خبرگزاری شبستان

سه شنبه ۴ اردیبهشت ۱۳۹۷

الثلاثاء ٩ شعبان ١٤٣٩

Tuesday, April 24, 2018

وقت :   Wednesday, January 10, 2018 خبر کوڈ : 70972

رجعت کا کیا مطلب ہے؟
خبررساں ایجنسی شبستان: علامہ طباطبائی فرماتے ہیں: رجعت کو ثابت کرنے والی روایات میں اگرچہ اختلاف پایا جاتا ہےتاہم وہ سب کی سب اس معنی پرمتفق ہیں کہ اس نظام کائنات کی حرکت ایک ایسی سمت ہےکہ تمام الہی آیات اپنےظہورکی انتہاء تک پہنچ جائیں ۔ ۔ ۔

خبررساں ایجنسی شبستا نے مسجد مقدس جمکران کے ٹیلیگرام کے حوالے سے نقل کیا ہےکہ لغت میں رجعت کا معنی پلٹنا ہے اورکلام وحدیث کی اصطلاح میں موت کے بعد اورقیامت سے پہلے کچھ مخلص مومنین اورشرپسند کافروں کے ایک گروہ کےاس دنیا میں دوبارہ واپس پلٹنے کو رجعت کا نام دیا گیا ہے۔(بحارالانوار،ج35، ص138)

درحقیقت، رجعت، قیامت کا ایک چھوٹا سا جلوہ ہے۔ البتہ رجعت اورقیامت کے درمیان فرق یہ ہے کہ رجعت میں لوگوں کا ایک گروہ زندہ ہوگا جبکہ قیامت کے دن تمام لوگ محشورہوں گے۔

علامہ طباطبائی فرماتےہیں: علامہ طباطبائی فرماتے ہیں: رجعت کو ثابت کرنے والی روایات میں اگرچہ اختلاف پایا جاتا ہے تاہم وہ  سب کی سب اس معنی پرمتفق ہیں کہ اس نظام کائنات کی حرکت ایک ایسی سمت ہے کہ تمام الہی آیات اپنےظہورکی انتہاء تک پہنچ جائیں اورپھراللہ تعالیٰ کی  معصیت نہ ہو بلکہ نفسانی خواہشات اورشیطانی وسوسوں کی مداخلت کےبغیرخلوص کےساتھ عبادت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے دوستوں اوردشمنوں کا ایک گروہ کہ جو مرچکا ہے، دوبارہ دنیا میں پلٹایا جائےگا اورحق اورباطل مکمل طورپرایک دوسرے سےجدا ہوجائیں گے اورپہچانےجائیں گے۔

 اس مطلب سے ثابت ہوتا ہے کہ رجعت، قیامت کے دن کا ایک مرتبہ ہےاگرچہ حقائق کے ظہورکی نظرسےاس کا مرحلہ بہت نچلا ہے کیونکہ رجعت کےایام میں فتنہ وفساد کا امکان پایا جاتا ہے لیکن قیامت کے دن شرارت اورفساد کا کوئی نام ونشان نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہورکا دوربھی شائد قیامت کا ایک مرتبہ ہو کیونکہ اس دن حق واضح طورپرظاہرہوگا  اگرچہ ظہورکا روز بھی رجعت کا نچلا درجہ ہے۔ ائمہ معصومین علیہم السلام سے بھی نقل ہوا ہے کہ( اللہ کےایام تین ہیں: ظہور کا دن، رجعت کا دن اورقیامت کا دن۔( بحارالانوار،ج7،ص61 اورج53،ص63)۔

ان تین ایام کی حقیقت کا ایک ہونا اوران کےدرجات اورمراتب میں اختلاف باعث بنا ہےکہ ائمہ معصومین علیہم السلام نے بعض آیات کی بعض اوقات قیامت، بعض اوقات رجعت اوربعض اوقات حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کےساتھ تفسیر فرمائی ہے.(تفسیر المیزان، علامه طباطبایی(ره)، ترجمه: آیت‌الله مصباح یزدی، ج 2، ص 146 و نک: ظهور نور، علی سعادت‌ پرور، ص205 - 206.)

سورہ مبارکہ بقرہ کی آیت نمبر210 کے ذیل میں متعدد روایات میں آیا ہےکہ جن میں سے بعض روایات میں قیامت کے دن سےتفسیرکی گئی ہےاوربعض روایات میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور(تفسیرعیاشی میں امام باقرعلیہ السلام سے نقل ہوا ہے) اوربعض دیگرروایات میں رجعت کے ساتھ تفسیرکی گئی ہے۔

681496

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

بین الاقوامی قرآنی مقابلوں میں شرکت کرنے والے قراء و حافظان قرآن کا امام خمینی(رہ) کو خراج تحسین

بین الاقوامی: بین الاقوامی قرآنی مقابلوں میں شرکت کرنے والے افراد نے گذشتہ روز امام خمینی(رہ) کے مزار پر حاضری دی۔

منتخب خبریں