبات اوراپنی خواہشات کے پورا ہونے میں دیکھتے تھے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین اخوان نےکہا ہےکہ اپنی رسالت پرمبعوث ہونے سے پہلے معاشرے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محمد امین کے نام سےمشہورتھے۔ تمام لوگ انہیں پہچانتے تھے اوران پراعتماد کرتے تھے۔ جس کے پاس بھی گراں قیمت جنس ہوتی اسے آنحضرت کے پاس امانت کے طورپررکھتے تھے لیکن پیغمبراکرم نے جونہی لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو اس دعوت کے ساتھ مطابقت نہ رکھنے کی وجہ سے انہوں سے ان سےمنہ موڑ لیا۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ خو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سےدشمنی نہیں رکھتے تھے بلکہ آیات الہی کےمخالف تھے یہی وجہ ہے کہ وہ آنحضرت سے کہتے تھےکہ قرآن سے کچھ نہ بولو اس کےعلاوہ کوئی اوربات کرو یا کوئی اورکتاب لےکرآو تم جو کچھ چاہتے ہو ہم تمہارے اختیارمیں دینےکےلیے تیارہیں لیکن ہمیں سود کھانےاورشراب پینے سےمت روکو۔ ہمیں حلال وحرام کی باتیں نہ سناو۔

حوزہ علمیہ کے استاد نےمزید کہا ہےکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دنیا پرست لوگوں کے جواب میں فرماتے : میں جو کچھ بھی کہتا ہوں اللہ کی جانب سے ہے اوریہ میری بات نہیں ہے کہ جسے میں تبدیل کرسکوں، میں بھی اللہ تعالیٰ کے دستورات کی مخالفت کرنے اوراس کے دردناک عذاب سے ڈرتا ہوں۔

حجۃالاسلام اخوان نے آخرمیں کہا ہےکہ رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں حاضرین سے قلم وکاغذ کا مطالبہ کیا تھا اورفرمایا تھا کہ تمہارے کچھ لکھ جاوں تاکہ میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا۔ لیکن افسوس سےکہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے پیغمبرکے کلام کو اہمیت نہ دی اورکہا کہ ہمارے لیے اللہ کی کتاب کی کافی ہے۔ جب آپ کاغذ وقلم سےمایوس ہوگئے تو فرمایا: میں تمہارے درمیان دو گرانبہا امانتیں چھوڑے جارہا ہوں ایک کتاب الہی اوردوسری میری عترت ہے۔ جب تک تم ان دونوں سےمتمسک رہو گے گمراہ نہیں ہوگے اوریہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی بھی جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ حوض کوثرپرمیرے پاس آئیں گی۔

670574

 

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

منتخب خبریں