خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۵ آذر ۱۳۹۶

السبت ٢٨ ربيع الأوّل ١٤٣٩

Saturday, December 16, 2017

وقت :   Thursday, November 30, 2017 خبر کوڈ : 70439
قائد انقلاب اسلامی:
انتظاریعنی آج کی دردناک صورتحال ہمیشہ کے لیےنہیں رہےگی
خبررساں ایجنسی شبستان: جب آپ سےکہا جاتا ہےکہ انتظاکروتواس کا مطلب یہ ہےکہ آج جو صورتحال تمہیں آزارواذیت پہنچا رہی ہے اورتمہارے دلوں کو رنجیدہ کررہی ہے، وہ ہمیشہ کے لیے نہیں رہے گی اورایک دن ختم ہوجائے گی۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق حسن ملایی کی کوششوں سےتحریرکردہ کتاب (ما منتظریم؛ خورشید مهدویت در منظومه فکری حضرت آیت الله خامنه ای رهبر معظم انقلاب اسلامی) میں آیا ہے:

امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت کےمسئلہ اوراس حقیقت پراعتقاد کےحوالے سے اگرانسان دو لحاظ سے جستجوکرے تو وہ بہت عظیم اثرات کا مشاہدہ کرے گا ۔ ۔ ۔

دوسرا لحاظ سماجی زندگی کےمیدان اورجو کچھ بشراورملتوں کی تقدیرہے،سےمربوط ہے۔ اس میدان میں مسئلہ مہدی(عج) کا عقیدہ اورظہور، فرج اورانتظارکا موضوع ایک عظیم خزانہ ہے کہ جس سے ملتیں بہت زیادہ استفادہ کرسکتی ہیں۔ آپ ایک طوفانی سمندرمیں ایک کشتی کو فرض کریں کہ اوراس میں موجود افراد کا یہ نظریہ ہو کہ ہزاروں میل تک کوئی ساحل موجود نہیں ہےاوران کے پاس کھانے پینے کاسامان بہت کم ہو تو وہ کیا کرتے ہیں؟ کیا وہ کشتی کو آگے بڑھانے اورخود حرکت کرنے کی کوشش کریں گے؟ نہیں چونکہ ان کی نظرمیں موت یقینی ہے۔ جب انسان کی موت یقینی ہو تو پھرکوئی حرکت اورکوشش نہیں کرسکتا ہےکیونکہ وہ مایوس ہوچکا ہے۔

البتہ وہ ایک یہ کام کرسکتے ہیں کہ وہ اس چھوٹے سےمجموعے میں ہرکوئی اپنےکام میں سرگرم ہوجائے۔ جو لوگوں کو آرام وسکون دینے کے لیے ہے وہ سوجائےتاکہ مرجائے اورجو دوسروں کے حقوق پرڈاکہ ڈالنے والا ہے وہ دوسروں کا حق چھین لے تاکہ کچھ دیرزیادہ زندہ رہ سکے۔

جبکہ ایک اورفرض یہ ہےکہ اسی کشتی میں موجود افراد کو یقین اورمعلوم ہوکہ ان کے نزدیک ایک ساحل موجود ہے۔ البتہ وہ ساحل کی دوری اورنزدیکی سے بےخبرہیں اوراس تک پہنچنےکےلیے کتنی محنت کی ضرورت ہے، یہ بھی معلوم نہیں ہے لیکن ساحل یقینا موجود ہے۔ تو یہ افراد کیا کریں گے؟ وہ اپنے آپ کو ساحل تک پہنچانےکی کوشش کریں گےاوراگرانہیں ایک گھنٹے کا وقت دیاجائے تو وہ سیدھے راستے اورصحیح حرکت اورکوشش کے لیےاس ایک گھنٹے سےاستفادہ کریں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کراپنےآپ کو ساحل تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

امید کا یہ کردارہے۔ جونہی انسان کے دل میں امید کی کرن پیدا ہوتو موت کا تصورختم ہوجاتا ہے۔ امید انسان کی کوشش اورحرکت کا باعث بنتی ہے۔ فرض کریں کہ جو ملت ظالمانہ طاقت کے تسلط میں واقع ہے اوروہ مایوس ہوچکی ہے تو یہ ملت اس طاقت کے سامنے تسلیم ہونے پرمجبورہے، اگرتسلیم نہ ہوتو بےہدف اوراندھے کام کرے گی۔ لیکن اگریہ ملت اورجماعت اپنے دل میں امید رکھتی ہو اورجان لےکہ اس کا انجام بہترین ہوگا تو وہ کیا کرے گی؟ قدرتی بات ہے کہ ایسی ملت جدوجہد کرے گی اوراپنی جدوجہد کونظم ضبط دے گی اوراس جدوجہد کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہوئی تواسے برطرف کرے گی۔

آپ دیکھیں کہ اس صورت میں انسان کس قدرخوش ہوگا اورامام زمانہ علیہ السلام پرعقیدے کا یہ کردارہے۔ یہ وہی عقیدہ ہےکہ جس نے آج تک شیعوں کو تاریخ کےعجیب وغریب پیچ وخم سے عبوردیا ہے۔ اورآج اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سےاسلام اورقرآن کا عظیم پرچم ایرانی شیعوں اور مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف پراعتقاد کی خصوصیت ہے۔ امام زمانہ علیہ السلام کا عقیدہ انسان کے باطن اوراس کی سماجی حرکت اورحال اورمستقبل پراتنی عظیم تاثیررکھتا ہے۔ اس کی قدرکرنی چاہیے۔(1)

1۔ حضرت ولی عصر(عج) کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے لوگوں کے اجتماع سے خطاب

17/10/1374

671807

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

منتخب خبریں