خبرگزاری شبستان

یکشنبه ۱ بهمن ۱۳۹۶

الأحد ٥ جمادى الأولى ١٤٣٩

Sunday, January 21, 2018

وقت :   Sunday, January 14, 2018 خبر کوڈ : 71013

عصرغیبت میں بشرکےدوعظیم درد ورنج
خبررساں ایجنسی شبستان: جب انسان اس دنیا میں آیا تو اس مشکل فقط اللہ سےدوری نہیں تھی کہ جو اولیائےالہی کی موجودگی سے برطرف ہوجاتی بلکہ اس دوران ایک اورمشکل پیدا ہوگئی اوروہ ظلم اورگمراہی تھی کہ جو ظالم اورمتکبرانسانوں کے توسط سے دیگرانسان پرکیے گئے تھے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق حجۃ الاسلام والمسلمین علی رضا پناہیان نےاپنی کتاب(انتظارعامیانہ، عالمانہ اورعارفانہ) میں لکھا ہے:

یہ انسان کہ جو اللہ کےلیےخلق ہوا ہےاس کے ساتھ ہی اسےسکون ملتا ہے۔ یہ دنیا بہرحال دنیا ہے اورحق کے وصال کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں اوربہت سے پردے موجود ہیں۔ لیکن انسان کو اپنی پوری زندگی اس فراق اورجدائی کو برداشت کرنا چاہیے اوراس دنیا اوراس کی پابندیوں سےنجات کے لیےانتظارکرنا چاہیے۔ پروردگارعالم نے اس دوران اپنی ملاقات کےعاشقوں کے دلوں کی تسکین کے لیے ایک ایسا راستہ مقررفرمایا ہےکہ اللہ کے دوستوں کی پوری زندگی اس سے وابستہ ہے۔ دلوں کو تسکین دینے والوں نے دنیا کی سختیوں کو برداشت کیا ہے اور وہ ولی خدا اورحجت خدا کی ملاقات ہے۔

اب اگر ہم خدا کی جدائی سےملی ہوئی دنیا میں اپنےامام کو اپنے سروں پرنہ دیکھیں اوراپنے آپ کو اس کےحضورمیں نہ دیکھیں تو وجہ اللہ ہمارے دلوں کو تسکین عطا نہ کرے تو کیا ہم مضطراور پریشان نہیں ہوں گےاورہرلمحہ اس کی ملاقات کا انتظارنہیں کریں گے؟

ہم دنیا سےنجات اوراللہ کی ملاقات کی طرف پلٹنے کےمنتظرہیں اورطے یہ پایا تھا کہ اللہ کی ملاقات کے لیےانتظارکے اس زمانے میں وجہ اللہ کےحضور کےتوسط سےان سختیوں کو برداشت کریں گے لیکن ہم ایسے دورمیں اس دنیا میں آئے ہیں کہ ولی اللہ پردہ غیبت میں ہیں۔

اب ہمیں یہ حق حاصل ہےکہ ہم اس جدائی پراعتراض اوراس کے وصال کے منتظررہیں اورہمارے اندرجدائی اورانتظارکا درد زیادہ ہو اوراللہ کی بارگاہ میں شکوہ وشکایت کی آوازبلند ہو: (اللَّهُمَّ إِنَّا نَشْکُو إِلَیْکَ فَقْدَ نَبِیِّنَا صَلَوَاتُکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَ غَیْبَةَ وَلِیِّنَا) اس کےعلاوہ ہمیں یہ بھی حق حاصل ہےکہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کریں: «اَللّـهُمَّ اَرِنيِ الطَّلْعَةَ الرَّشيدَةَ وَ الْغُرَّةَ الْحَميدَةَ وَ اكْحُلْ ناظِري بِنَظْرَة منِّي اِلَيْهِ)

عبادت اورولایت کا ارتباط اتنا گہرا ہےکہ ایک طرف تو ولایت کےبغیرنماز قبول نہیں ہے اوردوسری طرف ہرمقبول نماز بھی ولایت کے سامنےسرتسلیم خم ہونےکی تاکید کرتی ہے۔ ایک طرف اللہ کی محبت، ولی اللہ کی محبت میں سرایت کرجاتی ہےاوردوسری جانب ائمہ معصومین علیہم السلام کی ولایت، انسان کو عبودیت کےعروج پرپہنچا دیتی ہے۔ جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: (وَلايَتُنَا وَلايَةُ اللَّهِ الَّتِي لَمْ يُبْعَثْ نَبِيٌّ قَطُّ إِلَّا بِهَا) ہماری ولایت وہی اللہ کی ولایت ہےکہ اللہ تعالیٰ نے اس کےبغیرکسی پیغمبرکو مبعوث نہیں فرمایا ہے۔

لیکن جب انسان اس دنیا میں آیا تو اس مشکل فقط اللہ سے دوری نہیں تھی کہ جو اولیائےالہی کی موجود سےبرطرف ہوجاتی بلکہ اس دوران ایک اورمشکل پیدا ہوگئی اوروہ ظلم اورگمراہی تھی کہ جو ظالم اورمتکبرانسانوں کے توسط سے دیگرانسان پرکیے گئے تھے۔

بنابریں ولی اللہ کی غیبت کےدورمیں ہمیں دو مشکلات کا سامنا ہے: پہلی مشکل یہ ہےکہ وجہ اللہ کی ملاقات تک نہ پہنچنےکی وجہ سےاللہ کی ملاقات کےلیے ہماری پریشانی میں اضافہ ہوگیا ہوا ہے اور اس دوری کی وجہ سے ہم خدا سے بھی دورہوگئے ہوئے ہیں۔ دوسری مشکل یہ ہےکہ ہدایت اور ولایت کے اس چراغ کی غیبت کی وجہ سے بہت زیادہ ظلم وستم اورگمراہیوں کے درد نے ہماری جدائی کے درد میں مزید اضافہ کردیا ہوا ہے۔

678247

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

حجت الاسلام حسینی:

مومن کی توہین غضب الہی کا پیش خیمہ ہے

سماجی: حوزہ علمیہ کے استاد نے کہا شکرانہ انداز میں کسی بھی مومن کی توہین کرنا غضب الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

منتخب خبریں