خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۵ آذر ۱۳۹۶

السبت ٢٨ ربيع الأوّل ١٤٣٩

Saturday, December 16, 2017

وقت :   Saturday, December 02, 2017 خبر کوڈ : 70447
حجۃ الاسلام محمد رضا زارع:
وحدت، ظہورکو قریب کرتی ہے
خبررساں ایجنسی شبستان: ظہورمیں تاخیرکا ایک سبب مسلمانوں کےدرمیاں تفرقہ ہے لیکن اگرتفرقہ کو ختم کرکےمشترکہ نکات پرتوجہ دی جائے اورپھرتمام مسلمان ( قل لا أَسئَلُكُم عَلَیهِ أَجراً إِلاَّ المَوَدَّةَ فِی القُربی) کے پرچم تلےجمع ہوجائے توان کی مودت سےظہورنزدیک ہوجائے گا۔

ایران کےشہردزفول کےحضرت مہدی موعود(عج) ثقافتی فاونڈیشن کےسربراہ حجہ الاسلام والمسلمین محمد رضا زارع نےخبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگارسےگفتگو کے دوران حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت اورہفتہ وحدت کی آمد کی مناسبت سےکہا ہے کہ قرآن کریم نےمسلمانوں کے درمیان اتحادووحدت کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے: ایک جگہ پرفرماتا ہے: (قُل ان كنتم تُحبّون اللهَ فاتّبعونی یُحببكمُ اللهُ)اگرتم اللہ سےمحبت کرتے ہو تو میری اتباع کرے تاکہ اللہ بھی تم سےمحبت کرے۔ ایک اورآیہ میں فرماتا ہے: «قُلْ أَطِيعُوا اللّه وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللّه لا يُحِبُّ الْكافِرِينَ)۔ کہہ دیجیےکہ اللہ اوررسول کی اطاعت کرو،پس اگرتم نےمنہ موڑا تو اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا ہے۔ یعنی  اگرافراد اللہ اوراس کے پیغمبرکی اطاعت نہ کریں تو کافروں میں سے ہوجائیں گے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ ان دوآیات کی بنا پر پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کے درمیان وحدت کا مرکز ہیں۔ ایک اورآیہ مجیدہ میں آیا ہے: (قل لا أَسئَلُكُم عَلَیهِ أَجراً إِلاَّ المَوَدَّةَ فِی القُربى) کہہ دیجیےکہ میں تم سےکوئی اجرنہیں مانگتا مگریہ ہےکہ میرے قرابتداروں سےمحبت کرو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے پیغمبرکی رضایت حاصل کرنی چاہیے اوراس آیت کی بنا پر پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضایت کےحصول کےلیےاہل بیت علیہم السلام کی رضایت کو حاصل کرنا چاہیے۔

حجۃ الاسلام زارع نےکہا ہےکہ تمام مسلمانوں نےپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرکزیت اوران کےمعجزہ قرآن کریم کو قبول کیا ہوا ہے۔ امام زمانہ علیہ السلام بھی قرآن کریم اورپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کےاحیاء کےلیےقیام کریں گے۔ امیرالمومنین امام علی علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: جب دنیا پرنفسانی خواہشات کی حکومت ہوگی تو حضرت امام مہدی علیہ السلام اس وقت اس کی جگہ پرہدایت اورسعادت کی حکومت قائم کریں گے اورجب معاشرے پرلوگوں کے ذاتی نظریات مسلط ہوں گے تو وہ افراد کو قرآن کریم کی جانب متوجہ کریں گے اوراسلامی معاشرے پراس الہی کتاب کو حاکم قراردیں گے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ جب مومنین کے دلوں سے بغض وکینہ اورجہالت پرمبنی تعصب ختم ہوجائےگا اوران کے سامنےحقیقت آشکارہوجائےگی توامام زمانہ علیہ السلام کی صحیح تفسیرسے آیہ شریفہ(قل لا أَسئَلُكُم عَلَیهِ أَجراً إِلاَّ المَوَدَّةَ فِی القُربى) کا حقیقی جلوہ ہوگا۔

مہدویت کےاس محقق نےشیعہ اورسنی کےدرمیان وحدت کو ظہورکی راہ ہموارکرنےکا ذریعہ بتاتے ہوئے کہا ہےکہ ظہورمیں تاخیرکا ایک سبب مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ہےکہ جو حق سے دوری کا باعث بنتا ہے۔ لہذا اگریہ تفرقہ ختم ہوجائےاورمشترکہ نکات پرتوجہ دی جائے تاکہ دل ایک دوسرے کے قریب ہوجائیں تو اس وقت امام علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق دلوں سے بغض وکینہ ختم ہوجائےگا اورحقیقت کھل کرسامنےآجائےگی۔ بنابریں تمام لوگ«قل لا أَسئَلُكُم عَلَیهِ أَجراً إِلاَّ المَوَدَّةَ فِی القُربى» کے پرچم تلے جمع ہوجائیں گے اوراہل بیت علیہم السلام کی محبت اورمودت، ظہورکو قریب کردے گی۔

672959

 

 

کلیدی الفاظ:
|
|
|

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

منتخب خبریں