خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۵ آذر ۱۳۹۶

السبت ٢٨ ربيع الأوّل ١٤٣٩

Saturday, December 16, 2017

وقت :   Tuesday, November 21, 2017 خبر کوڈ : 70310
آیت اللہ مصطفی محقق داماد:
عقل کے مخالفین، امیرالمومنین(ع) کے مخالف ہیں
خبررساں ایجنسی شبستان: آیت اللہ ڈاکٹرمصطفیٰ محقق داماد نےکہا ہے کہ ہماری تعلیمات میں حکمت اوردیانت اوربالفاظ دیگردین اورتعقل کے درمیان دیرینہ رابطہ ہے۔ جولوگ عقل کے مخالف ہیں وہ درحقیقت امیرالمومنین علیہ السلام کے مخالف ہیں۔

خبررساں ایجنسی شبستان کےنامہ نگارکی رپورٹ کےمطابق ایران میں حکمت اورفلسفہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں فلسفہ کےعالمی دن کی مناسبت سے 20نومبرکو(توحیدی ادیان میں حکمت) کے موضوع پرایک سیمینارمنعقد ہوا ہے۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق شہید بہشتی یونیورسٹی کے علمی بورڈ کے رکن آیت اللہ مصطفیٰ محقق داماد نےاس سیمینارسےخطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ ہماری تعلیمات میں حکمت اوردیانت اوربالفاظ دیگردین اورتعقل کے درمیان دیرینہ رابطہ ہے۔ البتہ بعض لوگ انہیں آپس میں بے ربط جانتے ہیں اورکہتے ہیں کہ یہ ایک دوسرے کے مقابلے میں ہیں اوربعض لوگ نبوت اوردیانت کوعقل کی تکمیل کا سبب جانتے ہیں اورعقیدہ رکھتے ہیں کہ اس انبیاء اس لیےآئے ہیں تاکہ جسے بشرکی عقل حاصل نہیں کرسکی ہے اسے پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ موجودہ دورکے ایک فیلسوف سے سنا ہےکہ وہ کہتے ہیں کہ انسان کی عقل نےاسےانبیاء کے گھرکے دروازے تک پہنچا کرواپس آگئی ہے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ قرآن کریم کی سورہ مبارک ملک میں دیانت، حکمت اورتعقل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے(«وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ)۔ ( اگرہم نے سنا اورقبول کیا ہوتا یا تعقل کیا ہوتا تو اہل جہنم میں سے نہ ہوتے۔ اس آیہ میں آیا ہےکہ قیامت کے دن جب ایک گروہ کو جہنم کی طرف لے کرجانا چاہتے ہوں گے تو ان سے سوال کریں گےکہ کیا تمہارے لیےنذیراور راہنما نہیں آیا تھا تو وہ جواب دیں گےکہ آیا تھا لیکن ہم نے انہیں جھٹلا دیا تھا اوراگرہم انبیاء کی باتوں کو سنتے، اگرہم غوروفکرکرتے تو اہل جہنم میں سےنہ ہوتےاورسعادت مند ہوتے۔

شہید بہشتی یونیورسٹی کےاستاد نےکہا ہےکہ میری نظرکے مطابق یہ آیہ مجیدہ یہ نہیں کہنا چاہتی کہ عقل اوردین ایک دوسرے کے مقابلے میں ہیں بلکہ دونوں ہی نجات کا ذریعہ ہیں۔ میں اس طرح تفسیر کرتا ہوں کہ تم ان دونوں میں سے جسے بھی اختیارکرو گے تمہیں مقصد تک پہنچا دے گا۔ اگرتم تعقل کرو گے تو انبیاء کے پیچھے جاوگے۔ عقل ،اللہ، نبوت اورقیامت کو ثابت کرتی ہے اوراگرتم درست دینداری کے پیچھے جاو گےتو وہ بھی تمہیں تعقل کی طرف لےکرجائےگی۔

آیت اللہ محق داماد نےکہا ہےکہ قرآن مجید نے ستائیس مقامات پرلوگوں کو تعقل کرنےکی دعوت دی ہے۔ نہج البلاغہ کے پہلےخطبہ میں بھی اس مطلب کی تاکید کی گئی ہےکہ انبیاء کےآنےکا مقصد کیا تھا؟ تو فرمایا کہ انبیاء تعقل کے لیےآئے تھے۔ بعض اوقات انسان، عقل سےغافل ہوجاتا ہے تو انبیاء تعقل کی دعوت دیتے ہیں۔ جو لوگ عقل کےمخالف ہیں وہ درحقیقت امیرالمومنین علی علیہ السلام کے مخالف ہیں۔

670879

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

منتخب خبریں