خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۵ آذر ۱۳۹۶

السبت ٢٨ ربيع الأوّل ١٤٣٩

Saturday, December 16, 2017

وقت :   Wednesday, December 06, 2017 خبر کوڈ : 70508
آیت اللہ اراکی:
ہم اس وقت اسلامی تمدن کے نئےمرحلےمیں داخل ہورہے ہیں
خبررساں ایجنسی شبستان: تقریب مذاہب اسلامی ورلڈ اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نےکہا ہےکہ ہم معتقد ہیں کہ ہم نئے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں اوریونیورسٹیزاورحوزہ ہائےعلمیہ کو بھی اس میدان میں داخل ہونا چاہیے اوراسلامی ایرانی تمدن کے نمونہ عمل پربھروسہ کرکے اسلامی تمدن کے نئے مرحلے میں داخل ہونا ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کےنامہ نگارکی رپورٹ کے مطابق تقریب مذاہب اسلامی ورلڈ اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ محسن اراکی نے 5 دسمبرکو ایران کے چینل نمبر2 کی خصوصی گفتگو کے دوران کہا ہےکہ موجودہ معاشرے کو نئےاسلامی تمدن میں داخل ہونےکےلیےآمادہ وتیاررہنا چاہیے۔ البتہ اس میدان میں داخل ہونے کےلیے ہمیں نئے اسلامی تمدن کی وضاحت کرنی چاہیے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ درحقیقت نئے اسلامی تمدن کی وضاحت کےلیے ہمیں اس طرح عمل کرنا چاہیے کہ ایک ایرانی جوان کو اس نئے اسلامی تمدن کا مکمل آئینہ ہونا چاہیے۔

آیت اللہ اراکی نے اس بات پرزوردے کرکہا ہےکہ ہمارا عقیدہ ہےکہ ہم اس وقت نئے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں اورخطے میں دہشتگردی کے محاذ کی شکست کے بعد ہماری بات کو مزید سنجیدہ لینا چاہیے، خطے میں جو کچھ رونما ہوا ہے وہ استعمارکےخلاف ایک حرکت اوریلغارتھی، آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایرانی رسومات، لباس اورپروڈکٹس اورآرٹ کا مقابلہ کیا جارہا ہے یہاں تک کہ ایرانی فلموں کی نمائش کا بھی راستہ روکا جارہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہےکہ اس وقت داعش کی شکست کے ساتھ عالمی استعمارکو شکست ہوئی ہے اور داعش فقط ایک وسیلہ تھا اوراس شکست نے نئےاسلامی تمدن کے لیے راستہ کھول دیا ہے اوراس کے بعد اسلام دنیا میں اپنی تعلیمات پیش کرسکتا ہے اورہمیں اس مطلب کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ وحدت کے بغیرنیا اسلامی تمدن تشکیل نہیں پاسکتا ہے۔

تقریب مذاہب اسلامی ورلڈ اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نےکہا ہے کہ مغربی تمدن نے جنگ کے ذریعے اپنے کام کا آغازکیا تھا۔ امریکہ ایک ایسا ملک تھا کہ جس پرمغرب نے حملہ کرکے اس کے لوگوں کا قتل عام کیا تھا، درحقیقت انہوں نےامریکی ثقافت میں داخل ہوکراسے تبدیل کردیا تھا۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ عالمی استعمارشیعہ اورسنی کے درمیان جنگ کے لیے ہرممکنہ وسیلے سے استفادہ کرتا ہے۔ مغربی طاقتیں اسلامی ممالک میں فرقہ واریت کو ہوا دیتی ہیں اورہمارے خطے کے ہرقسم کے واقعہ کو شیعہ اورسنی کی جنگ سے جوڑتی ہیں اوریہ مغرب کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہےکہ نفسیاتی اورروحانی لحاط سےخطے اوردنیا کے لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ دشمن کی طاقت سے زیادہ ہے۔ عسکری طاقت کےلیےثقافتی اورنظریاتی طاقت کی بھی ضرورت ہے کہ مزاحمتی فورسزان طاقتوں کی مالک ہیں۔ بنابریں ماہرین آرٹ اور مزاحمتی محاذ کے مجاہدین اگرخوب محنت کریں تو ہمارا مستقبل بہت بہترہوگا۔

آیت اللہ اراکی نےکہا ہےکہ مزاحمت کے درس نے ہمارے لیے ثابت کردیا ہےکہ ہم جو چاہتے ہیں وہ کرگزرتے ہیں۔ ہم الہی وعدوں کو اپنے معاملات میں داخل کرسکتے ہیں، اللہ تعالیٰ پرتوکل ہماری مدد کرسکتا ہے، ہم اگراللہ تعالیٰ کے فرمان کے تابع ہوں اوراسلام کے وعدہ پرعمل کریں تو ہم یقینا کامیاب ہوجائیں گے۔

674190

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

منتخب خبریں