خبرگزاری شبستان

شنبه ۲۸ مهر ۱۳۹۷

السبت ١٠ صفر ١٤٤٠

Saturday, October 20, 2018

وقت :   Tuesday, January 09, 2018 خبر کوڈ : 70952
آیت اللہ رشاد:
متقی انسان،اپنےآپ کو دوسروں سے بہترنہیں سمجھتا ہے
خبررساں ایجنسی شبستان: تہران کے دینی مدارس کی کونسل کے سربراہ نےاس مطلب کہ متقی انسان، دوسروی پراپنی فوقیت کو پسند نہیں کرتا ہے،کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہےکہ فقط اہل تقویٰ ہی دوسروں پربرتری اورترجیح رکھتے ہیں۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق تہران کے دینی مدارس کی کونسل کے سربراہ آیت اللہ علی اکبررشاد نے 8 جنوری کو امام رضا(ع) نامی دینی مدرسہ میں اپنے درس اصول میں کہا ہے کہ انسان جب معصومین علیہم السلام کے کلام میں رجوع کرتا ہے تو دیکھتا ہےکہ معصومین علیہم السلام کا بیان، قرآنی آیات کےساتھ مساوی ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہےکہ جس طرح قرآن کریم نےتقویٰ کو برتری اورفضیلت کا معیارقراردیا ہےاسی طرح امیرالمومنین امام علی علیہ السلام نے بھی نہج البلاغہ کی حکمت 113 میں فرمایا ہے: تقویٰ سے بالاترکوئی کرامت موجود نہیں ہے۔

آیت اللہ رشاد نےکہا ہےکہ انسانی کرامت اورشرافت، مادی صفات اورخوبصورتیوں کےمالک ہونے کا نام نہیں ہےبلکہ برتری اورفضیلت کا معیارتقویٰ ہے۔ فقط متقی افراد ہی دوسروں پرفضیلت اورترجیح رکھتے ہیں۔ یہ جو کہا جاتا ہےکہ اہل تقویٰ برتری رکھتےہیں یہ ایک مفید اوربہترین برتری ہے، بعض اوقات بعض فضیلتیں اوربرتری برتری کی تلاش کاباعث بنتی ہیں لیکن جب ہم تقویٰ کو برتری اورفضیلت کا معیارقراردیں تو پھردوسروں پربرتری چاہنےکا باعث نہیں بنتا ہے کیونکہ اگرکوئی متقی ہونے کی وجہ سےاپنی برتری اورفضیلت کا دعویٰ کرے تو پھریہی سوال کیا جاتا ہے کہ کیا خود پسندی اورتکبرمیں مبتلا ہونے والا شخص بافضیلت اوربہترین انسان ہے یا نہیں؟

انہوں نےمزید کہا ہےکہ متقی انسان اگرچہ جانتا ہےکہ برتری کا معیارتقویٰ ہےلیکن وہ دوسروں پربرتری کا اظہارکرنے سےڈرتا ہے۔ اگرکوئی تقویٰ کے ذریعے دوسروں پرفوقیت کا دعویٰ کرے تو اس کےتقویٰ میں خدشہ ہوسکتا ہے کیونکہ برتری طلبی ، متقی ہونےکے ساتھ منافات رکھتی ہے۔

681268

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز

سماجی: اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر بندرعباس میں 8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز ہوچکا ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان دانشور، علماء، مفکرین اور عمائدین شرکت کررہے ہیں۔

منتخب خبریں