خبرگزاری شبستان

یکشنبه ۱ بهمن ۱۳۹۶

الأحد ٥ جمادى الأولى ١٤٣٩

Sunday, January 21, 2018

وقت :   Tuesday, January 09, 2018 خبر کوڈ : 70948
حجۃ الاسلام محمد رضا عسکری:
منتظرکی ذمہ داری(یمانی)اور(سفیانی) کو تلاش کرنا نہیں ہے
خبررساں ایجنسی شبستان: امام مہدی علیہ السلام سےمربوط کسی ایک بھی دعا اورزیارت میں ظہور کی علامات کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا ہے اورشیعوں کو اس موضوع کا حکم نہیں دیا گیا ہےکہ وہ علامات کو پہچانیں اوراس کا مصداق تلاش کریں۔ بلکہ اہم مطلب، انتظارکی شرائط اورامام زمانہ علیہ السلام کی معرفت اورشناخت ہے۔

ایران کے صوبہ البرزکےحضرت مہدی موعود(عج) ثقافتی فاونڈیشن کےسربراہ حجۃ الاسلام محمد رضا عسکری نےخبررساں ایجنسی شبستان کےنامہ نگارسےگفتگو کے دوران دینی مآخذ میں مہدوی موضوعات کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہےکہ مہدوی موضوعات پرقرآنی، روائی اور تاریخی مآخذ کے ہونے سےمعلوم ہوتا ہےکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورائمہ معصومین علیہم السلام اس موضوع پرخصوصی توجہ دیا کرتے تھےجس طرح کہ ہرامام نےاپنی امامت کے دورمیں اس موضوع کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ روایات میں تحقیق کرنے سےمعلوم ہوتا ہےکہ اہل بیت علیہم السلام نے انتظارکی تعلیمات کےحوالے سےجس چیزپرسب سے زیادہ تاکید فرمائی ہے وہ ذمہ داریوں کی شناخت اورپھران پرعمل کرنا ہے۔ بنابریں اگرہم اس اصل(یعنی ذمہ داریوں کی شناخت اوران پرعمل) سے دور ہوگئے تو پھرہم ایسے میدان میں داخل ہوجائیں گےکہ جو ہمیں عقیدہ مہدویت اوراس بارے میں اہل بیت علیہم السلام کی تاکیدات سے دورلےجائے گا۔ کیونکہ اہل بیت علیہم السلام کی نظر میں مہدوی معارف ، انتظار، غیبت اورامام قائم علیہ السلام کے فوائد جیسےموضوعات پرمشتمل ہیں۔

حجۃ الاسلام عسکری نےمزید کہا ہےکہ اس درمیان جس ایک مسئلےکی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ ظہورکی علامات ہیں۔ لیکن روایات میں شائد ظہورکی علامات مہدوی موضوعات کا ایک چھوٹا سا موضوع ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں دو بحثیں ہیں:

1۔ ظہورکی شرائط،                    2۔ ظہورکی علامات

ان دونوں موضوعات کے درمیان ایک اہم فرق یہ ہےکہ ظہورکی شرائط کے بارے میں ہماری گردن پرکچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جبکہ ظہورکی علامات کے بارے میں ہمارے اوپرکوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ہے۔

انہوں نےامام مہدی علیہ السلام سےمربوط دعاوں اورزیارات کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ اگرہم ان دعاوں اورزیارات میں غوروفکرکریں تو معلوم ہوتا ہےکہ ان میں سے کسی ایک بھی دعا اورزیارت میں ظہورکی علامات کوبیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ انتظارکی شرائط ، امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت، اس راہ پرثابت قدم رہنے، فرج کےلیے دعا کرنے اوراپنے آپ کو آمادہ وتیارکرنےکی ضرورت پرزوردیا گیا ہے۔

مہدویت کےاس محقق نے اس بارے میں آیت اللہ جوادی آملی کےکلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ جوادی آملی کی تعبیرکے مطابق عصرغیبت میں شیعوں کی ایک ذمہ داری دعائے( اللھم عرفنی حجتک ۔ ۔ ۔) ہے لیکن اس دعا کے کسی ایک مقام پربھی ظہورکی علامات کوبیان نہیں کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہےکہ ظہور کی علامات سے مربوط روایات کے بارے میں تین قسم کے نظریات پائےجاتے ہیں:

نظریہ اول: شدت پسندانہ نظریہ ہے۔ اس نظریہ کےمطابق کہا جاتا ہےکہ ہمارے پاس تقریبا دو سو علامات ظہورہیں کہ جن میں سے 195علامات متحقق ہوگئی ہیں اوراب فقط پانچ علامات باقی رہ گئی ہیں۔ یہ نظریہ علامات اوران کے مصادیق کو تلاش کرنےکواہمیت دیتا ہےکہ جو مہدوی معارف کی آفات میں سے شمارہوتا ہے اوراس پربہت زیادہ اعتراضات بھی کیے گئے ہیں۔ اس نقطہ نظرکے تحت روایات کو سمجھے، اس کے متن اوراس کی سند کے بارے میں علمی گفتگو نہیں کیا جاتی ہے بلکہ جس کتاب میں جس قسم کی حدیث ہو اسےنقل کردیا جاتا ہے۔ دنیا میں جو بھی واقعہ رونما ہوتا ہے اسے فوری طورپرعلامات ظہورپرمنطبق کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ زلزلہ یا کسی ایک ملک میں مرنے والے شخص کو بھی مصداق کےطورپرپیش کیا جاتا ہے۔

نظریہ دوم: احتیاط پرمبنی نظریہ ہے۔ اس نظریے میں کہا جاتا ہےکہ ہمیں ظہورکی علامات کا مطالعہ کرنا چاہیے، روایت کےمتن، اس کی سند اورتاریخ کو دیکھنا چاہیے اورپھرانتہائی احتیاط اوردقت کے ساتھ اسےمختلف واقعات پرمنطبق کرنا چاہیے۔

نظریہ سوم: تاریخی نگاہ پرمشتمل ہے۔ یعنی اس نظریےکےمطابق جن بعض روایا ت میں ظہورکی علامات کے بارے میں بیان آیا ہے وہ درحقیقت پیشگوئیاں ہیں۔ یعنی اہل بیت علیہم السلام نے اپنے بعد آنے والے سالوں کے دوران پیش آنے والے واقعات کی پیشگوئی فرمائی ہے۔ مثال کےطورپربنی عباس کے دورمیں ایک واقعہ رونما ہوا اورختم ہوگیا۔ لیکن بعض افراد ہرلحاظ سے اسےموجودہ دور کے ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں اوراس کے لیے مصداق ڈھونڈنا چاہتے ہیں۔ لہذا ان پیشگوئیوں کوموجودہ دورکے ساتھ نہیں جوڑنا چاہیے۔

مہدویت تخصصی سنٹرکےاستاد نےکہا ہےکہ مجموعی طورپرہماری روایات میں آخرالزمان میں جس چیز کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے وہ فقہاء اورعلمائےدین کی طرف رجوع کرنا ہے۔ ضمنا یہ بات بھی کہہ دوں کہ ظہورکےلیےجن پانچ حتمی علامات ( آسمان سے آوازکا آنا، سفیانی کا خروج، بیداء کےعلاقےمیں زمین کا دھنس جانا، یمن سےایک مرد کا قیام اورنفس زکیہ کا قتل) کا نام لیا گیا ہےان میں سے تین علامات کو گھڑا جا سکتا ہے یعنی اسے ناممکن خیال نہ کریں کہ ہمارے مخالفین کسی ایک شخصیت کو سفیانی یا دجال کا نام دے کرپوری دنیا میں مشہورکردیں تاکہ شیعہ اس میں مصروف ہوجائیں۔ یہ ان کے لیےکوئی دشوارکام نہیں ہے۔ فقط دو علامات یعنی بیداء میں زمین کا دھنسا اورآسمانی آواز کو گھڑا نہیں جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا ہےکہ علامات ظہورپرمشتمل روایات ایسی روایا ت ہیں کہ جن میں بعض اوقات تضاد دیکھا جاسکتا ہے کہ جس کےلیےعلمی بحث کی ضرورت ہے اوراس بارے میں ہرکتاب کی طرف بھی رجوع نہیں کرنا چاہیے۔ بنابریں ہمیں سب سے زیادہ مہدویت سےمربوط اصلی موضوعات اور منتظرین کی ذمہ داریوں پرتوجہ دینی چاہیےاورغیرضروری موضوعات سےاجتناب کرنا چاہیے۔

680281

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

حجت الاسلام حسینی:

مومن کی توہین غضب الہی کا پیش خیمہ ہے

سماجی: حوزہ علمیہ کے استاد نے کہا شکرانہ انداز میں کسی بھی مومن کی توہین کرنا غضب الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

منتخب خبریں