خبرگزاری شبستان

یکشنبه ۱ بهمن ۱۳۹۶

الأحد ٥ جمادى الأولى ١٤٣٩

Sunday, January 21, 2018

وقت :   Saturday, January 06, 2018 خبر کوڈ : 70908

امام علی(ع) کی انسان کی ناپائیدارحالت کے بارے میں روایت
خبررساں ایجنسی شبستان: ایسے انسان کی حالت کیا ہوگی کہ جو اپنی بقاء میں ناپائیدار اورسلامتی میں بیمارہے اورجب وہ آرام وسکون میں ہوتا ہے تو موت اسے گھیرلیتی ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق امیرالمومنین حضرت امام علی علیہ السلام کی علوی تعلیمات اورخالص حکمتیں نہ فقط امام علیہ السلام کی ظاہری حیات بلکہ قیامت تک حیات طیبہ تک پہنچنےکا بہترین روڈ میپ ہے۔

حضرت امیرالمومنین امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: (كَيْفَ يَكُونُ حَالُ مَنْ يَفْنَى بِبَقَائِهِ وَ يَسْقَمُ بِصِحَّتِهِ وَ يُؤْتَى مِنْ مَأْمَنِهِ) ایسےانسان کی حالت کی ہوگی کہ جو اپنی بقاء میں ناپائیدار اورسلامتی میں بیمار ہےاورجب وہ آرام وسکون میں ہوتا ہےتو موت اسےگھیرلیتی ہے۔

پیغام: اگرہم (مامن) کو مصدرمیمی قراردیں تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ موت، خوف اوربیماری اور آخرت جیسےامورانسان کی ناخوشی اورغمی کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن اگر(مامن) کو اسم مکان قراردیں تو اس کا معنی یہ ہےکہ درد اورمشکلات اس تک پہنچ جاتی ہیں اوریہ دنیا کےحالات اورامورمیں سے ہیں کہ جو اس کی سلامتی کا مکان ہے اوراس سےاجتناب کرنا ممکن نہیں ہے۔ انسان کی بقاء سےمراد زندگی کی مدت کا تسلسل اور زمان کےاجزاء کا آنا ہےکہ جوموت کے وقت کے نزدیک ہونےکا باعث بنتےہیں۔ انسان کی بقاء بھی اس کے فنا کا باعث بنتی ہے۔ ایک وقت انسان مکمل صحت میں ہوتا ہےاوربیماری میں مبتلا نہیں ہوتا ہے یعنی اگربیمارہوجائےتو وہ اپنی صحت کے درپےہوتا ہے وگرنہ وہ کبھی بھی اس چیز کی طرف متوجہ نہیں ہوتا ہے۔ جب تک ہم سلامت ہیں اس وقت تک ہمیں اس کی قدرکرنی چاہیے اوراس کی عافیت کو سمجھنا چاہیےاوربیماری میں مبتلا نہ ہوں۔

حجۃ الاسلام محمد رضا ہادی زادہ کی کتاب( حکمت ہای نہج البلاغہ) سےاقتباس

680391

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

حجت الاسلام حسینی:

مومن کی توہین غضب الہی کا پیش خیمہ ہے

سماجی: حوزہ علمیہ کے استاد نے کہا شکرانہ انداز میں کسی بھی مومن کی توہین کرنا غضب الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

منتخب خبریں