خبرگزاری شبستان

سه شنبه ۴ اردیبهشت ۱۳۹۷

الثلاثاء ٩ شعبان ١٤٣٩

Tuesday, April 24, 2018

وقت :   Tuesday, January 09, 2018 خبر کوڈ : 70949

آخرالزمان میں منتظرین کی بےانتہاء دولت
خبررساں ایجنسی شبستان: قناعت اورکفایت شعاری انسان کےلیےباطنی آرام وسکون کاباعث بنتی ہے اورجس کے پاس کفایت شعاری نہ ہو وہ ہمیشہ کمی اورناداری کا احساس کرتا رہتا ہےاوراس کی آنکھیں سیرنہیں ہوتی ہیں۔اسی لیے حضرت امام علی علیہ السلام نے کفایت شعاری اورقناعت کو ایک عظیم سرمایہ قراردیا ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق قرآن کریم میں مومنین اورنیک اعمال انجام دینے والوں کو اللہ کی جانب سے(حیات طیبہ) عطا کرنےکا وعدہ دیا گیا ہے۔(1)

تفاسیر میں حیات طیبہ کا معنی اس رزق پرراضی رہنا اورقناعت کرنا ہےکہ اللہ نےجوعطا کیا ہے۔ (2) کیونکہ لالچ اورزیادہ طلبی پرمشتمل زندگی گناہ ، حرام کمائی اوردوسروں کےحقوق پرڈاکہ ڈالنے کا باعث بنتی ہے۔

قناعت کا مطلب یہ ہےکہ انسان کے پاس جو کچھ ہے، اس پرراضی اورقانع ہواوردنیا کےمال کی طمع نہ کرے اورجس مال ودولت کی ضرورت نہیں ہے اس کے پیچھےنہ جائے اوردوسروں کے پاس موجود مال ودولت کا لالچ نہ کرے۔

بہت سی روایات میں اس مال ودولت پرراضی رہنے اوراس پراکتفا کرنے کاحکم دیا گیا ہے اور غیرضروری مال ودولت جمع کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

قناعت اورکفایت شعاری انسان کے لیے باطنی آرام وسکون کاباعث بنتی ہےاورجس کے پاس کفایت شعاری نہ ہو وہ ہمیشہ کمی اورناداری کا احساس کرتا رہتا ہے اوراس کی آنکھیں سیرنہیں ہوتی ہیں۔ اسی لیے حضرت امام علی علیہ السلام نےکفایت شعاری اورقناعت کو ایک عظیم سرمایہ قراردیا ہے اورپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا ہے: «القِناعَة مالٌ لایَنفَد» قناعت ایک ایسی دولت ہےکہ جو ختم نہیں ہوتی ہے۔(3)

امیرالمومنین امام علی علیہ السلام نےفرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو کچھ عطا کیا ہےاورتیری قسمت میں ہےاس پرراضی رہو اورجو کچھ دوسروں کے پاس ہے اس کی طرف نگاہ مت کرو اورجس چیز تک تمہاری رسائی نہیں ہےاس کی تمنا اورآرزونہ کرو، جو شخص کفایت شعاراورقانع ہو وہ سیرہوتا ہے اورجو شخص قانع اورکفایت شعارنہ ہو وہ ہرگزسیرنہیں ہوسکتا ہے۔(4)

حضرت جبرائیل علیہ السلام نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکرعرض کیا: اللہ تعالیٰ آپ کو سلام پہنچاتا ہےاورفرمایا ہے: کیا تم پسند کرتے ہو کہ مکہ کے اس صحرا کو تمہارے لیے سونےمیں تبدیل کردوں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےتین مرتبہ آسمان کی طرف دیکھا اورپھرفرمایا:پروردگارا، نہیں بلکہ میں ایک دن سیرہونےکو پسند کرتا ہوں تاکہ تیرا شکرادا کروں اورایک دن بھوکا رہنےکو پسند کرتا ہوں تاکہ تیری بارگاہ سے طلب کروں۔(5)

امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کےمنتظرکو بھی اپنے آپ کو پاکدامنی، کفایت شعاری، قناعت اوررضا پرقائم رہنا چاہیےتاکہ زیادہ طلبی، مال ودولت کی کثرت اسےگناہ اورذلت میں مبتلا نہ کردے۔ امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: «ثَمَرَةُ القِناعَةِ العِزُّ) قناعت اورکفایت شعاری کا نتیجہ عزت ہے۔ (6)

مآخذ:

1. سوره نحل، آیه 97

2. مجمع البیان، ج5، ص 384

3.میزان الحکمة، حدیث 17144

4.میزان الحکمة حدیث 17179

5.مکارم الاخلاق، ص24

6. غرر الحکم، حدیث 4646

جواد محدثی کی کتاب( زندگی مہدوی(اخلاق واوصاف منتظران) سے اقتباس

681347

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

بین الاقوامی قرآنی مقابلوں میں شرکت کرنے والے قراء و حافظان قرآن کا امام خمینی(رہ) کو خراج تحسین

بین الاقوامی: بین الاقوامی قرآنی مقابلوں میں شرکت کرنے والے افراد نے گذشتہ روز امام خمینی(رہ) کے مزار پر حاضری دی۔

منتخب خبریں