خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۵ آذر ۱۳۹۶

السبت ٢٨ ربيع الأوّل ١٤٣٩

Saturday, December 16, 2017

وقت :   Tuesday, December 05, 2017 خبر کوڈ : 70485

بیت المقدس کے بارے میں ٹرمپ کےحالیہ فیصلےپراو آئی سی کا انتباہ
خبررساں ایجنسی شبستان: او آئی سے اسرائیل کےدارالحکومت کےعنوان سے بیت المقدس کو تسلیم کرنے یا دیگراداروں کو اس شہرمیں منتقل کرنے پرخبردارکرتے ہوئےاسےاسلامی اورعربی امت اورمسلمانوں اورعیسائیوں کےحقوق پرڈاکہ قراردیا ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان نےفلسطین انفارمیشن سنٹرکے حوالے سےنقل کیا ہےکہ او آئی سی سوموار کو اپنے ہنگامی اجلاس کے اختتامی بیانیےمیں کہا ہےکہ صہیونی حکومت کے دارالحکومت کے عنوان سے بیت المقدس کو تسلیم کرنا بین الاقوامی قوانین، جنیوا کے چوتھے کنوینش اورسلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

یہ بیانیہ امت مسلمہ کےنزدیک مسئلہ فلسطین بالخصوص بیت المقدس کی مرکزیت کی تاکید کرتا ہے اوراس شہرکو او آئی سی کا مستقل دفترقراردیتے ہوئےاعلان کرتا ہےکہ یہ شہراسلامی اورعربی تشخص رکھتا ہےاوریہ فلسطین کا دارالحکومت ہے۔

او آئی سی صہیونی حکومت کےمکمل قبضےکی غرض سےمقبوضہ بیت المقدس کےخلاف غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرتی ہےکہ جس کا ہدف اس شہرکی تاریخی اورقانونی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔ اسی طرح یہ آرگنائزیشن امریکی حکام کےغیرذمہ دارانہ بیانات اورموقف کی مذمت کرتی ہے کہ جس کی وجہ سےمسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔ یہ آرگنائزیشن اعلان کرتی ہےکہ اس قسم کے بیانات بین الاقوامی امن اورسلامتی کے لیے خطرہ ہیں اورا سکےخطرناک نتائج نکلیں گے۔

اس بیانیےمیں ایک مرتبہ پھر بیت المقدس شہرکے بارے میں صہیونی حکومت کےتوسط سے منظور ہونے والےتمام قوانین اوراقدامات کوغیرقانونی قراردیتے ہوئے تمام ممالک، آرگنائزیشنزاورانسٹی ٹیوٹس سےمطالبہ کیا گیا ہےکہ وہ ان اقدامات کو تسلیم نہ کرتے ہوئےان کے ساتھ تعاون نہ کریں۔

اس آرگنائزیشن نےاقوام متحدہ بالخصوص سلامتی کونسل میں اسلامی ممالک کے سفراء سےمطالبہ کیا ہےکہ وہ عرب لیگ کے رکن ممالک کے نمائندوں سےتعاون کرکے بیت المقدس کی صورتحال کو تبدیل کرنے کےلیےکیےجانے والےاقدامات کا مقابلہ کریں اوراس کونسل کی منظورشدہ قراردادوں کی خلاف ورزی کے بارے میں سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد کریں۔

673898

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

منتخب خبریں